معجزاتِ حضرت رسول اکرمﷺ

خارق عادت اشیاء
چنانچہ خوارق عادت چیزیں کل سات (۷) ہیں
(۱):اول ’’ارھاصات‘‘ہیں۔ یہ ایسے خارق عادت افعال ہوتے ہیں جو کسی نبی کی نبوت سے پہلے بطور تمہید نبی کی آمد کے اعلان کے لئے پیش آتے ہیں جیسے آنحضرت ﷺ کو نبوت سے پہلے پتھروں کاسلام کرنا، بادل کا سایہ کرنا، ولادت نبی کے وقت انقلابی واقعات کا پیش آنایہ ’’ارھاصات‘‘تھے۔
(۲):دوم’’معجزات‘‘ ہیں یہ ایسے خارق عادت اُمور ہیں جو کسی نبی کی دعوت نبوت کے اثبات وتصدیق کے لئے اور مخالفین کوعاجز کرنے کیلئے مدعی نبوت کے ہاتھ پر ظاہر ہوتے ہیں جیسے آنحضرت ﷺ کے ہاتھ کے اشارے سے چاند دوٹکڑے ہوگیا اور یہاں زیر بحث باب کی ۷۴ ؍احادیث میں معجزات خوب تفصیل آرہی ہے۔
(۳): سوم’’کرامات‘‘ہیں : یہ ایسے خارق عادت اُمور ہیں جو صاحب ایمان متبع سنت شخص کے ہاتھ پر اس کے اعزاز واکرام کے طورپر ظاہر ہوتے ہیں ، پیغمبر کو اپنے معجزہ کا علم بھی ہوتاہے اور ظہور کاارادہ بھی ہوتاہے مگرولی کے لئےیہ ضروری نہیں ہے۔
(۴): چہارم’’معونات‘‘ہیں: یہ ایسے خارق عادت اُمور ہیں جو کسی مسلمان کی اعانت ومدد کے لئے ظاہر ہوتے ہیں جیسے حالت مخمصہ میں غیب سے کھاناآنا، پانی آنا یا زمین کا فاصلہ کم ہوجانا یا پانی پر چلنا وغیرہ وغیرہ یہ سب اعانت ومدد کی صورتیں ہیں۔
(۵): پنجم’’استدراجات‘‘ہیں:یہ ایسے خارق عادت اُمور ہیں جو کسی کافر یافاسق وفاجر شخص کے ہاتھ پر اس کے مقصود کے مطابق ظاہر ہوجائیں جیسے دجال کے احوال میں عجیب استدراجات اور تصرفات کا بیان ہوچکا ہے یا جھوٹے مدعی نبوت اسود عنسی کے ہاتھ پر عجائبات ظاہر ہوئے تھے یہ سب استدراج کی قبیل سے تھے۔
(۶): ششم’’اہانات‘‘ہیں: یہ ایسے خارق عادت اُمور کانام ہے جو کسی کافر کے ہاتھ پر ظاہر ہوتے ہیں لیکن اس کے مطلوب ومقصود کے برعکس ظاہر ہوتے ہیں مثلاً مسیلمہ کذاب نے کسی کانے یک چشم کی آنکھ پر ہاتھ پھیرا تاکہ یہ آنکھ درست ہوجائے مگر اس شخص کی صحیح آنکھ اندھی ہوگئی۔ اسی طرھ مسیلمہ کذاب نے اپنے وضو کا بچا ہواپانی برکت کے لئے باغ کے درختوں میں پھینکا تو باغ کے سارے درخت سوکھ گئے۔ اسی طرح اس نے کلی کرکے کنوئیں میںپانی پھینکا تا کہ پانی زیادہ ہوجائے تو جوپانی کنوئیںمیں تھا وہ بھی خشک ہوگیا، اسی طرح اس نے ایک بچے کے سرپر ہاتھ پھیردیا تو اس کے حافظہ نے کام چھوڑدیا، یہ سب اہانت کی صورتیں ہیں کہ سب تدبیریں اُلٹی ہوگئیں۔
(۷)ہفتم ’’سحر‘‘اور جادوہے: اس کی ایک تعریف یہ ہے’’ کل مالطف ماخدہ ودق فھو سحر‘‘ اس کی دوسری تعریف یہ ہے ۔ اخراج الحق فی صورۃ الباطل۔۔۔جادو کی مزید تفصیل توضیحات جلد اول ۲۴۷ پر ملاحظہ کریں ۔ بعض علماء نے جادو کو خرق عادت شمار نہیں کیا کیونکہ اس میں ظاہری اسباب استعمال ہوتے ہیں۔ بہرحال یہ تمام خارق عادت اُمور ہیں یہاں پر ان میں سے معجزہ کی تعریف وتفصیل بیان کرنا مقصود ہے۔
معجزہ کی لغوی واصطلاحی تعریف
معجزہ کا لغوی معنی ’’عاجز بنانے والی چیز‘‘بتایاگیاہے اور معجزہ کی اصطلاحی تعریف اس طرح ہے ‘’’المعجزۃ امر خارق للعادۃ یعجز البشر ان یأتو ابمثلہ‘‘یعنی معجزہ اس امر خارق للعادہ کانام ہے جو انسان کو عاجز کردے کہ وہ اس کی مانند کوئی چیز پیش کرسکے ۔ خارق عادات کی اسی بحث کی ابتدا میں معجزہ کی جامع مانع تعریف کی جاچکی ہے وہاں ملاحظہ کریں۔ بہر حال معجزہ کی دوقسمیں ہیں ایک قسم وہ معجزہ ہے جو کسی نبی کی نبوت کوثابت کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتاہے اور قوم کی ہدایت کا ذریعہ بنتاہے ۔ نبی اکرم ﷺ کے بہت سارے معجزے اسی قسم کے آئے ہیں لیکن ان میں سب سے بڑا اور دائمی معجزہ قرآن عظیم ہے جس سے اربوں انسانوں کو ہدایت نصیب ہوئی ہے اور ہورہی ہے۔ دوسرا معجزہ فرمائشی ہوتاہے کہ قوم ایمان لانے کے لئے کوئی فرمائشی معجزہ مانگے اس میں نبی کا آزمانا مقصود ہوتاہے کہ آیا وہ یہ کام کرسکتا ہے یانہیں؟ اس معجزہ کے مانگنے میں لوگ فضول قسم کے فرمائشی مطالبے رکھتے تھے مثلاً اس چٹان سے ایک گابھن اونٹنی برآمد ہوپھر وہ بچہ دیدے اور ہم سب اس کو دیکھ لیں تب ہم ایمان لائیں گے یا یہ مطالبہ ہو کہ اس نبی کا بڑا باغ ہو اس میں نہریں ہوں وہ باغ ایسا ہو ، یا ویسا ہو یہ مطالبہ ہو کہ یہ نبی آسمان پر چڑھ جائے اوروہاں سے ایک خط ہمیں لکھ بھیجے تاکہ ہم اس کو پڑھیں اور ایمان لائیں ، اس قسم کا فرمائشی معجزہ اگر اللہ تعالیٰ کسی قوم کو دے دیتاہے اورقوم اس کا انکار کرتی ہے اور ایمان نہیں لاتی توپھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے پوری قوم پر عمومی عذاب نازل وہتا ہے جیسے قوم ثمود تباہ ہوگئی۔
کفار قریش نے بھی آنحضرت ﷺ سے باربار فرمائشی معجزے مانگے لیکن اللہ تعالیٰ نے نہیں دیئے اگر دیدیتے اور کفار ان کا انکار کرتے تو سب ہلاک ہوجاتے حالانکہ اُنہیں لوگوں مینس ےا کثر وبیشتر بعد میں مسلمان ہوگئے۔ بہرحال معجزات سے متعلق اس باب میں ۷۴؍ احادیث ہیں جن میں ہرقسم معجزات کابیان ہے۔ میں سب کے لئے الگ الگ عنوانات رکھوں گاتاکہ معجزات کے ظہور کا ٹھیک اندازہ ہوجائے۔(مشکوٰۃ شریف)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے،انشاءاللہ تعالیٰ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



