بندوں کے جیسے اعمال ہوں گے اسی کے مطابق اللہ کی طرف سے فیصلے ہوں گے-(۲)

اسلام نے عورتوں کو بہت بلند مقام دیا اور ان کے حقوق متعین کئے
وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (البقرۃ:۲۲۸)
اور عورتوں کے بھی حقوق ہیں جیسا کہ مردوں کے ان پر حقوق ہیں، ہاں مرد وں کو ان پر ایک درجہ فوقیت حاصل ہے اور اللہ تعالیی غالب اور حکمت والاہے۔
اسلام آنے سے پہلے عورتوں کی کوئی عزت اور معاشرے میں کوئی خاص مقام ان کا نہ تھا، اسلام نے آکر عورتوں کو عزت دی اور ان کے حقوق متعین کیے ، مثلاً میراث میںا ن کا حق متعین کیا، بیٹی ہونے کی حیثیت سے الگ حصہ متعین کیا، بیوی ہونے کی حیثیت سے الگ اور بہن ہونے کی حیثیت سے الگ، جبکہ اسلام کے آنے سے پہلے اس کا میراث میں تو کیا حصہ ہوتا خود عورت ہی میں میراث جاری ہوتی تھی اور جس طرح زمین وجائیداد کی تقسیم ہوتی تھی، شوہر کے مرنے کے بعد عورت یا تو جلادی جاتی تھی یا میراث میں وہ بھی تقسیم کردی جاتی تھی، خود باپ کے دل میں بھی بیٹی کی وقعت نہ ہوتی تھی، بچپن میں بیٹیوں کو زندہ دفن کردینے کا عام رواج تھا، اسلام نے آکر ان سب باتوں کو مٹایا اور اپنے ماننے والوں کو سختی سے ان باتوں سے منع کیا، اسلام نے آکر عورتوںکو عزت دی اور ان کے حقوق متعین کئے کہ ماں ہونے کی حیثیت سے اس کے یہ حقوق اولاد پر واجب ہیں، بیٹی ہونے کی حیثیت سے ماں پر اس کے حقوق بتلائے، بیوی ہونے کی حیثیت سے شوہر پر اس کے حقوق متعین کئے، مختلف جہتوں سے عورتوں کے الگ الگ حقوق متعین کئے۔
مردوں پر اپنی بیویوں کے حقوق
شریعت نے مردوں پر عورتوں کے بہت سے حقوق مقرر کئے ہیں۔ ایک حدیث پاک میں ہے کہ ایک صحابی نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! بیوی کاہم پر کیا حق ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو تم خود کھاؤ اس کو بھی کھلاؤ، جوخود پیو اس کوبھی پیلاؤ، کھانے پینے اور اوڑھنے بچھانے میں جس معیار کا تم خود کھاتے پیتے ہو اس کو بھی کھلاؤ پلاؤ، ایسا نہ ہو کہ خود توہوٹل میں جاکر ایک گلا لسّی، ایک پاؤ دودھ تنہائی میں لیں اورگھر میں ایک پاؤ دودھ کی چائے دس آدمی پئیں، خود تو رہو ایئر کنڈیشن میں، عالی شان بلڈنگوں میں، اسٹارہوٹلوں میں موج کرو اور بیوی بیچاری معمولی سے مکان میں جھوپڑی میں رہ رہی ہو، اسلام نے آکر یہ سبق سکھایا کہ بیوی کو بھی آرام سے رکھو جو خود کھاؤ اس کوبھی وہی کھلاؤ، ایسا نہ ہو کہ خود تو کباب، چکن، بریانی کھاؤ اوربیوی بیچاری کو دال روٹی کھلاؤ، اسلام نے حکم دیا ہے کہ جو تم خود پہنو اسی درجے کا اور اسی معیار کا اتنی ہی قیمت کا اپنی حیثیت کے مطابق اس کوبھی لباس پہناؤ،ایسا نہ ہو کہ خود توپہنو ہزار روپئے میٹر کا اور بیوی کو سستا موٹا سوتی لباس پہناؤ، جہاں تم خود رہتے ہو بیوی کو بھی وہیں اپنے ساتھ رکھو یہی اسلام کی تعلیم ہے۔
ہندوستانی عورتوں، ہندوستانی بیویوں کو غنیمت سمجھو کہ یہاں کی عورتیں جس قدر قربانی دیتی اور صبر وضبط سے کام لیتی ہیں، سب کچھ جھیلتی اور برداشت کرتی ہے اور شوہروں سے محبت بھی کرتی ہیں ، خدمت بھی کرتی ہیں، گھر کاکام بھی کرتی ہیں، میں سچ کہتاہوں عرب کی عورتیں ایسی نہیں ، وہاں کامعاشرہ دوسرا ہے، وہاں توایسی حالت میں ایک لات مارکر بھگادے، قریب نہ آنے دے۔
الغرض اسلام نے شوہر اور بیوی دونوں کے حقوق متعین کئے ہیں، ان حقوق کی ادائیگی میں جوبھی کوتاہی کرے گا ظالم ہوگا ، بیوی کوتاہی کرے گی وہ ظالمہ ہوگی ، شوہر کوتاہی کرے گا وہ ظالم ہوگا۔ آج کل بیویوں کے حقوق میں بہت کوتاہیاں ہوتی ہیں، حالانکہ قرآن پاک میں ان کے حقوق کی بہت تاکید کی گئی ہے، جیسا کہ مذکورہ آیت سے معلوم ہوتاہے۔
شریعت نےعورتوں کے حقوق متعین کئے ہیں، لیکن ذمہ دار اور حاکم مردوں ہی کو بنایاہے
شریعت نے عورتوں کے حقوق کی تاکید توکی ہے، لیکن حاکم مردوں ہی کو بنایاہے، حکومت مردوں ہی کو حاصل ہے اور عورتوں کے مقابلہ میں فوقیت وبرتری مردوں ہی کو ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مردوں ہی کو عورتوں کا ذمہ دار بنایاہے، ان کی نگرانی مرد ہی کریں گے ، اگر اس میں مرد کوتاہی کریں گے، قیامت میں ان سے اس کا حساب ہوگا، عورتوں کی بددینی مثلاً بے پردگی، نماز نہ پڑھنا وغیرہ ان بداعمالیوں کا حساب جس طرح عورت سے ہوگا، اس کے شوہر سے بھی ہوگا، کیونکہ ذمہ دار وہی ہے اور اللہ نے مردوں کوذمہ دار اور حاکم اس لیے بنایاہے کہ عورتیں ناقص العقل ہوتی ہیں، ان کے مقابلے میں مردوں کو اللہ نے کامل عقل عطا فرمائی ہے اور اللہ نے مردوں کو حکم دیاہے کہ جس طرح تمہارے حقوق عورتوں پر ہے اسی طرح ان کے حقوق بھی تم پر ہیں، جن کو معروف کے ساتھ ادا کرنے کامردوں کو مکلف بنایاگیاہے۔
(ماہنامہ ندائے شاہی، مراد آباد ۲۰۲۶ءجولائی )۔۔۔جاری ہے۔۔۔ان شاء اللہ تعالیٰ



