معجزاتِ حضرت رسول اکرمﷺ-۷

حضوراکرمﷺ کی انگلیوں سے پانی نکلنے کامعجزہ
اورحضرت جابرؓکہتے ہیں کہ مقام حدیبیہ میںلوگوںکوسخت پیاس کاسامنا کرناپڑا، اس وقت آنحضرتﷺ کے پاس ایک لوٹا تھا جس سے آپ نے وضوفرمایاتھا ، لوگوں نے آنحضرت ﷺکی خدمت میں حاضرہوکر عرض کیا کہ ہمارے لشکر میں پینے اور وضو کرنے کیلئے بالکل پانی نہیں ہے، بس وہی تھوڑا ساپانی ہے جوآپ کے لوٹے میں بچ گیاہے کہ اس سے سب لوگوں کاکام نہیں چل سکتا، آپ نے دست مبارک اس لوٹےمیں ڈال دیا اور آپ کی انگلیوں کےدرمیان سے اس طرح پانی ابلنے لگا جیسے چشمے جاری ہوگئےہوں۔ حضرت جابرؓکابیان ہے کہ ہم سب لوگوں نے خوب پانی پیا اور وضو کیا۔ حضرت جابرؓسے پوچھاگیا کہ اس موقع پر تم سب کتنے آدمی تھے؟ توانہوں نے کہاکہ اگر ہم ایک لاکھ ہوتے تب بھی وہ پانی کافی ہوتا ویسے اس وقت ہماری تعداد پندرہ سوتھی۔ (بخاری ومسلم)
توضیح: ’’رکوۃ‘‘ پانی کے برتن کو رکوہ کہاگیاہےخواہ لوٹا ہویامشکیزہ ہو، حضور اکرم ﷺ کی انگلیوں سے چشموں کی طرح پانی جاری ہوا اس سے آپﷺ کے معجزہ کاظہور ہوا یہ حدیبیہ کا واقعہ ہے۔ ’’خمس عشرۃ مساۃ‘‘اس روایت میں پندرہ سو کا ذکر ہے اور ساتھ والی روایت میں چودہ سوکاذکرہے، احناف پندرہ سو کو ترجیح دیتے ہیں اور شوافع چودہ سو کو ترجیح دیتےہیں کیونکہ اس عدد پر غزوۂ خیبر کے مال غنیمت کی تقسیم کامسئلہ متفرع ہے جو کتاب الجہاد میں تفصیل سے لکھاگیاہے جس میں احناف وشوافع کااختلاف ہے۔ علامہ سیوطی ؒ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ چودہ سو سے زیادہ تھے بعض نے کسرکوذکر نہیں کیااور بعض نے کسر کوپورا شمار کیا ، احناف کے نزدیک یہ مجاہدین پندرہ سو تھے جو خیبر کی جنگ میں شریک ہوئے۔
لعاب دہن سے خشک کنواں لبریز ہونے کا معجزہ
اورحضرت براء بن عازبؓکہتے ہیں کہ حدیبیہ میں رسول کریم ﷺ کے ساتھ ہم چودہ سو افراد تھے، حدیبیہ میں ایک کنواں تھا جس کاپانی ہم سب نے کھینچ کر استعمال کرلیاتھا اور اس میں ایک قطرہ بھی پانی نہیں رہاتھا، جب نبی کریم ﷺ کو یہ معلوم ہوتو آپ کنویں پر تشریف لائے اور اس کے کنارے بیٹھ گئے ، آپ نے وضو کےپانی کابرتن منگاکر وضو کیا اور وضو کے بعد منہ میں پانی لیا اور دعامانگی، اسکے بعد آپ نے وہ آب دہن کنوین میں ڈال دیااور فرمایا کہ ساعت بھر کنویں کو چھوڑ دو، اورپھر تمام لشکر والے خود بھی اور ان کے مویشی بھی خوب سیراب ہوئے اورجب تک وہاںسے کوچ کیا اسی کنویں سے پانی لیتے رہے ۔(بخاری)
شفیر منڈیر اورکنوئیں کے کنارے کو کہتے ہیں۔(مشکوٰۃ شریف)۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ



