معجزاتِ حضرت رسول اکرمﷺ-۱۴

حضرت ابوہریرہؓ کی ماں کے اسلام میں معجزہ کا ظہور
اور حضرت ابوہریرہؓکہتے ہیں کہ میں اپنی والدہ کوجومشرکہ تھیں قبول اسلام کی تلقین کیاکرتاتھا چنانچہ ایک دن میں نے ان کو اسلام قبول کرنے کی تلقین کی توانہوں نے رسول کریمﷺ کی شان اقدس میں وہ بات کہی جو مجھ کو سخت ناگوار ہوئی ، میں روتا ہوا رسول کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! اب تو آپ ہی اللہ سے دعا فرما دیجئے کہ اللہ تعالیٰ ابوہریرہؓکی ماں کو ہدایت عطا فرمائے۔ آپ نے دعافرمائی اے اللہ! ابوہریرہ کی ماں کو ہدایت عطا فرما! میں نبی کریمﷺ کی دعا سے بڑی خوش آئند امید لے کر واپس لوٹا اور جب اپنی والدہ کے گھر کے دروازہ پرپہنچا تو دیکھا کہ دروازہ بند ہے۔ لیکن میری والدہ نے میرے قدموں کی آواز سن لی تھی انہوں نے کہاکہ ابوہریرہ! وہیں ٹھہرو! پھر میں نے پانی گرنے کی آواز سنی، میری والدہ نے غسل کیا کپڑا پہنا اور مارے جلدی کے دوپٹہ اوڑھے بغیر دروازہ کھول دیا اور کہا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سواکوئی معبود نہیں اور گواہی دیتی ہوں کہ محمدﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ میں یہ دیکھتے ہی کہ میری پیاری ماں کوہدایت مل گئی اور انہوں نے اسلام قبول کرلیاالٹے پاؤں لوٹا اور خوشی کے آنسو گراتا ہوارسول کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے اللہ کی تعریف کی اورمیری والدہ کے اسلام پر شکراداکیا اوراچھا فرمایا۔ (مسلم)
توضیح:’’مجاف‘‘یعنی دروازہ بند تھا۔ ’’خشف‘‘ قدم کی آہٹ کو کہتے ہیں۔ ’’خضخضۃ الماء‘‘ پانی کو حرکت دینے سے جوآواز پیدا ہوتی ہے اس کو خضخضۃ کہتے ہیں۔ ’’عجلت‘‘یعنی دوپٹہ پہننے سے پہلے باہر آگئی۔حضرت ابوہریرہؓکی ماں کو ہدایت کی دعادیدی گئی اور ہدایت مل گئی، اس میں آنحضرتﷺکے معجزہ کاظہور ہوا۔
حضرت ابوہریرہؓ کودُعا دینے میں معجزہ کاظہور
اورحضرت ابوہریرہؓنے تابعین کو مخاطب کرکے یا جیسا کہ بعض حضرات نے کہا ہے صحابہ متاخرین کو مخاطب کرکے کہاکہ تم جو یہ کہتے ہوکہ ابوہریرہؓ نبی کریمﷺ سے بہت زیادہ حدیثیں نقل کرتے ہیں (توپہلے یہ سمجھ لوکہ) اللہ کے پاس فیصلہ ہوگا اورپھرسنو! میں زیادہ حدیثیں بیان کرنے کا سبب تمہیں بتاتاہوں کہ میرے مہاجر بھائیوں کوتوبازار میں ہاتھ پرہاتھ مارنے یعنی خرید وفروخت کی مشغولیت الجھائے رکھتی تھی اور میرے انصار بھائیوں کو ان کی زمین و جائیداد فرصت نہیں دیتی تھی، جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں ایک مسکین ومفلس شخص تھا اور پیٹ بھر کر کھانا مل جانے پر قناعت کرکے رسول کریمﷺ کی خدمت میں پڑا رہتا تھا۔ پھر ایک دن ایسا ہوا کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی شخص اپنا کپڑا پھیلائے اور اس وقت تک پھیلائے رہے جب تک میں اپنی بات پوری نہ کرلوں اور پھر وہ شخص اپنے کپڑے کو سمیٹ کر اپنے سینہ سے لگالے تویہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ وہ میری بات کوکلی طورپر یا جزوی طورپر کبھی بھی بھول جائے۔ چنانچہ میں نے (فوراً) اپنی کملی پھیلالی جس کے علاوہ میرے پاس اور کوئی کپڑا نہیں تھا اور اس کو اس وقت تک پھیلائے رکھاجب تک آپ نے اپنی بات پوری نہ کرلی اورپھر میں نے سمیٹ کراپنے سینہ سے لگالیا، قسم ہے اس ذات کی جس نے آنحضرتﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا! آج تک میں آنحضرتﷺ سے سنا ہوا کوئی ارشاد نہیں بھولاہوں۔ (بخاری ومسلم)
توضیح: حضرت ابوہریرہؓ متاخرفی الاسلام ہیں لیکن آپ نے احادیث سب سے زیادہ بیان کی ہیں، اس پر صحابہ وتابعین میں ایک شبہ پایا جاتا تھا کہ اتنی احادیث ابوہریرہؓ نے کس طرح بیان کی ہیں حضرت ابوہریرہؓ نے اس کا ڈٹ کر جواب دیا ہے، آپ نے دو طرح جواب دیاہے پہلا جواب یہ کہ انصار ومہاجرین اپنے کاموں میں لگے ہوئے تھے اور میں فاقے گزار کر حضوراکرمﷺ کے دروازہ پر پڑارہتاتھا اور احادیث یاد کرتاتھا اس لئے میری حدیثیں زیادہ ہیں۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ ایک دن حضور اکرمﷺ نے فرمایا کہ میں کچھ پڑھتا ہوں جس کے پاس چادر ہو وہ لاکر بچھادے میں اس پردم کردوں گا، وہ شخص اس چادر کو اپنےسینہ سے لگادے تو وہ میری حدیث کبھی بھولے گانہیں ، میں نے ایسا کیاتو حضور اکرمﷺ کا معجزہ ظاہر ہوگیا اور میرا حافظہ ایسا تیز ہوگیا کہ اس کے بعد میں آنحضرتﷺ کی کسی حدیث کوکبھی نہیں بھولا۔
حضرت جریر کو دُعا دینے میں معجزہ کاظہور
اورحضرت جریر ابن عبداللہ بجلیؓ کہتے ہیں کہ رسول کریمﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ کیا تم ذوالخلصۃ کو توڑکر مجھے راحت نہیں پہنچاؤ گے؟ میں نے عرض کیا ہاں! لیکن میں گھوڑے کی سواری پر پوری طرح قادرنہیں تھا اور کبھی کبھی گرپڑتا لہٰذا میں نے نبی کریم ﷺ سے اس کا ذکر کیا ،آنحضرتﷺ نے میرے سینے پر اتنے زور سے ہاتھ ماراکہ میں نے اس کا اثر اپنے سینہ کے اندر تک محسوس کیا اور پھر یہ دعا فرمائی اے اللہ ! اس کو ثابت وقائم رکھ! اور اس کو راہ راست دکھانے والا اور راہ راست پانے والابنا۔ حضرت جریرؓ کہتے ہیں کہ اس دعا کے بعد میں کبھی گھوڑے سے نہیں گرا اورپھر احمس کے ڈیڑہ سو سواروں کو لے کر جریرروانہ ہوئے وہاں پہنچ کر انہوں نے ذوالخلصہ کوآگ لگادی اور اس کو تھوڑپھوڑ ڈالا۔ (بخاری ومسلم)
توضیح:’’الاتریحنی‘‘ کیا اس بت کو جلاکر مجھے راحت نہیں پہنچاؤ گے؟ اس سے معلوم ہوا ہے کہ اللہ والوں کو دور کی معصیت سے بھی تکلیف ہوتی ہے۔ ’’من ذی الخلصۃ‘‘ یہ خشعم قبیلہ کا مشہور بت خانہ تھا جس کو لوگ کعبۃ الیمامۃ کہتے تھے۔ ’’فانطلق‘‘ یہ راوی حدیث کا کلام ہے کہ جریر چلاگیا یا خود جریر نے اپنے آپ کو غائب سمجھ کر کلام کیا۔ ’’من احمس‘‘ ای من قریش، احمس حموسۃ حماسۃ اور حماس بہادر کوکہتے ہیں۔ قریش تمام عرب میں زیادہ بہادر مشہور تھے اس لئے ان کو احمس کے نام سے یاد کیاگیا۔ بعض نے کہاکہ یہ حضرت جریر بن عبداللہؓ کا قبیلہ تھا، کوئی تضاد نہیں ہے۔
(مشکوٰۃ شریف۔۔۔جلد نمبر۸)۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ



