چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ناندیڑ میں انڈیاا لائنس کا احتجاج

ناندیڑ۔ ۷؍ اکتوبر ( نامہ نگار ):بھارت کے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے لیے مطالبہ کو لےکر آج ناندیڑ شہر میں انڈیا الائنس کی جانب سے ایک احتجاجی مورچہ کا انعقاد کیا گیا تھا۔ ناندیڑ کے رکن پارلیمنٹ رویندر چوہان کی قیادت میں نکالے گئے اس احتجاجی مورچہ کا آغاز ریلوے اسٹیشن کےر وبرو ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے مجسمہ سے ہوا۔ اس احتجاج میں کانگریس ، شرد پوار کی این سی پی ، ادھو ٹھاکرے کی شیو سینا ، کمیونسٹ پارٹی ، عام آدمی پارٹی، مسلم لیگ پارٹی کے قائدین اور ورکرس بڑی تعداد میں شامل تھے۔ بھارت کے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار یہ بی جے پی کو فائدہ پہچانے کے لیے کام کر رہے ہیں ۔ ملک میں ایس آئی آر کے ذریعہ سے ابھی تک ۱۳؍ کروڑ ووٹرس کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کئے گئے۔ نئے ناموں کی شمولیت کے فارم نمبر ۶؍ میں بھی انہوں نے من مانی طریقہ سے تبدیلی کی ۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے فیصلوں پر ملک بھر میں احتجاج کیا جارہا ہے اور ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ ناندیڑ کے احتجاج میں بھی گیانیش کمار ہٹائو جمہوریت بچائو کے نعرے بلند کئے گئے۔ ووٹ چور گدی چھوڑ جیسے نعرے لگاتے ہوئے انڈیا الائنس کے قائدین نے کہا کہ ملک میں بر سر اقتدار بی جے پی حکومت یہ ووٹ چوری کے ذریعہ سے قائم ہوئی ہے اس حکومت کو اب اقتدار سے بے دخل کرنے کا وقت آچکا ہے۔ ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر مجسمہ کے پاس سے شروع ہوئے احتجاجی مورچہ میں سینکڑوں کی تعداد میں انڈیا الائنس کے ورکرس موجود تھے۔ یہ مورچہ چھترپتی شیواجی مہاراج مجسمہ ہوتا ہوا کلکٹر آفس پہنچا اور پھر وہاں رکن پارلیمنٹ رویند رچوہان، سابق وزیر ڈاکٹر کنہاڑکر ، کانگریس کے سابق ضلع صدر ہنمنت پاٹل، سابق ایم ایل اے مادھو رائو جوڑ گائونکر، سابق ایم ایل اے روہی داس چوہان نے بھی خطاب کیا۔ ان قائدین نے کہا کہ الیکشن کمیشن بی جی پی کے لیے کھل کر کام کر رہا ہے جو جمہوریت کے لیے انتہائی خطرناک بات ہے۔ راہول گاندھی نے سب سے پہلے ووٹ چوری کے خلاف آواز بلند کی تھی اور آج ان کی باتیں سچ ثابت ہو رہی ہے۔ ملک میں ایس آئی آر کے نام پر ووٹرس کے نام حذف کئے جارہے ہیں۔ الیکشن کمیشن بی جے پی کی کٹ پتلی بن چکا ہے۔ ایک وفد نے آر ڈی سی کو میمورنڈم پیش کیا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ بھارت کے الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو فوری ان کے عہدہ سے ہٹایا جائے، ملک بھر میں ایس آئی آر کی کاروائی روک کر حذف کئے گئے نام دوبارہ شامل کئے جائیں۔ مستقبل میں ووٹنگ مشین کے بجائے بیلیٹ پیپر کے ذریعہ انتخابات لیے جائیں۔ اس احتجاجی مورچہ میں کانگریس کے ضلع صدر وٹھل پائوڑے، سابق صدر راجیش پائوڑے، شہر صدر عبدالغفار، سابق کارگذار صدر مہیش دیشمکھ، او بی سی شعبہ کے ریاستی صدر یشپال بھنگے، ایس سی شعبہ کے قومی کنوئینر سریش گائیکواڑ، این سی پی شرود پوار کے ضلع صدر بھگوان رائو آلے گائونکر، شیو سینا ادھو ٹھاکرے پارٹی کے ضلع صدر ببن بارسے ، بھوجنگ پاٹل، کمیونسٹ پارٹی کے پردیپ ناگا پورکر، گنگا دھر گائیکواڑ، وجئے گابھنے، سابق ڈپٹی میئر آنند چوہان، ایکناتھ مورے، سابق کارپوریٹر علیم خان، سید شیر علی، فاروق علی خان، منتجب الدین، عزیز قریشی، منا عباس حسین، ستیہ پال ساونت، باپو پاٹل، سریش ہٹکر، سندیپ دیشمکھ، سچن ٹالے، دیپک حضوریا، عبدالرحیم ، گگن یادو، ڈاکٹر عبدالباقی، جسیکا شندے، سندیپ بارڈکر، شیخ اظہر ، پرکا ش دیپکے سمیت انڈیا الائنس کے قائدین او رورکرس بڑی تعداد میں موجود تھے۔



