مضامین

اسلام کانظام میراث-(۵)

اسلامی قانونِ میراث کے چند اہم پہلو
تقسیم میراث کی غیر معمولی اہمیت کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نےا س کی تفصیلات اور جزئیات خود واضح فرمادی ہیں ، جیسا کہ اوپر ذکر کردہ آیات سے معلوم ہوا۔ اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ میراث کی تقسیم کو اگر بندوں کی صوابدید پر چھوڑ دیاگیاتو عدل وحکمت کے تقاضوں کا پورا ہونا انتہائی مشکل ہے، اسی لئے مسائل میراث بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے انسانی ذہن کی نارسائی کو بھی واضح فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا ۚ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا (النساء: ۱۱)
تم کو معلوم نہیں کہ تمہارے باپ دادوں اوربیٹوں پوتوں میں سے فائدے کے لحاظ سے کون تم سے زیادہ قریب ہے۔ یہ حصے خدا کے مقر ر کئے ہوئے ہیں اور اللہ سب کچھ جاننے والااور حکمت والاہے۔
ایک دوسرے مقام پر میراث کےبعض مسائل کاذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ أَنْ تَضِلُّوا ۗ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (النساء: ۱۷۶)
(یہ احکام) خدا تم سے اس لئے بیان فرماتاہے کہ بھٹکتے نہ پھرو، اورخدا ہر چیز سے واقف ہے۔
وحی الٰہی کی رہنمائی کے بغیر جب انسانی دماغ میراث کی تقسیم کرتا ہے تو بھٹکتا پھرتاہے، کسی ایک رائے پر قرار نہیں ہوتا۔ ایک انتہا سے دوسری انتہا کی طرف سفر کرتا رہتاہے۔ مثلاً دور قدیم میں میراث میں عورتوں کوکوئی حصہ نہیں دیاجاتاتھا اور دورجدید کا رجحان یہ ہے کہ عورت کو بالکل مرد کے برابر میراث میں حصہ دیاجائے۔
اللہ تعالیٰ کابہت بڑا احسان وکرم ہے کہ اس نے میراث کی تقسیم اپنے ہاتھ میں رکھی۔ صاحب مال کو اس ذمہ داری سے سبکدوش کردیا ورنہ صاحب مال بڑی مصیبت میں گرفتار رہتا۔ ہر رشتہ دار اس پر دباؤ ڈالتا (خصوصاً مرض الموت کے زمانہ میں) کہ اسے سب سے زیادہ حصہ دیا جائے۔ مرض الموت کی غیر معمولی تکلیفوں کے ساتھ اسے رشتہ داروں کے غیر معمولی دباؤ کی ذہنی و نفسیاتی کلفت جھیلنی پڑتی۔ لالچی اور ناخدا ترس رشتہ دار دھمکی اور ناروادباؤ کے ذریعہ اپنے لئے پروانۂ میراث حاصل کرلیتے اور اصل حقدار محروم رہ جاتے۔
اسلام کے قانون میراث میں ترکہ پانے والے اعزہ واقرباء کا دائرہ دوسرے قوانین میراث کے مقابلہ میں زیادہ وسیع ہے، اس لئے اگر اسلامی قانون میراث صحیح طورپر جاری کیا جائے تو ارتکاز دولت کابڑی حد تک سدباب ہوگا ، جس کی وجہ سے سماج غیر معمولی معاشی ناہمواری کاشکار ہوجاتاہے۔ چند مٹھیوں میں دولت سمٹ جاتی ہے اور ارتکاز دولت کی کوکھ سے بے شمار خرابیاں جنم لیتی ہیں۔
اسلام کے قانون میراث کی دوسری بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں طاقت ور اور کمزور کا یکساں طورپر خیال رکھاگیاہے۔ میراث میں جواں مردوں کی طرح عورتوں ، بچوں اور بوڑھوں کو بھی حصہ دیاگیاہے بلکہ کمزوروں کے حقوق کوزیادہ ہی وضاحت سے بیان کیاگیاہے تاکہ ان کے حقوق ہڑپ نہ لئے جائیں۔ دوسرے قوانین میراث میں عورتوں، بچوں کو یا تو میراث سے محروم کردیاگیاہے یاان کی حق تلفی کی گئی ہے۔
(ازکتاب: اسلام کانظام میراث۔ حضرت مفتی عتیق احمد صاحب بستوی)۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔۔۔۔۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!