مہاراشٹرمیں ایس آئی آر : سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو جاری کیا نوٹس

مہاراشٹر میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) میں بڑے پیمانے پر نام ہٹائے جانے کے الزامات پر جمعرات کو سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کر 4 ہفتے میں جواب طلب کیا ہے۔ ساتھ ہی عدالت نے واضح کیا کہ اگر کوئی بھی فیصلہ قانون کے مطابق نہیں پایا گیا تو اسے منسوخ کر دیا جائے گا۔ اس معاملے کی سماعت سی جی آئی سوریہ کانت کی صدارت والی بنچ نے کی۔عرضی میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مہاراشٹر میں ایس آئی آر کے دوران 33 فیصد ووٹرس کے نام ہٹا دیے گئے ہیں۔ تصدیق کا عمل نامکمل ہونے، فارم جمع نہ ہونے اور تکنیکی دشواریوں کے باعث ایک کروڑ سے زائد لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے غائب پائے گئے ہیں۔ حالانکہ ووٹر لسٹ سے نام ہٹائے جانے کے متعلق عرضی میں عائد کیے گئے الزامات پر الیکشن کمیشن کا جواب آنا باقی ہے۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں ایس آئی آر عمل، الیکشن کمیشن اور دہلی میں احتجاج کو لے کر مجموعی طور پر 26 عرضیاں داخل کی گئی ہیں۔ ان میں راہل گاندھی اور اپوزیشن کے دیگر لیڈران کی عرضیاں بھی شامل ہیں۔ سی جے آئی سوریہ کانت کی بنچ نے اشارہ دیا ہے کہ عدالت ایس آئی آر سے متعلق مسائل کو عمومی طور پر نہیں بلکہ ریاست وار، یعنی ہر ریاست کے لیے الگ الگ طریقے سے حل کرنا چاہتی ہے۔عرضی میں سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں ایک آزاد کمیٹی تشکیل دینے کی درخواست کی گئی ہے، تاکہ مقررہ مدت کے اندر ایس آئی آر کے دوران ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے اور ان میں ترمیم کرنے کے عمل کا آزادانہ آڈٹ کیا جا سکے۔ عرضی میں الیکشن کمیشن، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور دیگر 2 الیکشن کمشنرز سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کو معاملے میں فریق بنایا گیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ مہاراشٹر میں ڈرافٹ ووٹر لسٹ پر دعوے اور اعتراضات درج کرانے کی آخری تاریخ بڑھا کر 26 اکتوبر کر دی گئی ہے، جبکہ حتمی ووٹر لسٹ 16 نومبر کو شائع کی جائے گی۔ اس سے قبل حتمی ووٹر لسٹ جاری کرنے کی تاریخ 4 نومبر مقرر کی گئی تھی۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن نے پہلے دعوے اور اعتراضات درج کرانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر مقرر کی تھی، جسے بعد میں بڑھا کر 12 اکتوبر کر دیا گیا تھا۔



