حضوراکرمﷺ کےاخلاق وعادات مبارکہ-۶

آنحضرت ﷺ گھر کاکام بھی کرتے تھے
اورحضرت اسود کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہؓ سے پوچھا کہ نبی کریم ﷺگھر میں کام کیا کرتے تھے توانہوں نے فرمایا: آنحضرت ﷺ اپنے گھر میں خانگی کام کرتے رہتے تھے اورجب نماز کا وقت آتا تو نماز کے لیے چلے جاتے تھے اورگھروالوں سے کوئی مطلب نہیں رکھتے تھے۔ (بخاری)
توضیح:’’مھنۃ اھلہ‘‘مھنۃ خدمت اوگھریلو کام کرنے کو کہتے ہیں یعنی آنحضرت ﷺ گھریلو کام میں لگے رہتے تھے لیکن جب نماز کے لئے اذان ہوجاتی تو آپ فوراً مسجد میں چلےجاتے اورگھر میں نظرنہیں آتے تھے۔
اپنی ذات کے لئے حضورت ﷺ نے کسی سے انتقام نہیں لیا
اورحضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ کو جب بھی دوکاموںمیں سے کسی ایک کام کو چن لینے کا اختیار دیاجاتا تو آپ ہمیشہ اسی کام کو چنتے جو ہلکا اور آسان ہو تا بشرطیکہ وہ گناہ کا موجب نہ ہوتا اگر وہ کام گناہ کا موجب ہوتاتو آپ اس سے سب سے دور رہنے والے شخص ہوتے۔ اور آنحضرت ﷺ اپنی ذات کیلئے کبھی کسی بات کا انتقام نہیں لیتے تھے، ہاں اگر کوئی ایسی بات ہوتی جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے توپھر آپ اللہ تعالیٰ کے حکم کے پیش نظر اس کی سزا دیتے تھے۔
ہاں جہاد میں کفار کوماراہے
اورحضرت عائشہ ؓکہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے کبھی کسی چیز کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا، عورت اور خادم کوبھی نہیں علاوہ اس صورت کے جب آپ خدا کی راہ میں جہاد کرتے تھے اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آپ کوکوئی اذیت وتکلیف پہنچی ہو اور آپ نے اذیت وتکلیف پہنچانے والے سے انتقام لیاہو، ہاں اگرخدا کی حرام کی ہوئی کسی چیز کا ارتکاب کیاجاتاتو آپ اللہ کے لئے اس کی سزا دیتے تھے۔ (مسلم)
اپنے خادم کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کابرتاؤ
حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ جب مجھ کو رسول کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کیاگیاتو میری عمر آٹھ سال کی تھی اس وقت سے مسلسل دس سال تک میں آپ کی خدمت کے فرائض انجام دیتا رہا، اس پورے عرصہ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ میرے ہاتھ سے کوئی چیز ضائع ہوگئی ہو اور آپ نے مجھ کو ملامت کی ہو، اگر آنحضرت ﷺ کے اہل بیت میں سےکوئی شخص مجھ کو ملامت کرتا تو آپ فرماتے جانے دو، اس کو ملامت نہ کرو حقیقت یہ ہے کہ جو بات ہونے والی ہوتی ہے ضرورہوکر رہتی ہے۔ روایت کے یہ الفاظ مصابیح کے ہیں اور بیہقی نے بھی اس روایت کو کچھ الفاظ کے تغیر وتبدل کے ساتھ شعب الایمان میں نقل کیاہے۔
توضیح:’’ثمان سنین‘‘اس سے معلوم ہوتاہے کہ حضر ت ام سلیم ؓ انصاریہ نے جب حضرت انس ؓ کو بطور خادم حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں پیش کیاتھا اس وقت حضرت انس ؓ کی عمر آٹھ سال تھی۔ ’’عشرسنین‘‘یعنی دس سال تک میں نے آنحضرت ﷺکی خدمت کی ہے اور آنحضڑت ﷺ کی اتنی ہی عمر مدینہ منورہ میں گزری ہے۔ ’’اُتِیَ فیہ‘‘ یہ مجہول کاصیغہ ہے ضائع ہونے اور ہلاک ہونے کے معنی میں ہے یعنی جو چیز میرے ہاتھوں میں ضائع ہوجاتی ہے۔ یہ شئی کی صفت واقع ہوئی ہے۔ ’’یدی‘‘ تثنیہ ہے دونوں ہاتھ مراد ہیں یعنی ایسا کبھی نہیں ہوا کہ میرے دونوں ہاتھوں سے کوئی چیز ضائع ہوگئی ہو اور آنحضرت ﷺ نے مجھے ملامت کرکے لعن طعن کیاہو دیگر افراد جب ملامت کرنے لگتے تو آپ فرماتے کہ اس کو چھوڑ دو۔ ’’لوقضی شئی کان‘‘ یعنی تقدیر الٰہی میں جس چیز کا فیصلہ ہوچکاہوتاہے وہ ضرور ہوکررہتاہے ، مستقبل کے اعتبار سے جو بات ہونے والی ہوتی ہے وہ ضرور ہوکر رہتی ہے۔ (مشکوٰۃ شریف)
جاری ہے۔۔۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ



