مضامین

ماں کی لازوال محبت ایک دن کی محتاج کیوں؟

ماں کا حق کوئی ادا نہیں کرسکتا

ماں کا حق کوئی ادا نہیں کرسکتا
ماں باپ کایہ ادب ہے کہ ان کی خدمت جان ومال دونوں طرح سے کرے۔ایسا نہ ہو کہ خدمت کرے اور ان کو پائی پائی کے لئے ترسائے اور ایسا بھی نہ ہوروپئے پیسے کی بوچھا ر کرے اور بات کرنے، خدمت کرنے کاروادار نہ ہو۔ ان کی خدمت کے لئے نوافل کو ترک کرسکتا ہے۔ فرائض و واجبات نہیں۔ ایک بار ایک صحابی رسول حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ میں نے اپنی ماں کو اپنے کاندھوں پر بٹھاکر حج کروایا ہے، کیا میں نے ماں کا حق ادا کردیا؟ آپ ﷺنے فرمایا: نہیں ، تونے ابھی اپنی ماں کی ایک رات کے دودھ کاحق بھی ادا نہیں کیا ہے۔
ماں کا حق باپ کے حق سے زیادہ ہے
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں میں نےر سول اللہ ﷺ سے عرض کیا: عورت پر سب سے بڑا حق کس کا ہے؟ فرمایا: شوہر کا۔ میں نے عرض کیا: اور مرد پر سب سے بڑاحق کس کاہے؟ فرمایا: اس کی ماں کا(بسند حسن حاکم نے اسے روایت کیا ہے۔ جلد ۵۶، صفحہ ۲۰۸، الحدیث ۷۳۲۴) حضرت ابوہریرہؓفرماتے ہیں : ایک شخص نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ کون اس کا مستحق ہے کہ میں اس کے ساتھ نیک رفاقت (خیر خواہی ) کروں؟ فرمایا: تیری ماں۔ عرض کیا پھر؟ فرمایا: تیری ماں۔ عرض کیا پھر ؟ فرمایا: تیری ماں ۔ عرض کیا پھر؟ فرمایا: تیراباپ ۔(امام بخاری اور مسلم نے اپنی اپنی صحیح میں اسے روایت کیاہے۔ جلد ۴، صفحہ ۹۳، الحدیث ۵۹۷۱) چند احادیث اور ملاحظہ فرمائیں، پڑھ کر عمل کریں۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:(۱) میں آدمی کو وصیت کرتا ہوں اس کی ماں کے حق میں (۲) میں وصیت کرتاہوں اس کی ماں کے حق میں (۳) میں وصیت کرتاہوں اس کی ماں کے حق میں (۴) میں وصیت کرتاہوں اس کی ماں کے حق میں (امام احمد اور ابن ماجہ اور حاکم ، بیہقی شریف نے ۔ سنن میں ابوسلالہ سے اسے روایت کیا ہے۔ جلد ۵، صفحہ ۲۰۸، الحدیث ۷۳۲۵) ایک صحابی نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا ، کیا میں بھی جہاد میں شریک ہوجاؤں؟ نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا کہ تمہارے ماںباپ موجود ہیں۔ انہوں نے کہا جی ہاں موجود ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر انہیں میں جہاد کرو۔ یعنی ان کی خدمت کرو۔(صحیح بخاری ، حدیث ۵۹۷۲) ابوسفیان ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ اللہ نے تم پر ماں کی نافرمانی حرام کردی ہے اور (والدین کے حقوق) نہ دینا اور ناحق ان سے مطالبات کرنابھی حرام قراردیاہے۔ لڑکیوں کو زندہ فن کرنا (بھی حرام قراردیاہے) اور قیل وقال (فضول باتیں) کثرتِ سوال اور مال کی بربادی کو بھی ناپسند کیاہے۔ (بخاری باب والدین کی نافرمانی بہت ہی بڑے گناہ میں سے ہے۔ الحدیث ۵۹۷۵)
ماں کی تکلیف کا بیان قرآن مجید میں
علماء فرماتے ہیں کہ حقِ خدمت ماں کا زیادہ ہے اور حقِ اطاعت حکم بجالانا باپ کا زیادہ ہے۔ اسی لئے آقا ﷺ نے فرمایا کہ جنت تمہاری ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے۔ اور رب نے فرمایا؛(القرآن سورہ لقمان ، آیت ۱۳) ترجمہ: اور ہم نے آدمی کو اس کے ماں باپ کے بارے میں فرمایا۔ اس کی ماں نے اسے پیٹ میں رکھا کمزوری جھیلتی ہوئی اور اس کا دودھ چھوٹنا دوبرس میں ہے۔ یہ ہے کہ حق ماں میرا اور اپنے ماں باپ کا ، آخر مجھ ہی تک آنا ہے۔ (کنزالایمان) اور دردِ زہ ولادت کی تکلیف کا ذکر فرمایا۔ اسی سےمعلوم ہوا کہ ماں کا حق باپ سے زیادہ ہے کہ باپ نے ماں سے بچے کو پالا اور ماںنے خون سے ۔ علماء فرماتے ہیں ، حقِ خدمت ماں کا زیادہ ہے اور حق اطاعت حکم بجالانا باپ کا زیادہ ہے۔ اسی لئے حضور ﷺ نے فرمایا کہ جنت مہاری ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے۔ اور فرمایا تواور تیرامال باپ کاہے۔ اللہ نے اپنے ساتھ ماںباپ کاذکر فرمایا کیونکہ وہ ہمارا رب ہے اور ماں باپ ہمارے مربی۔ حضرت سفیان ثوری ؒ فرماتے ہیں کہ نماز پڑھ کر رب کا شکر ادا کرو اور نماز کے بعد ماں باپ کے لئے دعا مانگو۔(تفسیر نورالعرفان، صفحہ ۵۳۔۴۵۲)
(ماہنامہ حج میگزین ،ممبئی۔۔جون ۲۰۱۷ء؁)۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔ ان شاءاللہ تعالیٰ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button