حضوراکرمﷺ کےاخلاق وعادات مبارکہ-۷

حضور اکرمﷺ کےا وصاف حمیدہ
اورحضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نہ خلقی وطبعی طورپر فحش گوتھے اورنہ قصدا فحش گوئی کرتے تھے اورنہ بازاروں میں شورمچانے والے تھے اورنہ آپ بُرائی کابدلہ بُرائی سے لیتے بلکہ معاف کردیتے تھے اور اس سے عفو ودرگزر کا معاملہ کرتے تھے۔ (ترمذی)
توضیح: ’’فاحشاُُ یعنی فحش گفتگو کرنے والے نہیں تھے اور طبیعت میں یہ چیز نہیں تھی۔ ’’ولامتفحشًا‘‘ یعنی فحش کلام کرنے میں تکلف بھی نہیں کرتے تھے کہ قصداً وتکلفًا فحش کلام اختیار کرتے۔ ’’ولا سخابا‘‘ چیخ چیخ کرشورمچانے والے کو سخاب کہتے ہیں۔
اورحضرت انسؓ نے نبی کریم ﷺ کے متعلق بیان کیاکہ آپ بیمار کی عیادت کرتے ، جنازہ کے ساتھ جاتے ، مملوک وغلام کی دعوت قبول فرمالیتے اور گدھے پرسوار ہونے میں بھی کوئی تکلف نہیں فرماتے تھے، چنانچہ غزۂ خیبر کےد ن میں نے آپ کو ایک گدھے پر سوار دیکھا جس کی باگ کھجور کے پوست کی تھی۔ اس روایت کو ابن ماجہ نے اور شعب الایمان میں بیہقی نے نقل کیاہے۔
توضیح:’’علی حمار‘‘یعنی غزۂ خیبر کے موقع پر آپ دراز گوش پرسوار تھے آنحضرت ﷺ نے بطور تواضع درازگوش پر سواری کی ہے، اس میں ایک تو حضرت عیسیٰ ؑ کے ساتھ انکساری میں مشابہت آگئی کیونکہ حضرت عیسیٰ ؑ نے ہمیشہ گدھے کی سواری اختیار کی تھی دوسری بات یہ تھی کہ یہ جائز ہوجائے کہ گدھے کی سواری جائز ہے اسی وجہ سے گدھے کاپسینہ پاک قراردیاگیاہے، یہ گدھے کابھی فائدہ ہوا، یہاں یہبات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ اس گدھے سے عربستان کے بڑے سفید گدھے مراد ہیں جو گھوڑے کے قریب ہوتے ہین ، افغانستان کے گدھے بھی اسی طرح قد آور ہوتے ہیں اس سے وہ گدھا مرادنہیں ہے جو چھوٹا سا ہوتاہے جس پرسوار ہونا باعث عار سمجھا جاتاہے۔ آنحضرت ﷺ کےساتھ دوسرا آدمی بھی سوار ہوتاتھا اس سے بھی معلوم ہوا کہ یہ بڑا گدھا ہوتاتھا۔ ’’خطامہ‘‘ای الجامہ ولگامہ۔ ’’لیف‘‘ یعنی لگام کی رسی کھجور کی پوست اور چھال کی بنی ہوئی تھی۔
اورحضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ اپنی جوتیاں خود گانٹھ لیتے تھے، اپنا کپڑا خود سی لیتے تھے اور اپنے گھر کاکام کاج اسی طرح کرتے تھے جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنے گھر میں کام کاج کرتاہے اور حضرت عائشہ ؓ نے مزید فرمایا کہ آنحضرت ﷺ ایک ایسے ہی انسان تھے جیسے دوسرے انسان ہوتے ہٰں۔ آپ اپنے کپڑے کی جوئیں خود دیکھتے تھے ، اپنی بکری کادودھ خود دوہتے تھے اور اپنی خدمت آپ کرلیتے تھے۔ (ترمذی)
توضیح:’’یخصف‘‘ جوتاسینے اور گانٹھ لگانے کے معنی میں ہے اسی سے خصاف ہے۔ ’’بشرا‘‘ بشر انسان کوکہتے ہیں ۔ حضرت عائشہ ؓ یہی بتانا چاہتی ہیں کہ آپ انسان تھے فرشتہ اور جنا ت میں سے نہیں تھے لہٰذا آپ پر بشری عوارض آتے تھے، اس حدیث سے بریلویوں کے چہروں پر ایک زبردست علمی تھپڑ پڑجاتاہے۔ کاش اگر وہ سمجھیں ! کفار کا خیال تھا کہ اگر وہ ’’محمد‘‘ اللہ تعالیٰ کے رسول ہوتے تو وہ عام انسانوںکی طرح چھوٹے چھوٹے کاموںمیں مشغول نہ ہوتے بلکہ بادشاہوں کی طرح چھوٹے کاموں سے اجتناب کرتے جیسے آیت میں ہے ’’ مَالِ هَٰذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ‘‘ اس کے جواب میں حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ ایک انسان تھے اور بطور تواضع آپ انسانوں کی طرح کام کیاکرتے تھے تکبر سے پاک تھے آپ ’’بشر‘‘تھے ’’قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ ‘‘ (خلاصہ طیبی)
’’یفلی ثوبہ‘‘ فلی یفلی تفلیۃ باب تفعیل سے اور تفلیٰ یتفلی تفلیا باب تفعل سے کپڑوں اور سر وغیرہ میں جوئیں تلاش کرنے اور ٹٹولنے کے معنی میں ہے تاکہ اس کو ہٹایاجائے۔
سوال: مواہب لدنیہ میں لکھاہے کہ آنحضرت ﷺ کے جسم یاکپڑوں میں کبھی بھی جوئیں نہیں پڑیں پھر یہاں تلاش کرنے کا کیامطلب ہے؟ اسی طرح امام فخر الدین رازی ؒ نے لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے جسم پر کبھی مکھی نہیں بیٹھتی تھی اور نہ کبھی کسی مچھر نے آپ کے جسم کو ڈنک ماراہے یہاں جوؤں کا ذکر کیسے ہے؟
جواب: آنحضرت ﷺنے اظہار بشریت کی غرض سے بطور تواضع اپنے کپڑوں میں جوؤں کوتلاش کیا ہے، یہ صرف تلاش کرنے اور ٹٹولنے کی حد تک تھا۔ تلاش کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس میں جوئیں موجود تھیں۔ شیخ عبدالحق ؒ نے اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے کہ اگرچہ آنحضرتﷺ کے جسم میں کبھی بھی جوئیں نہیں پڑیں لیکن چونکہ ان موذیات کا بدن کے علاوہ کپڑوں کے ساتھ باہر سے لگنا ممکن تھا اس لئے آنحضرت ﷺ نے تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ (مشکوٰۃ شریف)۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔۔۔۔۔



