اسلام کانظام میراث-(۳)

چنداور کوتاہیاں
ترکہ سے میت کے ذمہ عائد مالی حقوق اور قرضوں کی ادائیگی کے سلسلے میں متعدد کوتاہیاں کی جاتی ہیں۔ بعض مرنے والوں کے ورثہ ترکہ سے مالی حقوق اور قرضوں کی ادائیگی سے صاف انکار کرتے ہیں یا ٹال مٹول کرتے ہیں۔ حالانکہ انہیں معلوم ہوتاہے کہ مرنے والے شخص نے فلاں فلاں سے قرضے لئے تھے یا اس پر فلاں فلاں شخص کامالی حق باقی تھا۔یاد رکھئے کہ میت پردوسروں کے قرضے اور مالی حقوق باقی رہتے ہوئے وارثین کا ترکہ ہڑپ کرجانا سخت گناہ اورحرام خوری ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص دوسرے کا مال چرالے یاغصب کرلے۔
ایک کوتاہی اس وقت ہوتی ہے جب ترکہ کی مجموعی مقدار قرضوں اور مالی حقوق سے کم ہوتی ہے۔ جوقرض خواہ پہلے پہنچ جاتے ہیں وہ اپنا پوراقرض وصول کرلیتے ہیں اور جوقرض خواہ کسی وجہ سے تاخیر سے پہنچتے ہیں ان کا پورا قرض ڈوب جاتاہے ایک پیسہ بھی وصول نہیں ہوتا۔ ایسا کرنا کھلی ہوئی ناانصافی ہے۔ ہونا یہ چاہیے کہ قرض خواہوں اور مالی حقوق کا دعویٰ کرنے والوں کی فہرست بنائی جائے۔ قرضوں اور مالی دیون کی مجموعی تعداد اگر ترکہ کے اندر ہے تب تو ترکہ قرض خواہوں اور مالی حقوق کادعویٰ کرنے والوں پر ان کے قرض اورمالی حق کے تناسب سے تقسیم کیاجائے۔
تقسیم ترکہ کااسلامی طریقہ
بہرحال ترکہ میں پہلا حق یہ ہے کہ اگرمرنے والے کے ذمہ دوسروں کے قرضے یا مالی حقوق ہوں توپہلے ان کی ادائیگی کی جائے۔ قرضوں اور مالی حقوق کی ادائیگی کےبعد باقی ماندہ ترکہ کے ایک تہائی میں مرنے والے کی وصیت جاری کی جائے گی (بشرطیکہ مرنے والے نے کسی کے لئے کچھ مال کی وصیت کی ہو۔) ایک تہائی مال سے زیادہ میں وصیت جاری نہیں کی جائے گی، سوائے اس کے کہ تمام وارثین عاقل وبالغ ہوں اور سب کے سب بہ خوشی ترکہ میں میت کی پوری وصیت جاری کرنا چاہیں خواہ اس میں تہائی سے زائدمال صرف ہوجائے۔
میت کے ذمہ عائد مالی حقوق کی ادائیگی اوراجراء وصیت کے بعد باقی ماندہ ترکہ وارثین میں تقسیم کیا جائے گا، میراث کے بارے میں اسلام کاقانون بڑاجامع اورمنصفانہ ہے۔ میراث کے تقسیم کے مسئلہ کو اسلام نے نہ تو مرنےو الے کی صوابدید پر چھوڑاہے کہ مرنے سے پہلے وہ طے کرجائے کہ میرے مرنے کے بعد میرے ترکہ میں سے کسی عزیز وقریب کوکتنا دیاجائے اور نہ ہی تقسیم میراث حاکم وقت یاورثہ کی صوابدید پرچھوڑی گئی ہے بلکہ خود خدائے لطیف وخبیر نے قرآن کریم میں بڑی وضاحت اور تفصیل سے میراث کے مسائل بیان کردئے ہیں۔ ان مسائل کی مزید تفصیل رسول اللہ ﷺ کے فرامین میں آگئی ہے ۔ کون رشتہ دار وارث بنے گا کون نہیں، کس کو کس حال میں کتنا حصہ ملےگا ان سب باتوں کی وضاحت سنت میں کردی گئی ہے۔
(ازکتاب: اسلام کانظام میراث۔ حضرت مفتی عتیق احمد صاحب بستوی)۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔۔۔۔۔



