مضامین

خالق انسان کا تجویز کردہ نصب العین-۲

صحت ومرض میں بھی خدا ملتاہے
حدیث میں فرمایا گیا سب سے بڑی نعمت جس پر رشک کیاجائے وہ صحت وتندرستی ہے۔ صحت نہ ہوتو عبادت کیسے کرے؟ حج کو کیسے جائے؟ نماز کیسے پڑھے؟ روزہ کیسے رکھے؟ گویاساری عبادتیں صحت سے وابستہ ہیں۔ اس لئے اس کی فضیلتیں بیان کی گئیں۔ صحت مند اور تندرست آدمی خوش ہے کہ مجھے اللہ نے صحت دی ہے، میں خدا کا شکرہے جانی عبادت بھی کررہاہوں ،محنت بھی اٹھارہاہوں ،حج کو بھی جارہاہوں لیکن بیمار کا دل ٹوٹا کہ افسوس میں کچھ عمل نہ کرسکا، نہ میں مسجد تک جاسکتاہوں نہ میں حج کرنےجاسکتا ہوں، نہ جہاد کیلئےجاسکتاہوں۔کوئی کام بھی میں نہیں کرسکتا۔ افوس میں محروم رہا۔ اسلام نے آکر فوراً تسلی دی کہ پریشان مت ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔حدیث میں فرمایا گیا کہ قیامت کے دن حق تعالیٰ بعضے بندوں سے پوچھیں گے کہ ۔۔۔۔’’اے بندے! میں بیمار ہواتومجھے پوچھنے نہ آیا؟ میں مریض ہوا تومیری مزاج پرسی کو نہ حاضرہوا؟
بندہ کہے گا۔۔۔اے اللہ! آپ تو ربّ ہیں آپ کو بیماری سے کیاتعلق؟ بیماری تو عیب اور نقص کی چیز ہے، آپ ہر نقص اور بُرائی سے بَری ہیں۔‘‘
فرمائیں گے:میرافلاں بندہ بیمار ہواتھا، اگرتوبیمار پرسی کے لئےجاتا مجھے اسکی چارپائی کی پٹی پر موجود پاتا۔۔۔۔ بیمار کا دل بڑھ گیا کہ میری وہ خصوصیت ہے کہ بیماری میں حق تعالیٰ کاقرب نصیب ہوتاہے، کسی تندرست کی چارپائی پر حق تعالیٰ نہیں ہیں اور بیمار کی چارپائی پرموجود ہیں۔ یعنی خاص تجلی، لطف وکرم اور عنایت موجودہے۔
کسی تندرست کے بارے میں حق تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ تندرستی اپنے اوپر لے کر کہاہو کہ میں تندرست تھا تومیرے پاس کیوں نہیں آیا۔ بیمار کے بارے میں اپنے اوپر لیکر فرمایا کہ میں بیمار ہوا ، تو مجھے پوچھنے نہ آیا۔ گویا بیمار اتنا عزیز ہےکہ اس کی بیماری کو اپنی بیماری فرمایا کہ میں بیمار ہوا۔۔۔۔۔ توبیمار کا دل بڑھ گیا کہ ایسی تندرستی کوسلام ہے جس سے اتنا قرب نہ ہو، مجھے یہ بیماری عزیز اورمبارک ہے ۔ میں اس بیماری کو چھوڑنا نہیں چاہتا، یہ توجہ الی اللہ کا ذریعہ بن رہی ہے اور درجات ومراتب طے ہورہے ہیں۔
صبرکاپھل
حضرت عمر ان بن الحصین ؓجلیل القدر صحابی ہیں۔ ایک ناسور پھوڑے کے اندر بتیس برس مبتلا رہے ہیں جو پہلو میں تھا۔ اور چت لیتے رہتے تھے کروٹ نہیں لے سکتے تھے یعنی بتیس برس تک چِت ہی لیٹے لیٹے کھانا بھی ، پینا بھی ،عبادت کرنابھی ، قضائے حاجت کرنابھی۔۔۔ آپ اندازہ کیجیے بتیس برس ایک شخص ایک پہلو پرپڑارہے ، اس پرکتنی عظیم تکلیف ہوگی؟ کتنی بڑی بیماری ہے؟
یہ توبیماری کی کیفیت تھی، لیکن چہرہ اتنا ہشاش بشاش کسی تندرست کو وہ چہرہ میسر نہیں ۔ لوگوں کو حیرت تھی کہ بیماری اتنی شدید کہ برس گزر گئے کروٹ نہیں بدل سکتے اور چہرہ دیکھو تو ایسا کھلا ہوا کہ تندرستوں کوبھی نصیب نہیں۔۔۔۔۔ لوگوں نے عرض کیا کہ حضرت!۔۔۔۔۔۔۔۔یہ کیا بات ہے کہ بیماری تواتنی شدید اور اتنی ممتد اور لمبی چوڑی اورآپ کے چہرے پراتنی بشاشت اور تازگی کہ کسی تندرست کوبھی نصیب نہیں ۔
فرمایا:جب بیماری میرے اورپر آئی میں نے صبر کیا۔ میں نے یہ کہاکہ اللہ کی طرف سے میرے لئے عطیہ ہے۔ اللہ نے میرے لئے یہی مصلحت سمجھی ۔ میں بھی اس پرراضی ہوں۔ اس صبر کا اللہ نے مجھے یہ پھل دیا کہ میں اپنے بستر پرروزانہ ملائکہ علیہم السلام سے مصافحے کرتاہوں، مجھے عالم غیب کی زیارت نصیب ہوتی ہے۔۔۔۔۔ عالم غیب میرے اوپرکھلاہواہے۔
توجس بیمار کے اوپر عالم غیب کا انکشاف ہوجائے ،ملائکہ کی آمدورفت محسوس ہونے لگے اسے کیا مصیبت ہے کہ وہ تندرستی چاہے؟ اس کے لیے تو بیماری ہزار درجے کی نعمت ہے۔
حاصل یہ کہ اسلام کی یہ خصوصیت ہے کہ اس نے تندرست کو تندرستی میں تسلی دی ۔ بیمار کو کہاکہ تیری بیماری اللہ تک پہنچنے کاذریعہ ہے تو اگر اس میں صبر اور احتساب کرےگا۔ حِسْبَۃً لِلہ
اس حالت پر صبار اور راضی رہے گا۔ تیرے لیے درجات ہی درجات ہیں۔
پھر یہ بھی نہیں فرمایا کہ توعلاج مت کر، علاج بھی کر، دوا دارو بھی کر، مگر نتیجہ جو بھی نکلے، اس پر راضی رہ۔ اپنی جدوجہد کئےجا باقی افعال خداوندی میں مداخلت مت کر، تیراکام دواکرناہے ۔ تیرا یہ کام نہیں ہے کہ دوا کے اوپر نتیجہ بھی مرتب کردے کہ صحت ہونی چاہیے۔ یہ اللہ کاکام ہے ، تو اپنا کام کر۔ اللہ کے کام میں دخل مت دے ، دوادارو کر۔ مگر اللہ کی طرف سے جو کچھ ہوجائے اس پر راضی رہ کر جو کچھ ہورہاہے میرے لیے خیر ہورہاہے اس پر صبرکروگے، وہی بیماری ترقی درجات اور اخلاق کی بلندی کا ذریعہ بنتی جائے گی۔ اس سے آدمی کے روحانی مقامات طے ہوں گے۔ تندرست کو روحانیت کے ومقامات نہیں ملتے جو بیمار کو ملتے ہیں۔ توبیماریوں کہے گا مجھے میری بیمار مبارک ہو، مجھے تندرستی کی ضرورت نہیں۔ تندرستی میں مجھے یہ مقامات مل نہیں سکتے تھے جو بیماری میں ملے۔
تواسلام نے تندرست کو تندرستی میں تسلی دی کہ تو اس کو مجھ تک پہنچنے کاذریعہ بنا۔بیمار کو بیماری میں تسلی دی کہ توبیماری کو مجھ تک پہنچنے کاذریعہ بنا۔ توبیماری کی وجہ سے محروم نہیں رہ سکتا۔ یہ خیال مت کر کہ جوکچھ ملناتھا ، تندرست کو مل گیا میرے واسطے کچھ نہیں رہا۔ تیری بیماری میں تیرے لئے سب کچھ ہے۔
بہرحال ہر ایک کواپنے دائرے اور اپنے مقام پر تسلی دینا یہ اسلام کاکام ہے۔
[ماخوذاز خطبات حکیم الاسلام ،جلد ۴]۔۔۔ جاری ہے۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button