معجزاتِ حضرت رسول اکرمﷺ-۱۳

ایک پیشن گوئی میں معجزہ کا ظہور
اورحضرت ابوہریرہؓکہتے ہیں کہ ہم رسول کریمﷺ کے ساتھ غزوۂ حنین میں شریک تھے ، وہاں جنگ شروع ہونے سے پہلے رسول کریمﷺ نےا پنے لشکر کے لوگوں میں سےا یک شخص کے بارے میں جواپنے کو مسلمان کہتاتھا فرمایا یہ شخص دوزخی ہے۔ پھر جب لڑائی شروع ہوئی تو وہ شخص بڑی بے جگری سے لڑا اور اس کا جسم زخموں سے چور ہوگیا، ایک صاحب نے آکر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! اس شخص کی حقیقت حال مجھے بتائیے جس کے بارے میں آپ نے فرمایا تھا کہ وہ دوزخی ہے وہ تو اللہ کی راہ میں بڑی بے جگری سے لڑاہے اور بہت زخم اس نے کھائے ہیں، جس سے اس کا جنتی ہونا معلوم ہوتاہے؟ آنحضرتﷺ نےفرمایا یاد رکھو! وہ دوزخیوں میں سے ہے، اورپھر قریب تھا کہ بعض لوگ شک وشبہ کا شکار ہوجاتے لیکن یکایک اس شخص نے اپنے زخمیوں کی تکلیف سے بے چین ہوکر اپنا ہاتھ ترکش کی طرف بڑھایا اور ایک تیر نکال کر اس کو اپنے سینہ میں پیوست کرلیا۔ (یہ دیکھنا تھاکہ) بہت سے مسلمان دوڑے ہوئے رسول کریمﷺ کے پاس پہنچے اور عرض کیا کہ یارسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے آپ کی بات سچی کردی، اس نے اپنا سینہ چیرکرخود کشی کرلی ہے۔ رسول کریمﷺ نے فرمایا اللہ بہت بڑا ہے، میں گواہی دیتاہوں کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ بلال کھڑے ہو! اور لوگوں کو آگاہ کردو کہ جنت میں صرف مؤمن داخل ہوگا اوریہ کہ اللہ تعالیٰ اس دین کو فاسق شخص کے ذریعہ سے بھی مضبوط کرتاہے۔ (بخاری)
توضیح: ’’لرجل‘‘ یعنی ایک شخص کے بارے میں حضور اکرمﷺ نے فرمایا کہ یہ دوزخ میں جائے گا حالانکہ وہ سب سے زیادہ میدان جہاد میں کفار کے مقابلہ میں لڑرہاتھا۔ سننے والوں کو تردد ہوا کہ یہ کیسے دوزخ میں جائے گا اُس شخص کانام قزمان تھا یہ منافق تھا اور صرف قومیت کی بنیاد پر لڑرہاتھا، منافق کاجہاد بھی معتبر نہیں اور قومیت کے لئے بھی جہاد صحیح نہیں ہوتا اس شخص کے انجام بتانے میں معجزے کا ظہورہوگیا۔ ’’فانتحر‘‘سوال یہ ہے کہ ایک روایت میں ہے کہ اس شخص نے تلوار کے ذریعہ سے اپنے آپ کو ذبح کیا اور یہاں تیر کا ذکر ہے یہ تضادہے، اس کا جواب یہ ہے کہ پہلے اس شخص نے تیرسے اپنا گلہ کاٹا مگر جب اس سے موت کے واقع ہونے میں تاخیر ہورہی تھی توپھر اس نے تلوار سے اپنے آپ کو قتل کردیا، دونوں باتیں صحیح ہیں کوئی تضادنہیں ہے۔ ’’بالرجل الفاجر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کبھی اس دین کا کام ایک بے دین آدمی سے بھی لیتاہے، جہاد تو دشمن سے لڑنے کانام ہے جس کا تعلق جسم سے ہے ، اگر جسمانی طورپر آدمی ٹھیک ہوتو وہ کافر کومارسکتا ہے کافر جب مرجائے گا تو دین کو غلبہ حاصل ہوجائے گا، اصل مقصود تو دین کا غلبہ ہے وہ فاسق بلکہ منافق بلکہ کافر کے ہاتھ سے بھی حاصل ہوسکتا ہے، جب غلبہ حاصل ہوجائے گا تو فاسق وفاجر کے ہاتھ سے دین کی مدد ہوجائے گی اور تبلیغی حضرات ایمان بناتے بناتے رہ جائیں گے۔
(مشکوٰۃ شریف۔۔۔جلد نمبر۸)۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ



