حضوراکرمﷺ کےاخلاق وعادات مبارکہ-۴

آنحضرتﷺ کی سخاوت
اورحضرت انسؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے اتنی بکریاں مانگیں جو پہاڑوں کے درمیانی نالہ کو بھردیں چنانچہ آپ نے اس کو اتنی ہی بکریاں دے دیں، اس کے بعد وہ شخص اپنی قوم میں آیا اور کہا اے میری قوم کے لوگو! اسلام قبول کرلو! خدا کی قسم ! محمد اتنا ہی دیتے ہیں کہ فقروافلاس سے بھی نہیں ڈرتے۔ (مسلم)
حضرت جبیرابن مطعم ؓ اس وقت کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ جب وہ رسول کریم ﷺ کے ہمراہ غزوۂ حنین سے واپس آرہے تھے کہ کچھ دیہاتی آپ کو لپٹ گئے اور مانگنے لگے اور اس حدتک پیچھے پڑ گئے کہ آپ کو ایک کیکر کے درخت تک لے گئے۔ وہاں آپ کی چادر کیکر کے کانٹوں میں الجھ کررہ گئی، آپ رک گئے اور فرمایا لاؤ میری چادرتودے دو!اگر میرے پاس ان خاردار درختوں کے برابر بھی چوپائے ہوتے تو میں ان سب کو تمہارے درمیان تقسیم کردیتا اور تم جان لیتے کہ میںنہ بخیل ہوں نہ جھوٹا وعدہ کرنے والا اورنہ چھوٹے دل والاہوں۔ (بخاری)
توضیح:’’مقفلۃ‘‘غزوہ سے واپس ہونے اور گھر کی طرف لوٹنے کو قفلۃ اور قفول کہتے ہیں اسی سے مقفلہ بمونی قفلۃ ہے۔
’’حنین‘‘مکہ مکرمہ کے قریب ایک وادی کانام ہے یہاں فتح مکہ کے بعد ایک زبردست جنگ ہوئی تھی۔ ’’العضاہ‘‘جھاؤ کے مضبوط درخت کو عضاہ کہاگیاہے اس کو شجرۃ الطرفاء بھی کہتے ہیں جنگل کے کسی مضبوط درخت کانام ہے جس کو اردو میں جھاؤ کا درخت کہتے ہیں۔حضرت بنوری ؒ کے کلام سے معلوم ہوتاہے کہ یہ غُز کا درخت ہے شارحین اس کو کیکر کی ایک قسم بتاتے ہیں کوئی تعین نہ ہوسکا۔ ’’نعم‘‘حیوانات اورجانوروں کو کہتے ہیں۔
نبوی اخلاق کا اعلیٰ نمونہ
اورحضرت انسؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ صبح کی نماز سے فارغ ہوتے تواہل مدینہ کے خدام اپنے اپنے برتوں میں پانی لے کر پہنچ جاتے چنانچہ جو شخص بھی پانی کا برتن لے کر آتا آپ اس برتن میں اپنا ہاتھ ڈال دیتے، اکثر ایسا ہوتاتھا کہ لوگ سردی کے موسم میں صبح ہی صبح اپنے برتن لے کرآتے اور آپ اپنا دست مبارک ان برتنوں میں ڈال دیتے۔ (مسلم)
توضیح: ’’المآء‘‘ مدینہ منورہ میں پانی کی قلت تھی ، گھروںکے خادم جب پانی بھرتے تھے توپانی میں برکت کی غرض سے وہ اپنے برتنوں کولائن میں رکھتے تھے تاکہ آنحضرت ﷺ فجر کی نماز کے بعد ان برتنوں میں برکت کے لئے اپنا ہاتھ ڈال دیں، آنحضرت ﷺ نے ان کو غلام سمجھ کر کبھی نظرانداز نہیں کیا نہ طویل قطار کی وجہ سے بوجھ محسوس کیا اور نہ سخت سردی کی وجہ سے انکار کیا یہ اخلاق نبوی کا اعلیٰ شاہکار ہے۔
مجانین کے ساتھ بھی عظیم حسن اخلاق
اورحضرت انسؓ کہتے ہیں کہ مدینہ والوں کی لونڈیوں میں سے ایک لونڈی کایہ معاملہ تھا کہ جب اس کوکوئی پریشانی لاحق ہوتی تورسول کریم ﷺ کا ہاتھ پکڑتی اورجہاں اس کا جی چاہتا آپ کو لے جاتی۔ (بخاری)
توضیح: ’’تأخذ بید‘‘ملاعلی قاریؒ نے اس پوری حدیث کو فرضی کلام پر محمول کیاہے کہ فرض کرلواگرکوئی لونڈی بھی آنحضرت ﷺ کے ہاتھ کوپکڑ کر کہیں بھی لے جاتی تو حسن اخلاق کی وجہ سے آپ اس کے ساتھ چلے جاتے تھے، اس حدیث کی دوسری توجیہ یہ ہے کہ یہ حدیث اور آنے والی دوسری حدیث دونوں کا تعلق ایک ایسی عورت سے ہے جو عقل کے اعتبار سے معدوم العقل تھی وہ طرح طرح کی باتیں اورلمبی چوڑی داستانیں آنحضرت ﷺ کو سناتی اور آپ حسن اخلاق کے پیش نظر اس کی تمام باتوں کو کھڑے کھڑے سنتے، آنے والی حدیث میں ہے۔ ’’فی عقلھا شئی‘‘ اس طرح اس حدیث کو فرضی کلام پر محمل کرنے سے بہتر یہ ہے کہ یہ حقیقت پرمبنی ہواورقصہ وہی بے عقل عورت کا ہو۔جس سے آنحضرت ﷺ کے عظیم اخلاق کا پتہ چلتاہے۔ (مشکوٰۃ شریف)۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ)



