سبھی کو یوم آزادی مبارک

آزادی کی منزل قریب آگئی
۱۹۴۵ء کے نصفِ آخر میں ہندوستان کی سیاست نے آندھی اور طوفان بن کر پورے ملک کواپنی لپیٹ میں لے لیاتھا، عالیشان محلوں سے لے کر جھونپڑوں تک ، راجوں اور مہاراجوں ، نوابوں اور جاگیرداروں کے قلعوں سے لے کر کسانوں اور مزدوروں کی چوپالوں تک ایک ہی تذکرہ تھا، آزادی اور آزادی، ایک نئے انقلاب کی آمد آمد کا شور اور ہنگامہ، ملک میں ایک عجیب طرح کا خلفشار پھیلاہواتھا، ہردل اُمیدوبیم، یاس و قنوطیت کے مشترک اور ملے جلے جذبات کے ساتھ حالات کا مشاہدہ کررہاتھا، واقعات کی تیز رفتاری بتارہی تھی کہ کچھ نہ کچھ ہونے والاہے، نااُمیدی کی گہری اور کالی گھٹا چھٹنے والی ہے اور آزادی کا مہر درخشاں مطلع اُمید پر اپنی ساری تابانیوں کے ساتھ جلوہ گرہونے والاہے، حالات بنتے اور بگڑتے رہے برطانوی حکومت کا بدلا ہواطرز عمل اُمید ویقین کی نئی فضا پیدا کررہاتھا کبھی کبھی تو ایسا محسوس ہورہاتھا کہ حکومت کہہ رہی ہے۔
ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں
لیگ کی بار بار رخنہ اندازیوں سے حالات بن بن کر بگڑجاتے تھے، منزل قریب آتے آتے یک بیک نگاہوں سے اوجھل ہوجاتی تھی، اُمید کی ایک تیز کرن نمودار ہوتی تھی پھر یک بیک نا اُمیدی اور مایوسی کا کہرا پوری فضا پرچھا جاتاتھا، پاکستان کے جنون نے سمجھوتہ کی راہ میں اکثر روڑے اٹکائے۔
عوام اب ایسا محسوس کرنے لگے تھے جیسے عروسِ آزادی آگے پیچھے یہیں کہیں قریب ہی چھپی ہوئی ہے، آنکھ مچولی کھیل رہی ہے، تصور کے ہاتھوں نے کئی بار اس کا گریبان پکڑنا چاہا، لیکن وہ ایک چھلا وہ کی طرح ہاتھوں کی دسترس سے باہر ہوگئی، ایسا سمجھا جارہاتھا کہ وہ ہمارے جذبۂ صادق اور ہماری قوتِ عمل کا امتحان لے رہی ہے، اور ادھر ہندوستان کے عوام نے تہیہ کررکھا تھا کہ وہ اس امتحان میں کامیاب ہوکر رہیں گے ، ناکامی کی کوئی وجہ نہیں۔
لارڈ دیول وائسرائے ہند کی پہلی شملہ کانفرنس صرف ایک مسلم نشست کے مسئلہ کو لے کر ناکام ہوگئی تھی، لیکن بین الاقوامی حالات اور خود ہندوستان کے اندرجذبۂ آزادی کے کوہِ آتش فشاں نے وہ صورت حال بنادی تھی کہ برطانوی حکومت، آزادی کو بہت دیر تک ملتوی نہیں کرسکتی تھی، ہندوستان کی خوش قسمتی تھی کہ اسی دوران برطانوی پارلیمنٹ میں بھی انقلاب آگیا، ۲۵ برسوں کی جدوجہد کے بعد لیبر پارٹی نے چرچل کی کنزرویٹیو پارٹی کو شکست دے کر زمامِ حکومت اپنے ہاتھ میں لے لی تھی، مسٹر ایٹلی جواب برطانیہ کے وزیراعظم ہوئے بہت پہلے سے ہندوستان کے مسائل میں دلچسپی لے رہے تھے۔
لارڈ دیول وائسرائے ہند شملہ کانفرنس کی ناکامی کے بعد لیبر گورنمنٹ سے صلاح ومشورہ کے لئے دوبارہ اگست ۱۹۴۵ء میں لندن گئے، ملکِ معظم نے نئی پارلیمنٹ کا افتتاح کرتے ہوئے اپنے سلسلہ تقریر میں ہندوستان کو حکومتِ خود اختیار دینے کا ذکر کیاتھا، لارڈ دیول، وزیراعظم مسٹر ایٹلی اور وزیر ہند لارڈ پیتھک لارنس اور دوسرے وزراء نے صلاح ومشورہ کے بعد ۱۶؍ستمبر ۱۹۴۵ء کو ہندوستان واپس آئے، انہوں نے آتے ہی آل انڈیا ریڈیو سے ایک تقریر نشر کی ،جس میں انہوں نے کہاکہ ہندوستان میں مرکزی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات جلد ازجلد کرائے جائیں گے۔
نئے حالات نئی سرگرمیاں
وائسرائے کے اس اعلان کے بعد سیاسی پارٹیاں سرگرم عمل ہوگئیں اورپورے ملک میں جلسوں اور جلوسوں کاسیلاب آگیا اور فلک شگاف نعروں کی دھوم مچ گئی ،ہرچھوٹی بڑی آبادی میں پارٹیوں کے الکشن دفاترکھل گئے الکشن اور پروپیگنڈہ کی تیاریاں شروع کردی گئیں۔
یہ الیکشن درحقیقت ہندوستان میں آزادی کا پہلا زینہ تھا اوریہی الیکشن آزاد ہندوستان میں مسلمانوں کے مستقبل کا فیصلہ کرنے والاتھا، یہ الیکشن کسوٹی تھا مسلم لیگ کے دعویٰ واحد نمائندگی کا اور کانگریس کے اس دعویٰ کاکہ وہ ہندوستان کے ہر فرقہ کی نمائندہ جماعت ہے، الیکشن فرقہ وارانہ بنیاد پر تھا، مسلمانوں کوصرف مسلم اُمیدواروں کو منتخب کرناتھا ، اس طرح براہِ راست مقابلہ مسلم لیگ اور نیشنلسٹ جماعتوں میں جمعیۃ علماء کے درمیان ہوگیا، اگر مسلم لیگ اس الیکشن کے میدان میں سرخ رو ہوکر نکلتی ہے تو کوئی طاقت اس کو پاکستان حاصل کرنے سے نہیں روک سکتی اس لئے مسلم لیگ نے اپنی ساری طاقت اور اپنے سارے حربے اس الیکشن میں استعمال کئے۔
تیز رفتار سیاسی تبدیلیاں
اب ملک کے سامنے نئی راہیں اور نئی منزلیں تھیں ، الیکشن کی سرگرمیاں ابھی ملک میں کہیں کہیں جاری تھیں اور کئی علاقوں میں انتخابات باقی تھے کہ وزیراعظم برطانیہ مسٹر ایٹلی نے اپنی تقریر میں ہندوستان کے متعلق بہت اُمید افزاباتیں کہیں، انہوں نے لندن پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے ہندوستان کے بارے میں کہاکہ:
’’اب ہندوستان میں آزادی کا جذبہ عام ہوچکاہے اور اب ہرشخص اور ہر جماعت آزادی کا مطالبہ کرنے لگی ہے، پولیس اور فوج میں بھی وطنیت کا احساس بڑھتا جارہاہے ، اس لئے اب زیادہ دنوں ہندوستان کوغلام نہیں بنایا جاسکتا، اب وقت آگیا ہے کہ ہم سنجیدگی کے ساتھ ہندوستان کے مسئلہ پر غورکریں اور اس کا صحیح حل تلاش کریں۔‘‘
اورپھر انہوں نے عملی اقدامات کابھی آغاز کردیا، آزادی طلب کرنے والے لیڈروں سے انتقالِ اختیارات کی ذمہ دارانہ گفتگو کے لئے ایک وزارتی مشن ہندوستان بھیجا جس میں وزیر ہند لارڈ پیتھک لارنس، سراسٹیفورڈ کرپس ، اور جنرل الگزینڈر شامل تھے، یہ مشن ۲۲؍مارچ ۱۹۴۶ء کو کراچی پہونچا ، یکم اپریل ۱۹۴۶ء سے مشن نے ہندوستان کے لیڈروں سے ملاقاتیں شروع کردیں، ہندوستانی لیڈروں سے ملاقاتوں اور گفتگوؤں سے حالات کا صحیح جائزہ لینے اور ہر ایک کا آئیڈیا سمجھ کر وفد نے اپنی سفارشات پر یس کو دیدیں، انہیں سفارشات کی بنیاد پر ۲؍ستمبر ۱۹۴۶ء کو انٹریم گورنمنٹ(عبوری حکومت) کا قیام عمل میں آیا ، جو ایک سال تک رہی جس کے تمام ارکان ہندوستانی تھے۔
آزادی کی پہلی قسط
ہندوستان میں ہندوستانیوں کی عارضی حکومت قائم ہوچکی، پنڈت جواہر لال نہرو صدر کانگریس اس کے وزیراعظم بنائے گئے اور سردار پٹیل وزیرداخلہ اور وزیر مالیات نواب زادہ لیاقت علی خان ، ۹؍دسمبر ۱۹۴۶ء کو مجلس دستور ساز ہند کی رسم افتتاح ادا کی گئی اس افتتاحی اجلاس میں مسلمانوں کی نمایاں شخصیتوں میں مولانا ابوالکلام آزاد، خان عبدالغفار خان (وفات ۲۲؍ جنوری ۱۹۸۸ء) مسٹر آصف علی بیرسٹر دہلی اور رفیع احمد قدوائی رونق افروز تھے اور دسمبر ۱۹۴۶ء کو ڈاکٹر راجندر پرشاد کو بالاتفاق دستور ساز اسمبلی کا صدر منتخب کیاگیا ، تمام صوبوں میں منتخب شدہ نمائندوں پر مشتمل حکومتیں قائم ہوچکی تھیں، اب وائسرے ہند لارڈ دیول کی جگہ ایڈمرل دائیکاؤنٹ ماؤنٹ بیٹن وائسرائے ہند بنکر دہلی آئے۔
تدبیر پرتقدیر غالب ہوگئی
نوے سالوں کی آزادی کی جدوجہد، بے انتہاء قربانیوں اور لامحدود جاں نثاریوں کے باوجود ہندوستان کا مسلمان بدقسمت نکلا، آزادی کی منزل قریب آتے ہی پانسہ پلٹ گیا ۔ مخلص مجاہدین آزادی کے ہاتھوں سے عنانِ قیادت نکل کر غلط قیادت کے ہاتھوں میں چلی گئی اور ملک تقسیم کا شکار ہوگیا اور اس تقسیم کے سارے مصائب بھی اُسے جھیلنے پڑے، ہم نے خود اپنے ہاتھوںاپنی تباہیوں کودعوت دی، کروڑوں افراد خانماں برباد ہوئے، ہزاروں ہزار مسلمانوں کی بوٹیاں کاٹ کر پھینک دی گئیں ، بے شمار عفت مآب پردہ نشین خواتین اغوا کی گئیں، ان کا دامنِ عصمت تار تار ہوا اور پوری زندگی غیر مسلم بن کر زندگی گزاری ، لاکھوں افراد کے آبا واجداد کی ڈیوڑھیاں چھُٹ گئیں اور وطن سے بے وطن ہوئے اور مطلوبہ پاکستان میں جاکر بھی مہاجر کہلائے او وہ محبت، وہ سکون، وہ اپنائیت نصیب نہ ہوسکی جوہرشخص کو اپنےو طن میں ملتی ہے۔
تقسیم کا حشر ، پاکستان ، بنگلہ دیش ، بہاری مسلمان، ہندوستان میں رہ جانےو الے مسلمان ہر ایک کو پیش نظر کردیکھاجائے تو پتہ چلتاہے کہ کسی قوم کی سیاسی زندگی میں ایک قدم بھی غلط اٹھ جاتاہے تو پوری قوم کو کتنا عذاب بھگتنا پڑتا ہے ، شاید پاکستان کانعرہ لگانے والے مخلص رہنما زندہ ہوتے تو انہیں یہی کہنا پڑتا کہ پاکستان کامطالبہ ایک زبردست سیاسی غلطی تھی مگر اب اس ذکر سے کیا حاصل؟
سفینہ اپنا کنارے جب آلگا غالب
خدا سے کیا ستم و جورِ ناخدا کہیے
تقسیم کا فیصلہ
۳؍جون ۱۹۴۷ء کو لارڈ ماؤنٹ بیٹن وائسرائے ہند نے ملک کی تقسیم کا اعلان کیا اور اس کو تسلیم کرلیا، اس کی تائید مسٹر جناح، پنڈت جواہر لال نہرو اور سردار بلدیو سنگھ نے کی ۔ ۱۴؍جون ۱۹۴۷ء کو کانسٹی ٹیوشن ہاؤس نئی دہلی میں کانگریس کی ورکنگ کمیٹی کااجلاس ہوا اور مسٹر ولبھ پنت وزیراعلیٰ اترپردیش نے کمیٹی کے سامنے تقسیم ہند کی تجویز پیش کی اور کانگریس کی اصول شکنی پر مہر تصدیق ثبت کردی۔
کانگریس نے ہمیشہ متحدہ قومیت کانعرہ لگایا اور متحدہ ہندوستان کی آزادی کی علمبردار رہی لیکن اسی کانگریس کی ورکنگ کمیٹی میں تقسیم ند کی تجویز پیش ہوتی ہے اس سے اس کا پچاس سالہ تاریخی کردار ملیا میٹ ہوگیا، کانگریس انگریزوں کو ہندوستان سے نکالنے میں ضرور کامیاب ہوگئی لیکن اگر بااصول جماعت کی کامیابی کا دارومدار اس کے اصولوں کی کامیابی پر رکھاجائے تو یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ کانگریس ناکام ہوگئی اور مسلم لیگ کے مقابلے میں شکست کھاگئی اگر وہ اپنے اصولوں پرمضبوطی سے جمی رہتی توممکن تھا کہ غلامی کی مدت کچھ اور دراز ہوجاتی اور آزادی کی منزل تک پہونچنے میں مزید کچھ اور مصائب جھیلنے پڑتے لیکن آزادی ہندوستان کو مل کررہتی اور اپنے اصولوں کے مطابق ملتی، پنڈت ولبھ پنت نے جب تجویز پیش کی تو اس کی تائید میں مولانا ابوالکلام آزاد نے جو بات کہی وہ اعترافِ شکست کے سوا اور کچھ نہیں، آپ نے فرمایا کہ:
’’حالات نے ہردماغ کو مجبور کردیاہے کہ جو حل بھی موجودہ الجھاؤ کو ختم کرسکتا ہو اس کو تسلیم کرے، کانگریس کے سامنے یہ سوال نہیں تھا کہ کون سا منصوبہ منظور کیاجائے، بلکہ سوال یہ تھا کہ گومگو اور غیر اطمینان کی موجودہ تباہ کن حالت باقی رہے یا سب سے پہلی فرصت میں اسکو ختم کردیاجائے، کانگریس متحدہ ہندوستان کے نظریہ سے جدا نہیں ہوئی لیکن وہ حقِ خودارادیت کوبھی تسلیم کرچکی ہے جو علاقے یونین میں شامل نہ ہونا چاہیں انہیں مجبور کرنے کے خلاف ہے۔‘‘
تجویز منظور کرلی گئی
ورکنگ کمیٹی میں کسی ممبر نے اس تجویز کی مخالفت میں ایک لفظ بھی نہیں کہا البتہ ایک کمزور مگر عزم ویقین کی بھرپور قوت کے ساتھ آواز اُبھری جو نیشنلسٹ مسلمانوں کے قابل احترام مجاہد کی تھی جس کو قوم احترام کی وجہ سے مجاہدِ ملت کہتی تھی وہ تھے مولانا حفظ الرحمٰن سیوہاروی انہوں نے اس تجویز کی مخالفت میں ایک مختصر مگر انتہائی گرم تقریر کی ، آپ نے فرمایا کہ :
’’حالات کے جس دباؤ اور جن الجھنوں کے باعث آج ہندوستان کی تقسیم کو منظور کرلینے کا مشورہ دیاجارہاہے ، میں اپنے لیڈروں کے پورے احترام کے ساتھ کہوں گا کہ ہندوستان کی تقسیم کا نتیجہ اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہوگا اور آج اگر کانگریس کے اسٹیج پر تقسیم ہند کی اسکیم منظور کرلی گئی تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم آج اپنی پوری تاریخ اور ہمیشہ کیلئےا پنے یقین واذعان پر خود اپنے ہاتھ سے خط تنسیخ کھینچ کر اٹھیں گے اور دوقومی نظریہ کے سامنے سرینڈر ہوجائیں گے۔‘‘
جب پوراہاؤس ایک تجویز پر متفق ہوچکاہو، پھر اس کو رد کرادینا ممکن نہ تھا اس لئے مولانا حفظ الرحمٰن کی آواز صدابہ صحرا ثابت ہوئی، مخالفت کی اور کوئی دوسری آواز ہاؤس میں نہیں اٹھی ، چھ سو ارکانِ ورکنگ کمیٹی میں کسی کوبھی اپنے اصولوں کی شکست کی آواز نہیں سنائی دی، اتنی بڑی تعداد کے مقابلہ میں ایک آواز کیا وزن رکھتی ہے لیکن اس ایک آواز نے اصول پرستی کی آبرو رکھ لی اور انہوں نے کھری سچائی اس ماحول میں بھی پیش کردی جس کی تائید میں ایک آواز بھی نہیں تھی اس لئے ان کی جماعت جمعیۃ علماء کو یہ اطمینان ضرور ہے کہ وہ اس تباہ کن اور خوں ریز تقسیم کی ہرطرح کی ذمہ داری سے محفوظ رہی۔
ہندوستان نے آزادی جیت لی
۱۸؍جولائی ۱۹۴۷ء کو لندن سے ایک نامہ نگار نے ہندوستان خبر بھیجی کہ آج برطانیہ کے حساب سے ٹھیک دس بج کر چالیس منٹ پر برطانوی دارالامراء کے رائل کمیشن نے تزک واحتشام اور شاہی رسوم کے ساتھ جس پر ولیم فاتح کے زمانے سے عمل درآمد ہوتاآرہاہے ہندوستان کی آزادی پر شاہی منظوری کااعلان کیا۔
اس سے پہلے ۱۰؍جولائی ۱۹۴۷ء کو وزیراعظم برطانیہ مسٹرایٹلی نے اعلان کیا تھا کہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن ہندوستان کے گورنر جنرل ہوں گے اور مسٹرجناح پاکستان کے، اس طرح ہندوستان اور پاکستان دوعظیم الشان نوآبادیاں وجود میں آگئیں۔
کارواں اپنی منزل پر پہنچ گیا
نوے سال کی طویل مسافت طے کرتے ہوئے کاروان آزادی ۱۵؍اگست ۱۹۴۷ء کو ۱۴-۱۵ ؍اگست کی درمیانی رات کےبارہ بجے اپنی منزل پر پہونچ گیا، جب پورا ہندوستان محوخواب تھا توہندوستان کا مقدرجاگ گیا اور ہندوستانی وقت کے مطابق ٹھیک بارہ بجے آل انڈیا ریڈیوسے ہندوستان کی آزادی کا اعلان ہوگیا۔
جب پڑا وقت گلستاں پہ توخوں ہم نے دیا
جب بہار آئی تو کہتے ہیں تِرا کام نہیں
(ازکتاب: تحریک آزادی اورمسلمان۔مولانا سیرادروی ؒ)



