مضامین

معجزاتِ حضرت رسول اکرمﷺ-۱۷

کھجور میں معجزہ کا ظہور
اورجابر ابن عبداللہ ؓکہتے ہیں کہ جب میرے والد کی وفات ہوئی تو ان کے ذمہ بہت سا قرضہ تھا ، چنانچہ میں نے ان کے قرض خواہوں کوپیش کش کی کہ ہمارے پاس جتنی کھجوریں ہیں وہ سب اس قرض کے بدلے میں جو میرے والد پرتھا لے لیں، لیکن انہوں نے میری بات ماننے سے انکار کردیا، آخر کار میں نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اورعرض کیایارسول اللہ !آپ کو معلوم ہے میرے والداحد کی جنگ میں شہید ہوگئے ہیں اورانہوںنے بہت سا قرض چھوڑاہے میں چاہتا ہوں کہ قرض خواہ آپ کو میرے پاس دیکھیں! آپ نے مجھ سے فرمایا کہ جاؤ اور ہرقسم کی کھجور کی الگ الگ ڈھیر بنالو، چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا اور اس کے بعد آنحضرتﷺ کو بلالایا، قرض خواہوں نے آنحضرتﷺ کو تشریف لاتے دیکھا تواس وقت انہوں نے فوراً ایسا رویہ اختیار کرلیا جیسے وہ مجھ پر حاوی ہوگئے ہوں۔ آنحضرتﷺ نے جب ان قرض خواہوں کا یہ رویہ دیکھاتوآپ نے کھجوروں کی سب سے بڑی ڈھیری کے گرد تین بار چکرلگایا اور پھر ڈھیری پر بیٹھ کر فرمایا کہ اپنے قرض خواہوں کوبلاؤ، پھر آپ نے مسلسل اس ڈھیری میں سے ناپ ناپ کر قرض خواہوں کو دینا شروع کیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرے والد کا تمام قرضہ ادا کردیا، اگرچہ میری خوشی کے لیے یہی کیا کم تھا کہ اللہ تعالیٰ میری ان کھجوروں سے میرے والد کا تمام قرضہ ادا کردیتا خواہ اپنی بہنوں کے پاس لے جانے کے لئے ایک کھجور بھی باقی نہ بچتی لیکن اللہ تعالیٰ نے تو ساری ڈھیریوں کو محفوظ رکھا اور جس ڈھیری پر نبی کریم ﷺ بیٹھے ہوئے تھے میں نے اس کی طرف نظر اٹھائی تو ایسا لگا کہ اس میں سے ایک کھجور بھی کم نہیںہوئی اور جب اس ڈھیری ہی میں سے کچھ کم نہ ہوا جس میں سے ان قرض خواہوں کو ان کے مطالبہ کے بقدر دیاگیا تھا تو باقی ڈھیریاں توبدرجہ اولیٰ محفوظ سالم رہیں۔ (بخاری)
توضیح: ’’علی غرمائہ‘‘یعنی اباجان کے قرض خواہوں پر میں نے اپنا باغ پیش کیا مگر انہوں نے قلیل سمجھ کر انکار کیا، یہ قرض خواہ یہودی تھے۔ (مرقات) ’’یراک الغرماء‘‘ یعنی آپ کو جب قرض خواہ دیکھ لیں گے تو کچھ رعایت کریں گے۔ ’’فبیدر‘‘یہ امر کا صیغہ ہے ، ڈھیر بنانے کے معنی میں ہے البیدرکھلیان کو کہتے ہیں یعنی کھلیان میں کھجور کی الگ الگ قسموں کو الگ الگ کناروں میں ڈھیر بناکر رکھ دو۔ ’’اغروابی‘‘ یہ اغراء سے ہے، کسی کے خلاف کتے کے بھڑکانے کو اغراء کہتے ہیں۔ یعنی حضوراکرمﷺ کو دیکھ کر وہ لوگ مجھ پر گرم ہوگئے اور کلام میں سختی پیدا کرلی کہ تم نے سفارش کی یہ صورت کیوں بنائی ہے؟ قرض خواہ یہود تھے یا اس لئےگرم ہوگئے کہ اتنے زیادہ قرض خواہوں کے لئے یہ کیا تھوڑا سا مال رکھا ہے ، پشتو میں اس کا ترجمہ یہ ہے: لکہ دہ سپوپہ شان ماپسے شباکڑے شُو۔
’’اعظمھا بیدرًا‘‘آنحضر تﷺنے جب دیکھا کہ یہود نا بہبود بدتمیزی کررہے ہیں تو آپ کھجور کے بڑے ڈھیر کے ار گرد تین بار گھومے اورپھر اس کے پاس بیٹھ گئے۔ ’’اصحابک‘‘ یعنی اپنے قرض خواہ یہودیوں کو بلالو کہ اپنا قرض لے لیں۔ ’تمرۃ واحدۃ‘‘ یعنی ساراقرض دیدیا گیا مگر کھجور کے اس ڈھیر میں ایسا لگ رہاتھا کہ کھجور کاایک دانہ بھی کم نہیں ہوا ہے کیونکہ آنحضرتﷺ کی برکت سے اس میں معجزہ کاظہور ہوگیا۔
گھی کی کُپّی سے متعلق معجزہ کا ظہور
اورحضرت جابر ؓبیان کرتے ہیں کہ حضرت ام مالکؓ نبی کریمﷺ کی خدمت میں ایک کپی میں گھی کا ہدیہ بھیجا کرتی تھیں، جب ام مالک کے بیٹے آکر روٹی کے ساتھ کھانے کے لئے کوئی سالن مانگتے اور ان کے پاس کوئی سالن موجود نہیں ہوتاتھا تو ام مالک کا آسرا وہی کپی بنتی جس میںوہ نبی کریمﷺ کے لئے گھی بھیجا کرتی تھیں، اور ان کو اس میں سے گھی مل جاتاتھا، (کافی دنوں تک) یہی سلسلہ جاری رہا کہ اس کپی میں لگاہواگھی ان کے پورے گھر کے لئے سالن کی ضرورت پوری کردیاکرتاتھا ، پھر ام مالک نے اس کپی کو پوری طرح نچوڑ لیا اس کااثریہ ہوا کہ وہ اس کی برکت سے محروم ہوگئیںا ورگھروالوں کو روٹی کھانے کیلئے جس چیز کا سہارا تھا وہ ملنی بند ہوگئی، ام مالک نبی کریم ﷺکی خدمت میں پہنچیں آنحضرتﷺ نے پوچھا کیا تم نے اس گھی کی کپی کو بالکل نچوڑ لیاتھا؟ انہوں نے کہاہاں! آپ نےفرمایااگر تم کپی کو اس طرح نہ نچوڑتیں توہمیشہ تمہیں اس کپی سے سالن ملاکرتا۔ (مسلم)
توضیح: ’’عکۃ‘‘ چھوٹے مشکیزہ کو بھی عکہ کہتے ہیں اورگھی رکھنے کے لئے چمڑے کی بنی ہوئی کپی کوبھی عکہ کہتے ہیں۔ ملاعلی قاریؒلکھتے ہین :’’ھی وعاء من جلد مستد یرویختص بالسمن والعسل‘‘(مرقات)
’’فتعمد‘‘ قصدوار اردہ کے معنی میں ہے، ضمیرمؤنث ام مالک کی طرف لوٹتی ہے، حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ام مالک ایک کپی میں گھی رکھتی تھیں اور آنحضرتﷺ کے لئے بطور ہدیہ بھیج دیتی تھیں کبھی ایساہوتاتھا کہ ام مالک کے بیٹے آکر سالن مانگتے تھے تو ام مالک اسی کپی کی طرف رخ کرتی تھیں کیونکہ سالن کاکوئی دوسرا انتظام نہیں تھا البتہ اس کپی میں معجزہ کا ظہورہوگیا تھا تو اس میں ہروقت گھی مل جاتاتھا، یہ سلسلہ چلتا ہی رہا یہاں تک کہ ام مالک نے ایک دفعہ کپی سے پوراگھی صاف کرلیا توبرکت اور معجزہ کایہ سلسلہ رک گیا، علماء نے لکھاہے کہ معجزہ ایک غیبی انتظام ہے اس کو پوشیدہ ہی رکھنا چاہیے، کھانے پینے کی اشیاء کی جڑ کوظاہر کرنے سے معجزہ موقوف ہوجاتاہے، کھانے پینے کی اشیاء میں برکت اور اضافہ تو ہوجاتا ہے لیکن اصل مادہ کو برقراررکھنا ضروری ہے۔ ’’عصرتیھا‘‘کیا تم نے اس کپی کو بالکل نچوڑدیا؟ اس صیغہ میں ’ی‘ کا حرف اشباع کے لئے ہے اور ترکتیھا میں بھی ’’ی‘‘ اشباع کیلئے ہے اُس کا مفہوم ترجمہ کرنے سے واضح ہوجاتاہے اور جس کاتعلق کلام کے لہجےسے ہے۔
(مشکوٰۃ شریف۔۔۔جلد نمبر۸)۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!