معجزاتِ حضرت رسول اکرمﷺ-۱۰

جنگ حنین میں معجزہ کاظہور
اورحضرت عباسؓ کہتے ہیں کہ میں رسول کریمﷺ کے ساتھ غزوۂ حنین میں شریک تھا جب مسلمانوں اور کافروں کے درمیان شدید جنگ چھڑ گئی توپشت دے کر مسلمان بھاگ کھڑے ہوئے۔ رسول کریمﷺ نےا پنے خچر کو ایڑلگانا اور کفار کی طرف بڑھنا شروع کیا، اس وقت میں تو رسول کریمﷺ کے خچر کی لگام پکڑے ہوئے تھا اور اس خیال سے اس کو روک رہاتھا کہ کہیں وہ تیزی کے ساتھ کافروں میں گھس نہ جائے اور ابوسفیان بن الحارث رسول کریمﷺ کی رکاب تھامے ہوئے تھے، اسی دوران رسول کریمﷺ نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا کہ عباسؓ! اصحاب سمرہ کو آواز دو! حضرت عباسؓ جو ایک بلند آواز آدمی تھے، کہتے ہیں کہ میں نے آواز دی کہ کہاں ہیں اصحاب سمرہ؟ کیا تم اپنی وہ بیعت بھو رہے ہو جو تم نے آنحضرت کی مدد و حفاظت کے لئے درخت کے نیچے کی تھی؟ حضرت عباسؓ کہتےہیں کہ خدا کی قسم ! اصحاب سمرہ اس طرح لوٹے اور دوڑتے ہوئے آئے جیسے گائیں اپنے بچوں کی طرف لوٹ کرآتی ہے اور وہ کہہ رہے تھے کہ اے قوم! ہم حاضر ہیں! اے قوم ہم حاضرہیں۔ اس کےبعد مسلمان ازسرنو ہمت اور جوش کے ساتھ کافروں سے بھڑگئے اور انصار صحابہ نے آپس میں ایک دوسرے کو بلانے اور حوصلہ دلانے کے لئے غازیوں کی مانند اس طرح پکارنا شروع کیا کہ اے گروہ انصار! اے گروہ انصار! ہمت سے کام لو اور دشمن پر ٹوٹ پڑو، پھریہ پکارنا قبیلہ بنو حارث بن خزرج تک محدود ہوگیا، اس دوران رسول کریمﷺ نے جو اپنے خچر پر ایک طاقتور اور قابو یافتہ سوار کی طرح جمے ہوئے تھے لڑتے ہوئے مسلمانوںپر نظر ڈالی۔ اور بعض حضرات نے ’’ کالمتطاول‘‘ کے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ جو ’’خچر پر گردن اونچی کرکے دیکھنے والے کی طرح بیٹھے ہوئے تھے یعنی جس طرح کوئی اپنے سے دور کسی چیز کو دیکھنے کیلئے گردن اونچی کرکے نگاہ ڈالتاہے، اسی طرح آپ نے کچھ کنکریاں ہاتھ میں اٹھائیں اور ’’شاھت الوجوہ‘‘ کہتے ہوئے ان کنکریوں کوکافروں کے منہ پرپھینک مارااور فرمایا رب محمد کی قسم!کافروں کو شکست ہوگئی۔ (حضرت عباس ؓکہتے ہیں کہ) خدا کی قسم یہ شکست جو کافروں کو ہوئی صرف آپ کی کنکریاں پھینکنے کے سبب ہوئی(کنکریاں پھینکنے کے بعدآخرتک) میں برابر دیکھتا رہا کہ کافروں کی تیزی اور شدت سے چلنے والی تلواریں ہلکی اور کند پڑ رہی تھیں اور ان انجام ذلت و خواری سے بھراہواتھا۔(مسلم)
توضیح: فتح مکہ کے بعد ۸ھ میںحنین کا غزوہ پیش آیا وہاں کے لوگوں نے چاہا کہ مسلمانوں پر حملہ کردیں ، آنحضرت ﷺ نے پہل کردی اور بارہ ہزار لشکر لے کر پہلے حنین اور پھر اوطاس اورپھر طائف میں جنگ لڑی۔ وادیٔ حنین میں ابتداء میں عارضی شکست ہوگئی تھی، صحابہ تتر بتر ہوگئے تھے آنحضرت ﷺ کے قریب چند صحابہ رہ گئے تھے، آپ ایک قدم پیچھے نہیں ہٹے بلکہ آگے بڑھتے رہے ، حضرت عباسؓ روکنے کی کوشش کررہے تھے پھر اللہ تعالیٰ کی مدد آگئی کفار کو شکست ہوگئی ۔آنحضرت ﷺ نے ایک مٹھی ریت کفار پر پھینک دی ، اس سے معجزہ کا ظہور ہوگیا آسمان سے فرشتے اترے اس سے بھی معجزہ کا ظہور ہوگیا۔ اسی قصہ کو حضرت عباسؓ نے بیان فرمایا ہے۔ ’’یرکض‘‘ گھوڑے کو ایڑدے کردوڑانے کو رِکض کہتے ہیں یہاں خچر کا ذکرہے۔
’’اصحاب السمرۃ‘‘حدیبیہ میں کیکر کے درخت کے نیچے موت پر بیعت کرنے والے صحابہ کو اصحاب السمرۃ کے نام سے یاد کایاجاتاہے۔’’صیتاً‘‘ یعنی عباس ایک بلند آواز شخص تھے۔ ’’عطفۃ البقر‘‘ عطفۃ پلٹ کر مڑنے کو کہتے ہیں ، حیوانات میں گائے اپنی اولاد پر بالکل دیوانہ بن جاتی ہے بعض دفعہ اپنے گھر کے تمام افراد کو بھی مارنے لگتی ہے اور اپنے چھوٹے بچے پر جھکی رہتی ہے۔ یہاں صحابہ کرام کا تیزی سے آنا اور حضوراکرمﷺ کے اردگرد اکٹھا ہونا اورپھر حضور اکرمﷺ کی حفاظت میں دیوانہ وارکھڑے ہونے کی تشبیہ گائے کےا پنے بچے کی طرف متوجہ ہونے سے دی گئی ہے۔ ’’والکفار‘‘یہ واؤ مع کے معنی میں ہے۔ ’’الدعوۃ فی الانصار‘‘یعنی صرف انصار کو لڑنے کے لئے دعوت دی جاتی تھی کہ اے انصار آگے بڑھو اور خوب لڑو۔ ’’قصرت الدعوۃ‘‘ یعنی انصار کو لڑنے کی عام دعوت دینے کے بعد پھر ترتیب اس طرح بنائی گئی کہ انصار کے خاص خاص قبیلوںکولڑنے کے لئے بلایا گیا مثلاً بنوحارث بن خزرج تک یہ دعوت محدود ہوگئی کہ تم آگے آؤ اور زوروشور سے لڑو۔ ’’کالمتطاول‘‘ گردن اٹھاکر کسی چیز کو جھانک کردیکھنے والے متطاول کہتے ہیں ، آنحضرت ﷺجنگ کامنظر دیکھنا چاہتے تھے اس لئے گردن مبارک اُٹھا کر میدان جنگ کو دیکھنے لگے۔ ’’ھذا حین حمی الوطیس‘‘ وطیس تنور کو بھی کہتے ہیں اور اس میں آگ کے شعلوں کوبھی کہتے ہیں اور حمی گرم ہونے کو کہتے ہیں اور ھذا اشارہ ہے جو مبتداء ہے۔ علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ اس کی خبر محذوف ہے جو القتال ہے عبارت اس طرح ہے ھذا القتال حین حمی الوطیس ای ھذا القتال حین اشتد الحرب لیکن ملاعلی قاریؒفرماتے ہیں کہ زیادہ واضح یہ ہے کہ ھذا مبتداء ہو اور حین اس کی خبر ہو لیکن حین مبنی علی الفتح ہوگا کیونکہ یہ مبنی اصل فعل کی طرف مضاف ہے حمی فعل ہے اور الوطیس اس کا فاعل ہے۔ عبارت اس طرح ہوجائے گی ای ھذا الزمانُ زمانُ اشتداد الحرب یعنی اب جنگ اپنی جوبن پر پہچ گئی ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ جملہ سب سے پہلے آنحضرت ﷺ نے استعمال فرمایاہے عرب اس کو نہیں جانتے تھے۔ آنحضرت ﷺ کے استعمال کے بعد بہت عام ہوگیا۔ ’’انھزمواورب محمد‘‘یعنی رب محمد کی قسم کافروں کو شکست ہوگئی یہ جملہ آنحضرت ﷺ نے تفاؤ لاً فرمایا اور ایسا ہی ہوگیا۔ ’’حدھم‘‘ یعنی کفار کی جنگی شست اور تلواروں کی تیزی۔ کلیلاً‘ سست پڑنے کے معنی میں ہے یعنی ان کی تیزی سست پڑگئی۔ ’’مدبراً‘‘یعنی ان کا معاملہ پسپائی اور ذلت کی طرف چلاگیا۔
(مشکوٰۃ شریف۔۔۔جلد نمبر۸)۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ



