معجزاتِ حضرت رسول اکرمﷺ-۵

غزوۂ احزاب میں کھانے پر معجزہ کاظہور
اورحضرت جابرؓکہتے ہیں کہ ہم لوگ خندق کے دن خندق کھود رہے تھے کہ سخت پتھر نکل آیا ، صحابہ نبی کریمﷺ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ کھدائی کی جگہ ایک سخت پتھر نکل آیاہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں خود اترکر دیکھوں گا، چنانچہ آپ فوراً اٹھ کھڑے ہوئے، اس وقت آپ کے شکم مبارک پر پتھر بندھا ہواتھا، اور ہم سبھی لوگ تین دن سے اس حال میں تھے کہ ہم نے کچھ نہیں کھایاتھا کوئی چیز چکھی تک نہیں تھی ، آنحضرت ﷺ نے کدال ہاتھ میں لیااور (خندق میں) اترکر پتھر پرایسی ضرب لگائی کہ وہ سخت پتھر ریت کی مانند بکھر گیا۔ حضرت جابرؓکہتے ہیں کہ اس کے بعد میں وہاں سے اپنے گھر آیا اور اپنی بیوی(سہیلہ بنت معوذ انصاریہ سے) پوچھا کہ کیا تمہارےپاس(کھانے کی کوئی ) چیز ہے ؟ میں نے رسول کریم ﷺ پر بھوک کا شدید اثر دیکھا ہے (یہ سنکر) میری بیوی نے تھیلانکال کردیا جس میں تقریباً ’’ایک صاع‘‘جوتھے اور ہمارے ہاں بکری کا ایک چھوٹاسابچہ تھا، میںنے اس بچہ کو ذبح کیا اور میری بیوی نے آٹا پیسا اورپھر ہم نے گوشت کو ہانڈی میں ڈال کر (چولہے پر) چڑھادیا پھر میں نبی کریم ﷺ کے پاس پہنچا اور آپ سے چپکے سے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! ہم نے بکری کا ایک بچہ ذبح کیاہے اور میری بیوی نے تقریباً ایک صاع جو پیسے ہیں، اب آ پ چند لوگوں کے ساتھ تشریف لے چلئے۔یہ سن کر نبی کریمﷺ نے بآواز بلند اعلان کیا کہ خندق والو! چلو جابرؓنے تمہاری ضیافت کے لئے کھانا تیار کیاہے ، جلدی چلو! پھر آپ نے (مجھ سے ) فرمایا کہ تم جاکر کھانے کاانتظام کرولیکن اپنی ہانڈی چولہے سے نہ اتارنا اور نہ آٹا پکانا جب تک میں نہ آجاؤں پھر آپ تشریف لائے، میں نے گُندھا ہواآٹا آپ کے سامنے لاکر رکھ دیا آپ نے اس میں اپنا لعاب دہن ڈال کر برکت کی دعافرمائی، پھر ہانڈی کی طرف بڑھے اور اس میں لعاب دہن ڈال کر برکت کی دعافرمائی، اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ روٹی پکانے والی کو بلاؤ تاکہ وہ تمہارے ساتھ روٹی پکاکر دیتی رہی اور چمچے سے ہانڈی میں سالن نکالتے رہو لیکن ہانڈی کو چولہے پر رہنے دینا، حضرت جابرؓ کہتےہیں کہ اس وقت خندق والے ایک ہزار آدمی تھے اور میں خدا کی قسم کھاکر کہتاہوں کہ ان سب نے کھایا لیکن کھانا بچارہا جب وہ سب لوگ واپس ہوئے تو ہانڈی اسی طرح چولہے پر پک رہی تھی جیسی کہ پہلے تھی اور آٹا اسی طرح پکایا جارہاتھا جیسا کہ وہ شروع میں تھا۔ (بخاری ومسلم)
توضیح:’’کدیۃ شدیدۃ‘‘کاف پر ضمہ ہے اوردال ساکن ہے اور یاپرزبر ہے ، زمین کے اندرنمودار ہونے والےسخت پتھر اور مضبوط چٹان کوکہتے ہیں جس میں پھاؤڑا اثر نہیں کرتا۔ ’’مصعوب‘‘ ای مربوط بحجر یعنی پیٹ پرپتھر باندھاہوا تھا۔’’ذواقا‘‘ چکھنے کے لئے کچھ بھی نہیں تھا۔ ’’المعول‘‘ کدال کو کہتے ہیں۔ ’’کثیبا‘‘ یعنی ریت کا تودہ اور ڈھیر بن گیا۔ ’’اھیل‘‘نرم ریت کے ڈھیر سے نیچےکی طرف جوریت گرتی ہے اسی کو اھیل کہتے ہیں، قرآن کریم میں ہے ’’وکانت الجبال کثیبامھیلا‘‘خلاصہ یہ ہے کہ جس چٹان کو توڑنے سے صحابہ عاجز آگئے تھے آنحضرت ﷺ کے ایک پھاؤڑامارنے سے وہ ریزہ ریزہ ہوگیا اور معجزہ کا ظہور ہوگیا۔ ’’فانکفات‘‘ ای رجعت یعنی میں اپنی بیوی کی طرف گھر لوٹ آیا۔ ’’خمصا‘‘ای جوعا یعنی آنحضرت ﷺپر میں نے شدید بھوک کے اثرات دیکھے ہیں جیسے بدن کا لاغر ہونا، نڈھال ہونا، رنگ کا پیلا پڑجانا۔ ’’بھمۃ‘‘ بھیڑکے چھوٹےبچے کو کہاجاتاہے بکری کے بچے پر بھی بولاجاتاہے مگر یہاں بھیڑ کا بچہ مراد ہے۔ ’’داجن‘‘گھر کی پلی ہوئی بکری وغیرہ کو داجن کہتے ہیں یعنی پالتو گھر یلو۔ ’’البرمۃ‘‘پتھر کی بنی ہوئی ہانڈی کو کہتے ہیں پھر مطلق ہانڈی پر بولاگیاہے خواہ پتھر کی نہ بھی ہو۔
’’فساررتہ‘‘چپکے سے گفتگو کرنے کو کہتے ہیں پوشیدہ اس لئے رکھا کہ کھانا کم تھا۔ ’’سورا‘‘ ای طعامًا فارسی کھانوں میں ضیافت کے ایک کھانے کو سور کہتے ہین کہ حضورﷺ نے اس کانام لے کر اس قسم کھانے کو اعزاز بخشا۔
’’فصق فیہ‘‘ بطور تبرک لعاب دہن اس میں ڈال دیا۔ ’’وبارک‘‘ یعنی برکت کی دُعا فرمائی۔ ’’اقدحی‘‘ یعنی چمچ کے ساتھ سالن کو نکالتے جاؤ۔’’تغط‘‘ جوش مارنے کے معنی میں ہے یعنی ہانڈی اورکھانے میں معجزہ کا ظہور ہوگیا تو نہ آٹا ختم ہورہاتھا اور نہ سالن ختم ہونے کانام لے رہاتھا۔(مشکوٰۃ شریف)۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ



