معجزاتِ حضرت رسول اکرمﷺ-۱۶

بارش سے متعلق معجزہ کا ظہور
اورحضرت انسؓکہتے ہیں کہ رسول کریمﷺ کے زمانہ میں ایک مرتبہ خشک سالی کی وجہ سے قحط پڑگیا، انہی دنوں نبی کریمﷺ جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک دیہاتی نے کھڑے ہوکر عرض کیا کہ یارسول اللہ! ہمارے مال واسباب مویشی اور باغات پانی نہ ملنے کی وجہ سے برباد ہوگئے اور اہل وعیال بھوکے بلبلارہے ہیں، آپ اللہ تعالیٰ سے ہمارے لئے دعافرمائیں کہ بارش ہوجائیں، آپ نے اپنے دست مبارک اٹھادیئے، اس وقت آسمان پر بادل کا ایک ٹکڑا بھی ہمیں نظرنہیں آرہاتھا، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے!آپ نے ابھی اپنے ہاتھ نہ چھوڑے تھے کہ اچانک پہاڑوں کی مانند بادل اٹھا اور آپ منبر سے نیچے نہ اترنے پائے تھے کہ میں نے دیکھا کہ بارش کا پانی آپ کی ریش مبارک پرگرنے لگا تھا پھر اس دن پانی برسا دوسرے روز برسا اور تیسرے روز برسا یہاں تک کہ دوسرے جمعہ تک اس بارش کا سلسلہ جاری رہا اور دوسرے جمعہ کو وہی دیہاتی یا کوئی اور کھڑا ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مکان گررہے ہیں اور مال واسباب ڈوب رہے ہیں آپ اللہ تعالیٰ سے ہمارے لئے دعا فرمائیے کہ بارش تھم جائے، آنحضرتﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور دعا فرمائی: اے اللہ ! ہمارے اطراف میں برسا ہمارے اوپر نہ برسا۔ آپ جس طرف اشارہ کرتے جاتے تھے ابر اس جانب سے کھلتا جاتاتھا یہاں تک کہ مدینہ ایک گول گُڈّے کی مانند ہوگیا اور وہ نالہ جس کانام قناۃ تھا ایک مہینہ تک بہتا رہااور ان اطراف سے جوبھی شخص آیا اس نے کثرت بارش ہونے کی خبردی۔ اور ایک روایت میں یہ ہے کہ آنحضرتﷺ نے یوں دعافرمائی: اے اللہ ! ہمارے اطراف میں برسا ! ہم پر نہ برسا، اے اللہ ! ٹیلوں پر، پہاڑوں پر، نالوں کے اندر اور درختوں کے اگنے کی جگہ پر برسا!۔ حضرت انسؓکا بیان ہے کہ ابربالکل کھل گیا اور ہم اس حال میں باہر نکلےکہ دھوپ میں چل رہے تھے۔(بخاری ومسلم)
توضیح: ’’یتحادر‘‘بارش کاپانی جب داڑھی وغیرہ کسی چیز پر گرنے اوربہنے لگتا ہے تو اس کو تحادر کہتے ہیں۔ ’’اللّٰھم حوالینا‘‘چونکہ یہ بارش آپ کی دُعا سے آئی تھی جس میں برکت ورحمت تھی، اس لئے آنحضرت ﷺ نے بند ہونے کی دُعا نہیں مانگی بلکہ فرمایا اے اللہ! اطراف میں برسادے ہم پرنہیں۔ ’’مثل الجوبۃ‘‘ جوبہ کھڈے کو کہتے ہیں بلکہ اس سے بہتر تعبیر حوض کی ہے کہ مدینہ کے اوپر بادل نہیں رہا اور اطراف میں بادل تھا تواوپرفضاء بھی حوض کی مانند تھی اور نیچے زمین بھی حوض کی مانند تھی۔ ’’قناۃ‘‘ پانی جب زمین کے نیچے چلا جاتاہے تونالوں کی شکل اختیار کرتاہے ، اسی کو قناہ کہتے ہیں فارسی میں اس کو ’’کاریز‘‘ کہتے ہیں ۔ قناۃ اصل میں نیزہ کو کہتے ہیں یہ پانی بھی نیزہ کی طرح سیدھا چلتاہے یہاں قناۃ ایک وادی کا نام بھی ہوسکتا ہے۔ ’’بالجود‘‘ یعنی سب نے کہاکہ زبردست عمدہ بارش ہوئی ہے۔ ’’الاٰکام‘‘ یہ جمع ہے اس کا مفرد اکمۃ ہے ٹیلہ کو کہتے ہیں۔ ’’والظراب ‘‘ جمع ہے اس کا مفرد ظرب، کتف کے وزن پر ہے چھوٹے پہاڑ کو کہتے ہیں۔’’بطون الاودیۃ‘‘ وادیوں کے درمیانی علاقے جو آبادی سے خالی ہوں۔ ’’منابت الشجر‘‘ مراد جنگلات ہیں جہاں درخت ہوں، ان کی جڑوں میں بارش ہو، تاکہ درخت خوب پھلیں پھولیں۔ ’’فاقلعت‘‘یعنی بادل چھٹ گیا۔ اس حدیث میں تصریح ہے کہ دُعا کے وقت ہاتھ اٹھانا ثابت ہے، یہ آداب دُعا میں سے ہے، ابوطالب نے اس منظر کو اس طرح پیش کیاہے۔
وابیض یستسقی الغمام بوجھہ———-ثمال الیتامی عصمۃ للارامل
بہرحال اس حدیث میں بارش سے متعلق کئی معجزات کا ظہور ہوگیاہے۔
استطوانۂ حنّانہ میں معجزہ کاظہور
اورحضرت جابرؓکہتے ہیں کہ نبی کریمﷺ جب خطبہ ارشاد فرماتے تھے تو کھجور کے اس سوکھے تنے سے ٹیک لگاکر کھڑے ہوتے تھے جو ایک ستون کے طورپر مسجد میں کھڑاتھا، پھر جب منبر تیار ہوگیا اور آنحضرتﷺ خطبہ پڑھنے کے لئے اس پر کھڑے ہوئے تو کھجور کا وہ تنا جس سے آپ ٹیک لگاکر خطبہ ارشاد فرماتے تھے چلانے لگا اور قریب تھا کہ وہ آنحضرتﷺ کے فراق کی اذیت کی شدت سے پھٹ جائے کہ نبی کریم ﷺ(منبر سے) اترے اور اس کے پاس جاکر اس کو پکڑا اور پھر اس کو گلے لگایا اس کے بعد تو اس ستون نے اس بچے کی طرح رونا شروع کردیا جس کو چپ کرایاجاتاہے آخر کار اس ستون کو قرار آگیا اور وہ چپ ہوگیا۔ پھر آنحضرتﷺ نے بیان فرمایا یہ ستون اس وجہ سے رویا کہ جو ذکر سنتا تھا اس سے محروم ہوگیا۔(بخاری)
توضیح: ’’صاحت‘‘رونے کی وجہ سے چیخ اُٹھا۔’’تنشق‘‘پھٹنے کے معنی میں ہیں۔ ’’تأن‘‘أنّ یأنّ ضرب یضرب سے ہے، بچہ جب رو روکر سسکیاں بھرنے لگتا ہے اس کو انین کہتےہیں، اس درخت میں معجزہ کاظہور ہوگیا کہتے ہیں کہ یہ درخت جنت میں جائے گا ، ذرا سوچئے کہ خشک درخت حضورﷺ کے فراق میں روتا ہے مگر غافل انسان غفلت میں پڑا ہے!
سنگے ونباتے کہ درو خاصیتے نیست———-بہ زآدمی کہ درو معرفتے نیست
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رضي الله عنه، أَنَّ رَجُلًا أَكَلَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بِشِمَالِهِ، فَقَالَ: «كُلْ بِيَمِينِكَ»، قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ، قَالَ: «لَا اسْتَطَعْتَ»، مَا مَنَعَهُ إِلَّا الْكِبْرُ، قَالَ: فَمَا رَفَعَهَا إِلَى فِيهِ. (رواہ مسلم)
اورحضرت سلمہ ابن اکوعؓسے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول کریمﷺ کے سامنے بائیں ہاتھ سے کھایا توآپ نے اس کو نصیحت فرمائی کہ دائیں ہاتھ سے کھاؤ۔ اس شخص نے جواب دیا کہ میں داہنے ہاتھ سے نہیں کھاسکتا۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا تمہیں داہنے ہاتھ سے کھانے پر کبھی قدرت نہ ہو۔ اس شخص نے گھمنڈ میں آکر داہنے ہاتھ سے نہیں کھایاتھا۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ شخص اپنا داہنا ہاتھ منہ تک پہنچانے پر کبھی قادر نہیں ہوسکا۔ (مسلم)
ایک سواری میں معجزہ کا ظہور
اورحضرت انسؓ سے روایت ہے کجہ ایک مرتبہ اہل مدینہ گھبراگئے اور چیخ وپکار کرنے لگے ، نبی کریمﷺ ابوطلحہ ؓ کے گھوڑے پر جو بہت سست رفتار اور مٹّھا تھا سوار ہوکر تشریف لےگئے اور جب واپس آئے تو فرمایا کہ ہم نے تمہارے گھوڑے کو پانی کی طرح (تیز رو اور کشادہ قدم) پایا، پس وہ گھوڑا ایسا تیز رفتار ہوگیا کہ کوئی گھوڑا اس سے آگے توکیا اس کے ساتھ بھی نہیں چل سکتاتھا ۔ اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیںکہ پس اس دن کے بعد کوئی گھوڑا اس سے آگے نہیں بڑھ سکتاتھا۔ (بخاری)
توضیح: ’’بطیئا‘‘یعنی سست رفتار گھوڑاتھا۔’’یقطف‘‘ قریب قریب قدم رکھ کر چلنے والے گھوڑے کو قطوف کہتے ہیں۔ ’’بحراً‘‘ یعنی یہ گھوڑا تو سمندر کی طرح تیز چلتاہے یا اس کی رفتار تو سمندر کی طرح مسلسل ہے کبھی ختم نہیں ہوتی، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی چیز کے کمال پر اس کی تعریف جائز ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ تعریف میں مبالغہ کرنابھی جائز ہے جبکہ محدود دائرہ میں ہو۔ ’’لایجاری‘‘ مجارات سے ہے، مقابلہ کے معنی میں ہے یعنی کوئی گھوڑا اس کا مقابلہ نہیں کرسکتاتھا کیونکہ آنحضرت ﷺ کے سوار ہونے سے اس میں معجزہ کا ظہور ہوگیاہے۔(مشکوٰۃ شریف۔۔۔جلد نمبر۸)۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ



