مَضَامینِ رَمضَانُ المُبَارک- (۱۶)——اعتکاف

رمضان المبارک اور بالخصوص اس کے آخری عشرہ کےا عمال میں سے ایک عمل اعتکاف بھی ہے، اعتکاف کی حقیقت یہ ہے کہ ہر طرف سے یک سو ہوکر مسجد میں رہے اور خدا کی عبادت اور اس کے ذکر میں لگارہے اعتکاف کی نیت کرکے مسجد میں داخل ہو اور سوائے ایسی حاجاتِ ضروریہ کے جو مسجد میں پوری نہ ہوسکیں جیسے پیشاب، پاخانہ کی ضرورت، غسل واجب یا وضو کی ضرورت، مسجد سے باہر نہ جائے (۲) رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرنا سنت مؤکدہ علی الکفایہ ہے، یعنی اگر بڑے شہر کے ہر محلہ میں اور چھوٹے دیہات کی ہربستی میں کوئی بھی اعتکاف نہ کرے توسب پر ترکِ سنت کاوبال رہے گا، اور کوئی ایک بھی محلہ میں اعتکاف کرلے تو سب کی طرف سے سنت ادا ہوجائے گی(۳) اعتکاف میں کوئی خاص عبادت متعین نہیں، نماز ، تلاوت کلام پاک ، دینی کتابوں کاپڑھنا یاذکر اللہ کرنا، غرض جو عبادت بھی چاہے کرتارہے (۴) جس مسجد میں اعتکاف کیاگیاہے اگر اس میں جمعہ نہیں ہوتا تو نماز جمعہ کے لیے اندازہ کرکے ایسے وقت مسجد سے نکلے کہ جامع مسجد میں پہنچ کر سنتیں ادا کرنے کے بعد خطبہ سن سکے، اور اگر اس سے کچھ پہلے مسجد میں چلاگیا توبھی اعتکاف میں خلل نہیں پرے گا۔ (۵) اگر بلاضرورت طبعی وشرعی تھوڑی دیر کے لیے بھی مسجد سے باہر چلاجائے گا تو اعتکاف جاتارہے گا خواہ جان بوجھ کر نکلے یابھول کر، اس صورت میں رمضان کے بعد روزے کے ساتھ ایک دن کے اعتکاف کی قضا واجب ہوگی۔ (۶) اگرآخری عشرہ کا اعتکاف کرنا ہوتو اعتکاف کی نیت سے بیس تاریخ کوغروب آفتاب سے پہلے مسجد میں داخل ہو اور جب عید کاچاند نظرآئے تب اعتکاف سے باہر نکلے(۷) غسل جمعہ یامحض گرمی سے پریشان ہوکر غسل کے واسطے مسجد سے باہر نکلنا معتکف کے لیے جائز نہیں (۸) معتکف کو لڑائی جھگڑے اور فضول باتوں سے بچنا چاہیے ، مسجد کے احترام کے خلاف بھی کوئی کام نہ کرنا چاہیے۔
مسائل اعتکاف
اعتکاف کے لغوی معنی: اعتکاف کے لغوی معنی ٹھہرنا ، شرعی معنی مسجد میں اعتکاف کی نیت سے ٹھہرنا، یعنی مرد کاایسی مسجد میں جس کاامام ومؤذن مقرر ہو اور عورت کا اپنے گھر کی مسجد میں اعتکاف کی نیت سے ٹھہرنا۔ (شامی۔؍صفحہ ۱۴۰،جلد ۲)
مسئلہ:اعتکاف کیلئے تین چیزیں ضروری ہیں (۱) اعتکاف ایسی مسجد میں کرے جہاں جماعت ہوتی ہو(۲) بہ نیت اعتکاف ٹھہرنا ، بغیر قصد وارادہ کے ٹھہرنے کواعتکاف نہیں کہتے، چونکہ نیت کے صحیح ہونے کیلئے نیت کرنے والے کامسلمان اور عاقل ہونا شرط ہے، لہٰذا عقل واسلام کا شرط ہونابھی نیت کے ضمن میں آگیا(۳) حیض ونفاس سے خالی اور پاک ہونا اور جنابت سے پاک ہونا(علم الفقہ۔ص ۵۲۔ج۳)
مسئلہ: اعتکاف کی تین قسمیں ہیں (۱) واجب(۲) سنت مؤکدہ(۳) مستحب، واجب یہ ہے کہ اگر نذرمانی خواہ غیر معلق ہوجیسے کوئی شخص بغیر کسی شرط کے اعتکاف کی نذر کرے یا معلق جیسے کوئی شخص یہ شرط کرے کہ اگر میرا فلاں کام ہوجائے گا تو میں اعتکاف کرونگا اور سنت مؤکدہ یہ ہے کہ رمضان شریف کے اخیر عشرہ میں اعتکاف کرے، اس عشرہ میں نبی ﷺ سے بالالترام اعتکاف کرنا احادیث صحیحہ میں منقول ہے، مگریہ سنت مؤکدہ بعض کے کرلینے سے سب کے ذمہ سے اتر جائے گی اور مستحب یہ کہ رمضان کے اخیر عشرہ کے علاوہ کسی اور زمانہ میں خواہ وہ رمضان کاپہلا یا دوسرا عشرہ ہویا اورکوئی مہینہ ہو اعتکاف کرے( شامی ؍ص۱۴۱؍ج۲؍ علم الفقہ ؍ص ۵۳، ج۳)
مسئلہ: حالت اعتکاف میں بالکل چپ بیٹھنا بھی مکروہ تحریمی ہے، ہاں بُری باتیں زبان سے نہ نکلے، جھوٹ نہ بولے، غیبت نہ کرے بلکہ قرآن مجید کی تلاوت یاکسی دینی علم کے پڑھنے پڑھانے یا کسی اور عبادت میں اپنے اوقات صرف کرے، خلاصہ یہ ہے کہ چپ بیٹھنا کوئی عبادت نہیںاور معتکف مریض کی عیادت اور نماز جنازہ کیلئے نہ نکلے اسلئے کہ مریض کی عیادت فرض نہیں اور نماز جنازہ بھی فرض عین نہیں ہے(بدائع ؍ص۱۱۴؍ج۲)
مسئلہ: بیڑی سگریٹ پینے کاعادی شخص استنجا وغیرہ کیلئے مسجد سے باہر نکلتے وقت اس ضرورت کو پورا کرسکتا ہے خاص اس ضرورت سے مسجد سے باہر نہ جائے۔ (فتاویٰ رحیمیہ ج۵؍ ص ۲۰۲)۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ



