اسلام کانظام میراث-(۲)

ترکہ کی تقسیم میں کوتاہیاں
مالی معاملات میں مسلمانوں سے عموماً جوکوتاہیاں اور بے احتیاطیاں ہورہی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ وفات پانے والے مسلمان کے ترکہ (چھوڑے ہوئے مال) کو شریعت کے بتائے ہوئے طریقہ پر تقسیم نہیں کیا جاتا۔ اسلام کی تعلیم ہے کہ میت کے مال سے اس کی تجہیز وتکفین اور تدفین کرنے کے بعد سب سے پہلے میت کے اوپر دوسروں کے جو مالی مطالبات ہیں ترکہ سے ان کی ادائیگی کی جائے۔ مثلاً مرنے والے شخص نے اپنی زندگی میں کسی سے قرض لیا تھا، اس کی ادائیگی نہیں کرسکاتھا، کسی سے کوئی مال خریداتھا اس کی قیمت نہیں دے سکاتھا۔ کسی کو ملازم رکھا تھا اور اس کی تنخواہ نہیں دے سکاتھا۔ اس طرح کےجو بھی مالی مطالبات ہوں ان کی پوری ادائیگی اس کے ترکہ سے کی جائے گی۔ حتیٰ کہ اس نے اگر بیوی کا مہر زندگی میں ادانہیں کیاتو مہر بھی ایک مطالبہ ہے اس کی ادائیگی بھی ترکہ سے کی جائے گی۔
مرنے والے شخص کے ذمہ جو مالی مطالبات ہیں ان کی ادائیگی کرنے میں اگر پورا ترکہ ختم ہوجائے تو ختم ہونے دیاجائے۔ ورثہ کا نمبر اسی وقت آئے گا جب تمام مالی مطالبات ادا کرنے کےبعد کچھ بچے گا۔ بعض مرنے والوںپر مالی مطالبات اتنے زیادہ ہوتے ہیں کہ پورا ترکہ ان کی ادائیگی کے لئے ناکافی ہوتاہے۔ مثلاً مالی مطالبات کامجموعہ ایک لاکھ روپئے بنتا ہے اور کل ترکہ کی مجموعی قیمت پچاس ہزار ہے، ایسی صورت میں اگر وارثین یا غیر وارثین میں ایک شخص یا کچھ لوگ ثواب کی نیت سے بہ خوشی اس بات کے لئے آمادہ ہیں کہ مالی مطالبات کی ادائیگی میں پورا ترکہ ختم ہوجانے کے بعد جومالی مطالبات باقی رہ جائیں گے ان کی ادائیگی وہ اپنے مال سے کریں گے تب توہرقرض خواہ کو اس کا پورا قرض اور مالی حق مل جائے گا اور اگر کوئی وارث یا غیر وارث اس کے لئے آمادہ نہیں ہے تو ایسا نہیں کیاجائے گا کہ بعض قرض خواہوں کو ان کو پورا قرض دے دیاجائے اور بعض قرض خواہ مکمل طورپر محروم رہ جائیں بلکہ تمام قرض خواہوں اور ان کے قرضوں یامالی حقوق کی تفصیل معلوم کرنے کے بعد ان پر ترکہ ان کے قرض کے تناسب سے تقسیم کیاجائے گا ، تاکہ انصاف کے ساتھ ہر قرض خواہ کو اس کا کچھ مالی حق وصول ہوجائے اور نقصان میں بھی سب شریک ہوں۔ یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ ترکہ میں مرنے والے کا چھوڑا ہواہرمال شامل ہے خواہ وہ نقد روپیوں کی شکل میں ہو یا چاندی سونے کی شکل میں یا زمین، جائیداد، مکان، دوکان ہو، قرضوں اور مالی حقوق کی ادائیگی ان سب سے کی جائے گی۔ (ازکتاب: اسلام کانظام میراث۔ حضرت مفتی عتیق احمد صاحب بستوی)۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔۔۔۔۔



