مضامین

معجزاتِ حضرت رسول اکرمﷺ-۱۲

آنحضرتﷺ پر سحر( جادو) کئے جانے کا واقعہ
اور ام المؤمنین حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول کریمﷺ پرجادو کیاگیاتو کسی کام کے بارے میں آپ کاخیال ہوتا کہ کرلیا ہے حالانکہ وہ کام نہ کیا ہوتاتھا، تاآنکہ ایک دن اس وقت جب کہ آپ میرے پاس تھے آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اورپھردعا کی اورپھر آپ نے مجھ سے فرمایا کہ عائشہ ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ بات بتادی ہے جو میں نے اس سے دریافت کی تھی؟ اس کے بعد آپ نے بیان کیاکہ میرے پاس آدمیوں کی صورت میں دوفرشتے آئے ان میں سےا یک تو میرے سرہانے بیٹھا اور دوسراپائینتی ، پھر ان میں سے ایک نے دوسرے سے پوچھا، اس شخص کو کیا بیماری ہے؟ دوسرے نے کہا اس پر جادو کیاگیاہے، پھر پہلے نے پوچھا جادو کس نے کیاہے؟ دوسرے نے جواب دیا لبید ابن اعصم یہودی نے ۔ پہلے نے پوچھا کس چیز میں جادو کیاگیاہے؟ دوسرے نے جواب دیاکنگھی میں اور ان بالوں میں جو کنگھی سے جھڑتے ہیں اور نرکھجور کے خوشہ کے خول میں۔ پہلے نے پوچھا یہ جادو کی ہوئی چیزیں کہاں رکھی ہیں؟ دوسرے نے جواب دیا مدینہ کے ایک کنویں ذروان میں۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ اپنے چند مخصوص صحابہ کے ساتھ اس کنویں پر تشریف لے گئے اور فرمایا: یہی وہ کنواں ہے جو مجھ کو دکھایاگیا ہے۔ اس کنویں کاپانی حنا کی طرح سرخ تھا اور کھجور کے وہ خوشے (جواس کنویں میں ڈالے گئے تھے) ایسے تھے جیسے وہ شیطانوں کے سرہوں، چنانچہ آنحضرت ﷺ نے ان سب چیزوں کو کنویں سے نکال لیا۔ (بخاری ومسلم)
توضیح: ’’سُحِر رسول اللہ‘‘آنحضرتﷺ جب صلح حدیبیہ سے واپس مدینہ منورہ تشریف لائے توذوالحجہ ۶ھ؁ میں آپ پر جادو کیاگیا اس جادو کا اثر ایسا نہیں تھا کہ جس سے شرعی احکامات میں خلل پڑتا ہو بلکہ اس کا اثر صرف جسمانی اور دنیاوی امور میں تھا، آپ کا جسم ضعیف اور بہت زیادہ کمزور رہتاتھا بسا اوقات آپ کوخیال آتا تھا کہ میں نے فلاں کام کیاہے حالانکہ آپ ﷺ نے نہیں کیا ہوتا گویا آپﷺ پر اس جادو کی وجہ سے نسیان کا غلبہ ہوگیاتھا، ایک یہودی لبید بن اعصم کی بیٹیوں نے یہ جادو کیاتھا۔ آنحضرت ﷺ پر اس جادو کا اثر کتنے عرصے تک تھا اس سلسلہ میں روایات تین قسم پر ہیں۔ (۱) بعض روایات میں چالیس دن تک اثرباقی رہنے کاذکرہے۔ (۲) بعض روایات میں چھ ماہ تک اثرباقی رہنے کا ذکر ہے۔ (۳) اور بعض روایات میں ایک سال تک اثرباقی رہنے کاذکر ہے ۔ ان روایات میں تطبیق کی صورت اس طرح ہے کہ جادو کا زیادہ زور چالیس دن تک تھا اور درمیانہ درجہ کا اثر چھ ماہ تک تھا اور کچھ کچھ اثر ایک سال تک تھا ۔ اس حدیث سے ایک تویہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ جادو ایک واقعاتی حقیقت ہے جس کاانکار نہیں کیاجاسکتا، یہ کوئی خیالی تصورنہیں ہے بلکہ اس حقیقت سے انبیاء بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔
معتزلہ نے سحر کا انکار کیاہے، یہ ان کی بدعات میں سے ایک بدعت ہے اور ان کے باطل عقائد میں سے ایک باطل عقیدہ ہے ، اس حدیث سے دوسری بات یہ ثابت ہوگئی کہ انبیاء کرام انسان اور بشر تھے جو بیماری کسی انسان کو متاثر کرسکتی ہے وہ انبیاء کرام کو بھی متاثر کرتی ہے ، البتہ انبیاء کرام پر ایسی بیماری نہیں آتی جو انسان کے لئے باعث عار یا باعث نفرت و حقارت ہو۔
ملاعلی قاری ؒ انبیاء کرام پر سحرہوجانے کے بارے میں لکھتےہیں:’’لان السحر انمایعمل فی ابدانھم وھم بشر یجوزعلیھم من العلل والامراض مایجوز علی غیرھمُُ ملا علی قاری مزید لکھتے ہیں: وفائدۃ الحول (ای حلول السحر) تنبیہ علی ان ھذا بشر مثلکم و علی ان السحر تائیرہ حق فانہ اذا اثرفی اکمل الانسان فیکف بغیرہ؟ (مرقات، ج۱۰، ص ۲۱۷)
’’ودعاہ‘‘تاکید کے لئے ہے یعنی اللہ سے مانگا اور مسلسل مانگا۔ ’’مطبوب‘‘ای ھومسحور ، یعنی ان پر جادو کیاگیا ہے۔ ’’من طبہ‘‘یعنی وہ جادو کس نے کیا ہے؟ مطبوب اور طب، یہ طب بمعنی علاج ہے ، جادو کو طب بطورتفاؤل کہاگیاہے کہ اس کا علاج گویا ہوگیاہے جس طرح سانپ کے ڈسے ہوئے آدمی کو سلیم کہتے ہٰں یعنی یہ صحیح سالم اور محفوظ ہے۔’’الیھودی‘‘ اس شخص کا کردار ضرور ہوگا اصل محرک یہی خبیث ہوگا مگر اس نے اپنی بیٹیوں کو اس کام پر لگایا ہوگا اسی لئے قرن کریم میں ’’ومن شرالنفاثات‘‘آیت میں جادو کی نسبت عورتوں کی طرف کی گئی ہے مگر اس حدیث میں جادو کی ذمہ داری اس شخص پہ ڈالی گئی ہے۔
’’فیماذا‘‘یعنی یہ جادو کس چیز اور کس ذریعہ سے کیاگیاہے۔ ’’مشط‘‘میم پر ضمہ ہے شین ساکن بھی ہے اور اس پر ضمہ بھی پڑھا جاتاہے، کنگھی کوکہتے ہیں۔’’مشاطۃ‘‘کنگھی کرتے وقت جو بال گرجاتے ہیں یاکنگھی کے بیچ پھنس جاتے ہیں اس کو مشاطہ کہتے ہیں۔ ’’جف‘‘ بالکل ابتداء میں جب کھجور کا خوشہ آتاہے تواس میں کلیاں ہوتی ہیں ،پھول ہوتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ اس پر خول اور غلاف بھی آتے ہیں تو جف اسی خول اور غلاف کو کہتے ہین ، جیم پر ضمہ ہے اور فا پر شد ہے۔ ’’طلعۃ‘‘یہ کلی اور شگوفہ کو کہتے ہیں یہ شگوفے نرکھجور کے درخت میں بھی ہوتے ہیں اور مادہ میں بھی ہوتے ہیں ، اس فرق کو ظاہر کرنے کے لئے فرمایا کہ نر کھجور کے شگوفے کے غلاف میں جادو کیاگیا ہے ، نرکھجور کوجادو میں استعمال کیاگیاہے۔ ’’بئرذروان‘‘ایک روایت میں بئر ذی اروان بھی ہے دونوں صحیح ہیں ، مدینہ منورہ میں ایک شخص ابوزریق کے باغ کے اندریہ کنواں تھا۔ ’’وھی بئر فی المدینۃ فی بستان ابی زریق‘‘ (مرقات)
’’نقاعۃ الحناء‘‘یعنی اس کنوئیں کاپانی اس طرح سرخ ہوگیاتھا جس طرح مہندی کا شیرہ ہوتا ہے جو سرخ تر ہوتاہے۔ ’’نخلھا‘‘ یعنی کھجور کے خوشے وحشت ناک تھے، نخل سے باغ کے کھجور کے درخت مراد نہیں بلکہ وہی خوشہ مراد ہے جس کو جادو میں استعمال کیاگیا تھا۔ ’’رؤس الشیاطین‘‘ یعنی وحشت ودہشت اور کراہت وقباحت میں وہ خوشہ شیطان کے سروں کی طرح تھا۔ عرب لوگ جب کسی چیز کی شدید قباحت اور وحشت بیان کرتے ہیں تو اس کی تشبیہ شیطان کے سرکے ساتھ دیتے ہیں نیز شیطان کےسر کا اطلاق سانپوں پربھی ہوتا ہے بہرحال جو کچھ بھی ہو مگر ایک ڈراؤنا منظر سمجھا جارہاہے ! ان خوشوں پر ایک توجادو کااثر بھی تھا اور دیرتک پانی میں دبائے رکھنے کا اثر بھی تھا اس لئے یہ کراہت وقباحت کا مجموعہ بن گئے تھے۔
اس واقعہ سے متعلق حضرت ابن عباسؓ کی ایک روایت بھی ہے اس میں یہ تفصیل ہے کہ اس کنوئیں کا اطلاع ملنے پر آنحضرت ﷺ نے حضر ت علی اور حضرعماربن یاسرؓ کو اس کنوئیں کی طرف بھیجا تاکہ جادو کی یہ چیزیں نکال لائٰں جب ان حضرات نے کھجور کا وہ خوشہ کنوئیں سے نکالاتو اس کے خول میں موم کا بنا ہوا ایک مجسمہ اور پتلا ملا، یہ آنحضرت ؓ کا مجسمہ تھا اس مجسمہ میں سوئیاں چبھوئی ہوئی تھیں اورہرسوئی کے اوپر ایک ڈوراتھا جو مجسمہ سے لپیٹا گیاتھا جس میں گیارہ گرہیں لگی ہوئی تھیں۔ حضرت جبرئیل نے ان گیارہ گرہوں پر معوذ تین پڑھنا شروع کیا، معوذتین کی آیتیں بھی گیارہ ہیں ایک ایک آیت پر حضرت جبرئیل ایک ایک گرہ کھولتے تھے اور مجسمہ میں سے سوئی بھی نکالتے تھے چنانچہ آنحضرت ﷺ کو اس سے ایسی تسکین حاصل ہوجاتی تھی گویا بندھی ہوئی رسی سےآپ کی خلاصی ہوجاتی تھی، کہتےہیں کہ حضور اکرمﷺ خود بھی اس کنوئیں پر گئے تھے مگر اندرنہیں گئے کچھ فاصلہ پر رہے آنحضرت ﷺ نے اس یہودی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی بلکہ آپﷺ نے فرمایا کہ میں فتنہ اُبھارنا نہیں چاہتا۔
اس حدیث میں فرشتوں کا آکرآپ کی بیماری بتلانا پھر اس کنوئیں کی نشاندہی کرنا ایک قسم معجزہ کا ظہورتھا، پھر معوذتین کانازل ہونا اور جبرئیل امین کا دم کرنا اور آپ کا ٹھیک ہونا یہ دوسری قسم معجزہ کا ظہور تھا۔(مشکوٰۃ شریف۔۔۔جلد نمبر۸)۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!