مسلم اور دیگر سماجی تنظیموں کا جنتر منتر پر احتجاج

نئی دہلی:30 ستمبر : ملک بھر میں مساجد، درگاہوں اور مدارس کو نشانہ بنانے کے خلاف منگل کے روز جنتر منتر پر مانیٹرنگ کمیٹی آف انڈین مسلمس کی جانب سے منعقدہ احتجاج میں بڑی تعداد میں مسلم رہنما، دانشور اور دیگر افراد پہنچے۔ پولیس کی جانب سے اجازت نہ دیے جانے کے باوجود مظاہرین نے حکومتوں کے خلاف نعرے لگائے اور مساجد وغیرہ کے خلاف کی جا رہی توڑ پھوڑ کی کارروائیوں پر فوری روک لگانے کا مطالبہ کیا۔ اس احتجاج کی پیشگی تجویز اور اس میں متعدد رہنماؤں کی شرکت کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔کمیٹی کے کنوینر اور سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب نے بتایا کہ انہوں نے پولیس سے اس دھرنے اور احتجاج کے لیے اجازت مانگی تھی، لیکن گزشتہ رات دیر گئے پولیس نے دھرنے اور احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ اس کے باوجود آج جنتر منتر پر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے اور اپنا احتجاج درج کرایا۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی سے وابستہ افراد نے یہاں پہنچ کر یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے دباؤ میں پولیس اب جنتر منتر پر احتجاج کرنے کی بھی اجازت نہیں دے رہی ہے۔ یہ اظہارِ رائے کی آزادی کی کھلی خلاف ورزی ہے، جو ہمیں آئین نے دی ہے۔رکن پارلیمنٹ محب اللہ ندوی نے کہا کہ ہماری مساجد، درگاہوں اور مدارس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہیں غیر قانونی قرار دے کر منہدم کیا جا رہا ہے اور اب تک سیکڑوں مساجد کو نشانہ بنا کر منہدم کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں سے بھی ہمیں انصاف نہیں مل رہا ہے۔ اسی کے خلاف آج یہاں دھرنا اور احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، لیکن پولیس نے اجازت نہیں دی۔اس موقع پر رکن پارلیمنٹ اقرا حسن نے کہا کہ ایک سوچی سمجھی سازش اور حکمت عملی کے تحت ہماری مساجد کو نشانہ بنا کر انہیں منہدم کیا جا رہا ہے۔ بہت سی مساجد کے کاغذات ہمارے پاس موجود ہیں، لیکن وہاں اب مسجد نہیں ہے۔ تمام معاملات عدالتوں میں لے جائے جا رہے ہیں، لیکن عدالتوں میں اتنی جلدی فیصلے نہیں ہوتے۔ انہوں نے آج کے دھرنے اور احتجاج کی پولیس کی جانب سے اجازت نہ دیے جانے کی بھی مخالفت کی۔جماعتِ اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے بھی کہا کہ ایک کے بعد ایک ہماری مساجد کو کسی نہ کسی بہانے سے رات کے اندھیرے میں بلڈوزروں کے ذریعے شہید کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اسے حکومت کی بزدلانہ کارروائی قرار دیا۔ اتر پردیش میں سہارنپور کلکٹریٹ کی مسجد کو بھی رات کے اندھیرے میں شہید کردیا گیا، جبکہ اس مسجد کے تمام کاغذات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہاں تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے مسجد منہدم کیے جانے کی مخالفت کی اور متحد ہو کر اس کے خلاف لڑائی لڑنے کا اعلان کیا ہے۔اس موقع پر سابق رکن پارلیمنٹ کنور دانش علی، مولانا عطا الرحمٰن قاسمی، جماعتِ اسلامی ہند کے نائب صدر ملک معتصم خان، سکھ رہنما سردار دیا سنگھ، سماجی کارکن ہدی زری والا، فیروز مظفر اور پروگرام کے منتظم انظرالباری وغیرہ نے شرکت کی۔ پولیس نے وہاں موجود تمام رہنماؤں اور دانشوروں کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا اور سبھی کو بسوں میں بھر کر لے جایا گیا۔ مظاہرین مساجد، درگاہوں اور مدارس کو منہدم کیے جانے کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔



