مدھیہ پردیش کے بھوپال میں 14 سے 17 نومبر تک عالمی تبلیغی اجتماع کا انعقاد

بھوپال:(ایجنسیز) 12 نومبر: مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال کے کروند علاقے کے اینٹ کھیڑی میدان میں دنیا کے سب سے بڑے سالانہ مذہبی اجتماعات میں سے ایک، عالمی تبلیغی اجتماع کا انعقاد 14 سے 17 نومبر تک کیا جا رہا ہے۔اس چار روزہ اجتماع کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ اس کے لیے بدھ، 12 نومبر سے ملک و بیرونِ ملک سے جماعتوں کی آمد شروع ہو جائے گی۔ تین دن تک ملک اور دنیا کے مختلف حصوں سے لاکھوں جماعتی سڑک اور دیگر ذرائع سے یہاں پہنچیں گے۔ اس بار بھوپال جنکشن پر تقریباً 12 لاکھ جماعتیوں کے پہنچنے کی توقع ہے۔ اسے مدنظر رکھتے ہوئے ریلوے نے اپنی تیاریاں شروع کر دی ہیں، جن میں 150 آر پی ایف جوانوں کی تعیناتی، موبائل یو ٹی ایس کی سہولت، اور بعض ٹرینوں میں عام کوچز کی تعداد میں اضافہ شامل ہے۔اجتماع کمیٹی کے اراکین نے بتایا کہ بدھ سے ملک کے مختلف حصوں سے جماعتوں کا بھوپال پہنچنا شروع ہو جائے گا۔ سب سے زیادہ بھیڑ جمعہ سے اتوار کے درمیان رہنے کی توقع ہے، جس کے لیے ریلوے اور انتظامیہ نے مشترکہ طور پر انتظامات کو مضبوط کیا ہے۔ اجتماع کے مقام پر اس وقت 120 ایکڑ میں وسیع پنڈال تیار ہو رہا ہے۔ ہزاروں رضاکار پنڈال، کھانے پینے، پانی کی فراہمی اور روشنی کے انتظامات میں مصروف ہیں۔ تیاریوں کا تقریباً 95 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ اجتماعی دعا کے ساتھ 17 نومبر کو اجتماع کا اختتام ہوگا۔ اس بار تقریباً 12 لاکھ سے زائد جماعتیوں کی آمد متوقع ہے۔اجتماع کمیٹی کے میڈیا انچارج ڈاکٹر عمر حفیظ نے بتایا کہ گزشتہ سال کے مقابلے اس بار تیاریوں میں 20 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ پارکنگ ایریا کو بڑھا کر 350 ایکڑ تک کر دیا گیا ہے۔ پچھلے سال جہاں 66 پارکنگ زون تھے، وہیں اس بار 71 پارکنگ زون بنائے جا رہے ہیں۔ پنڈال کا رقبہ بھی 100 ایکڑ سے بڑھا کر 120 ایکڑ کر دیا گیا ہے۔ سروس ایریا، واٹر کلوز، فوڈ زون اور ایوولوشن سینٹر سمیت تقریباً 200 ایکڑ میں انتظامات کیے گئے ہیں۔ وہیں بھوپال ریلوے اسٹیشن کے تمام پلیٹ فارمز سے لے کر نادرہ بس اسٹینڈ احاطے تک 850 پولیس اہلکار، جن میں آر پی ایف، جی آر پی، تھانہ پولیس اور ڈائل-112 کے جوان شامل ہیں، مسلسل تعینات رہیں گے۔ ان کی ڈیوٹی ہجوم کے نظم و نسق، سیکورٹی اور ٹریفک کنٹرول کے لیے لگائی گئی ہے۔ڈاکٹر حفیظ نے بتایا کہ اجتماع کے مقام کی تمام تر ذمہ داری 30 ہزار تربیت یافتہ اور تجربہ کار افراد کے سپرد کی گئی ہے۔ ان میں 25 ہزار رضاکار اجتماع کمیٹی سے وابستہ ہیں، جبکہ 5 ہزار عملہ نگر نگم، انتظامیہ اور پولیس فورس سے منسلک ہے۔ یہ ٹیمیں صفائی، سیکورٹی، ٹریفک اور پنڈال کے نظم و نسق کی دیکھ بھال کریں گی۔ اسی کے ساتھ فائر بریگیڈ کی ٹیم بھی چوبیسوں گھنٹے اجتماع گاہ پر موجود رہے گی۔ فائر فائٹر گاڑیوں کو مختلف مقامات پر تعینات کیا جا رہا ہے۔ ریلوے اسٹیشن پر تقریباً 500 رضاکار فی شفٹ خدمات انجام دیں گے۔دوسری جانب، ریلوے نے بھی اجتماع کے پیشِ نظر سخت سیکورٹی انتظامات کیے ہیں۔ اس کے لیے 150 اضافی آر پی ایف جوان اسٹیشن پر تعینات رہیں گے، جو ہر پلیٹ فارم پر نگرانی رکھیں گے۔ ہجوم کے نظم و ضبط، مسافروں کی حفاظت اور ٹرینوں کی روانی برقرار رکھنے کے لیے اہلکاروں کو چوکسی کے ساتھ ڈیوٹی پر لگایا گیا ہے تاکہ کسی طرح کی بدنظمی نہ ہو۔ اس کے علاوہ 24 اضافی ٹکٹ اسٹاف بھی تعینات کیا جائے گا، جس کی تعداد ضرورت کے مطابق بڑھائی جا سکتی ہے۔بھوپال ریلوے اسٹیشن کے احاطے میں بہتر ٹریفک اور سیکورٹی انتظامات قائم رکھنے کے لیے پلیٹ فارم نمبر 6 کے نزدیک موجود پارکنگ کو 17 نومبر تک عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ اس دوران مسافروں کو بھوپال اسٹیشن کے پلیٹ فارم نمبر ایک کی جانب یا دیگر دستیاب پارکنگ مقامات استعمال کرنے ہوں گے۔ روزانہ آنے والے مسافروں کے لیے علیحدہ انتظامات کیے جائیں گے۔بھوپال ریلوے ڈویژن نے مسافروں کی سہولت کے لیے ایک نئی پہل بھی کی ہے۔ اب اسٹیشن پر ٹکٹ کے لیے لمبی قطار میں لگنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ جلد ہی ٹی ٹی ای گھومتے ہوئے مسافروں کو ایم-یو ٹی ایس مشین سے ٹکٹ جاری کریں گے۔ یہ ہینڈ ہیلڈ مشین ایک چھوٹے پرنٹر سے لیس ہے، جس سے فوری طور پر ٹکٹ نکل جائے گا۔ فی الحال تین مشینیں دستیاب ہیں، جن میں دو بھوپال اسٹیشن اور ایک اٹارسی اسٹیشن کے ٹی ٹی ای کو دی جائے گی۔ اس سہولت سے ٹکٹ کاونٹر پر بھیڑ کم ہوگی اور مسافروں کا وقت بچے گا۔ پہلے اس کا کامیاب استعمال پریاگ راج کُمبھ میلے میں کیا جا چکا ہے۔قابل ذکر ہے کہ دنیا بھر میں صرف تین ہی ممالک ایسے ہیں جہاں سالانہ عالمی اجتماع منعقد ہوتا ہے، جن میں بنگلہ دیش، پاکستان اور ہندوستان شامل ہیں۔ ہندوستان میں یہ اجتماع مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں ہوتا ہے۔ یہاں عالمی اجتماع کی شروعات 1947 میں ہوئی تھی۔ شہر میں واقع مسجد شکور خان میں پہلا اجتماع منعقد ہوا، جس میں اس وقت بھوپال سمیت ملک کے مختلف علاقوں سے تقریباً 13 افراد شریک ہوئے تھے۔ یہ اجتماع 1970 تک مسجد شکور خان میں جاری رہا، لیکن جگہ کی کمی کے سبب 1971 سے اسے بھوپال کی سب سے بڑی مسجد تاج المساجد میں منتقل کر دیا گیا۔آہستہ آہستہ ملک اور دنیا کے دیگر حصوں سے آنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا اور یہ مقام بھی چھوٹا پڑنے لگا۔ اس کے بعد سے 2003 میں اجتماع کو شہر سے تقریباً 14 کلومیٹر دور، بیرسیا روڈ کے اینٹ کھیڑی علاقے میں واقع گھاسی پورہ منتقل کیا گیا۔ تب سے اب تک یہاں یہ اجتماع پرامن انداز میں منعقد ہو رہا ہے۔ بھوپال میں اس بار ہونے والا اجتماع 78 واں عالمی تبلیغی اجتماع ہے۔



