حضوراکرمﷺ کےاخلاق وعادات مبارکہ۱۰

حضور اکرم ﷺ کے عظیم اخلاق کا ظہور
حضرت علی کرم اللہ وجہہ راوی ہیں کہ فلاں نام کا ایک یہودی عالم تھااس کے کچھ دینار نبی کریمﷺ پر قرض تھے اس یہودی عالم نے آکر نبی کریم ﷺ سے ان دیناروں کا تقاضا کیا، آپ نے اس سےفرمایا کہ اے یہودی! تمہیں دینے کے لئے اس وقت میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے، یہودی نے کہامحمد! میں اس وقت تک تمہارے پاس سے نہیں ہٹوں گا جب تک تم میراقرض ادانہیں کردوگے۔ رسول کریم ﷺ نے جواب دیا تب تو میںتمہارے پاس بیٹھ جاتاہوں اور آپ اس کے پاس بیٹھ گئے اور اسی جگہ رسول کریم ﷺ نے ظہر کی، عصر کی، مغرب کی، عشاء کی اور پھرفجر کی نماز پڑھی، صحابہ اس یہودی کو ڈرادھمکارہے تھے۔ لیکن جب رسول کریم ﷺ نے یہ دیکھا کہ صحابہ اس یہودی کو ڈرادھمکارہے ہیں تو آپ نے ان کو منع فرمایا، صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ ! یہ ایک یہودی ہوکر آپ کو پابند بنائےہوئے ہے اور یہاں بیٹھے رہنے پر مجبور کررہاہے۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے منع کیا ہے کہ میں اس شخص پر ظلم کروں جس سے عہد کیاگیا ہو خواہ وہ کوئی بھی ہو۔ جب دن چڑھ نکلا تو وہ یہودی بول اٹھا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتاہوں کہ یقیناً آپ اللہ کے رسول ہیں۔ میں اپنے مال وزر کا آدھا حصہ اللہ کی راہ میں صدقہ کرتاہوں جان لیں کہ خدا کی قسم! میں نے اس وقت آپ کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا اس کاسبب اس کے علاوہ کچھ نہیں تھا کہ میں آپ میں ان اوصاف کوآزمانا چاہتا تھا جن کا ذکر تورات میں موجود ہے کہ ان کا اسم گرامی محمدہوگا، عبداللہ کے بیٹے ہوں گے، ان کی پیدائش مکہ میں ہوگی وہ مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کریں گے، ان کی مملکت کی سرحدیں ملک شام تک پھیلی ہوں گی، وہ نہ بدزبان ہوں گے، نہ سنگدل ، نہ بازاروں میں شور مچانے والے ہوں گے، نہ فحش کی وضع اختیار کرنے والے اورنہ بیہودہ بات بکنے والے ہوں گے، اس نے تورات میں مذکورہ یہ باتیں سنانے کےبعد ایک مرتبہ پھر کلمہ شہادت پڑھا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اوریہ کہ یقیناً آپ اللہ کے رسول ہیں۔ یہ میرامال حاضر ہے آپ اللہ کے حکم کی روشنی میں اس کے متعلق جومناسب سمجھیں فیصلہ فرمائیں، وہ یہودی بہت مالدار تھا۔ اس روایت کو بیہقی نے دلائل النبوۃ میں نقل کیاہے۔
توضیح: ’’فلانا‘‘ یہودی کے نام سے کنایہ ہے۔ ’’حبر‘‘اس کی جمع احبار ہے یہودیوں کے عالم کو کہتے ہٰں۔ ’’دنانیر‘‘تصغیراور تقلیل کے لئےیہ لفظ آیا ہے یعنی چند دینار تھے معمولی ساقرض تھا۔ ’’ماعندی‘‘ اس وقت آنحضرت ﷺکے پاس یہ رقم نہیں تھی شاید اس کے ادا کرنے کا وقت ابھی نہیں آیا تھا یہودی نے وقت سے پہلے مطالبہ کیا اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی صحابی کے پاس بھی کچھ نہیں تھا۔
’’اجلس معک‘‘ بظاہر ایسا معلوم ہوتاہے کہ اس یہودی نے آنحضرت ﷺ کو مسجد نبوی میں بٹھادیا اور خود بھی ساتھ بیٹھ گیا۔ ’’الغداۃ‘‘اس سے مرادفجر کی نماز ہے تو پورے پانچ نمازوں کے اوقات تک آنحضرت ﷺ کو روکے رکھا۔ ’’یتو عدونہ‘‘ دھمکی اور ڈانٹنے کو کہتے ہیں۔ ’’وغیرہ‘‘یہ تعمیم بعد تخصیص ہے کہ میں نہ کسی معاہد پر ظلم کرتا ہوں اورنہ اس کے علاوہ کسی پر ظلم کرتا ہوں میرے رب نے مجھے ظلم سے منع کیاہے۔
’’ترجل النھار‘‘ دن چڑھنے اور سورج بلند ہونے کو کہاگیا۔’’فظ‘‘ زبانی طورپر بداخلاق نہیں ہوں گے۔ ’’غلیظ‘‘ دل کے اعتبار سے سخت دل نہیں ہوں گے۔ ’’سخاب‘‘ بازاروں میں چیخنے والے نہیں ہوں گے۔’’ولامتزی‘‘ یعنی عملی طورپرفحش کے ارتکاب کرنے والے نہیں ہوں گے۔ ’’قوال الخنا‘‘ یعنی قول اور زبانی طورپر فحش اور قبیح گفتگو کرنے والے نہیں ہوں گے۔ اس حدیث میں آنحضرت ﷺ کے ان اخلاق کا ظہور ہواجن کا تصور نہیں کیا جاسکتا ہے کسی نے سچ کہا:
نفسی الفدای لمن اخلاقہ شھدت———-بانہ خیر مولود من البشر
لم یخلق الرحمان مثل محمد————-ابدًا وعلمی انہ لایخلق
فاق النبیین فی خلق وفی خلق————ولم یدانوہ فی علم ولاکرم
[مشکوٰۃ شریف]۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔۔۔۔۔۔



