مضامین

حضرت رسول اکرمﷺ کی چند خصوصیات کا ذکر-۶

آنحضرت ﷺ کی نسبی برتری
اورحضرت عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوںنے کفار کو نبی کریم ﷺ کی شان میں ہرزہ سرائی کرتے سنا تو آپ کی خدمت میں آئے۔ آنحضرت ﷺ منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ تم لوگ جانتے ہو میں کون ہوں؟ صحابہ نے عرض کیا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ نے فرمایا میں عبداللہ بن عبدالمطلب کا بیٹا محمد ہوں اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تو مجھے اس مخلوق میں سے بہترین مخلوق میں پیدا کیا پھر اس بہترین مخلوق کے اللہ تعالیٰ نے دو طبقے کئے اور مجھےان دونوں طبقوں میں سے بہترین طبقہ میں پیدا کیا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس بہترین طبقہ کوقبائل درقبائل کیا اور مجھے ان قبائل میں سے بہترین قبیلہ میں پیدا کیا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس بہترین قبیلہ کے مختلف گھرانے بنائے اور مجھے ان گھرانوں میں سےبہترین گھرانے میں پیدا کیا، پس میں ان میں ذات و حسب کے اعتبار سے بھی سب سے بہتر واعلیٰ ہوں اور خاندان وگھرانے کے اعتبار سے بھی سب سے اونچا ہوں۔(ترمذی)
توضیح: ’’الخلق‘‘ خلق سے یہاں انسان اور جنات مراد ہیں۔ ’’خیر ھم ‘‘ یعنی جنات اور انسان میں سے مجھے بہتر مخلوق میں پیدا کیا جو انسان ہے اس سے معلوم ہوا کہ انسان جنات سے افضل ہیں۔ ’’فرقتین‘‘ دوفرقوں سے انسانوں کے دو فرقے عجم اور عرب مراد ہیں۔ ’’فی خیرھم‘‘ اس بہتر فرقے سے مراد عرب ہیں معلوم ہوا عرب عجم سے افضل ہیں کیونکہ حضورﷺ کا خاندان ہے کسی نے اپنے ذوق کے مطابق کہا:
دہ عاشقئی بدہ دستور ھمین پہ یویم ناز دہ ٹولو خلقواوڑمہ
’’جعلھم‘‘ یعنی عرب کو اللہ تعالیٰ نے قبائل درقبائل تقسیم فرمایا۔’’بیوتا‘‘یعنی مختلف گھرانے بنائے۔ ’’بیتا‘‘یعنی مجھے سب سے عمدہ اور بہتر گھرانے میں پیدافرمایا جو بنو ہاشم کا گھرانہ ہے۔ لہٰذا میں نسب حسب میں سب سے اعلیٰ وارفع ہوں تو میرا چچا عباس بھی نسلی اور نسبی اعتبار سے سب سے زیادہ عمدہ ہیں۔ تقسیم قبائل میں یہاں چند الفاظ بھی ملاحظہ ہوں۔
(۱) شعوب یہ سب سے بڑاہوتاہے۔ (۲) پھر قبائل (۳) پھر عمارہ (۴) پھر بطن (۵) پھر فخذ(۶) پھر فصیلہ۔ چنانچہ خزیمہ شعب ہے، کنانہ قبیلہ ہے ، قریش عمارہ ہے، قصی بطن ہے، بنو ہاشم فخذ ہے اور بنوعباس فصیلہ ہے۔
’’آنحضرت ﷺ سب سے پہلے نبی بنائے گئے ‘‘کامطلب
اورحضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ صحابہ نے پوچھا کہ یارسول اللہ ! نبوت کے لئے آپ کس وقت نامزد ہوئے؟ توآپ نے فرمایا: اس وقت جب کہ آدم علیہ السلام روح اور بدن کے درمیان تھے۔ (ترمذی)
توضیح: ’’متی وجبت‘‘سائل نے سوال کیا کہ یارسول اللہ! کب سے آپ کی نبوت شروع ہوگئی تھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں اس وقت نبی بن چکاتھا جبکہ حضرت آدم علیہ السلام ابھی تک جسم اور روح کے درمیان تھے یعنی ابھی ان کے جسم میں روح نہیں ڈالی گئی تھی۔
سوال: یہاں ایک گہراسوال ہے، وہ یہ ہے کہ دنیا میں ظہور کے اعتبار سے آنحضرت ﷺسب سے آخر میں ظہورپذیر ہوئے ہیں اور نبوت کامنصب جب انبیاء کرام کو عطا ہورہا تھا تو اس وقت عالم ارواح میں تمام انبیاء کرام کو ایک ساتھ نبی بنایا گیا تھا تو یہاں اس حدیث میں اس جملہ کا کیا مطلب ہے کہ میں نبی تھا اور آدم علیہ السلام روح وجسد کے درمیان تھے یعنی پیدائش کے مراحل میں تھے؟
جواب: اس سوال کا جواب اور اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ عالم ارواح میں نبوت تو سب کو ایک ساتھ ملی لیکن نبوت کے انوارات اور اس کی برکات وتجلیات کے پڑنے کاسلسلہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ عالم ارواح میں اس وقت شروع ہوا جبکہ حضرت آدم علیہ السلام اس وقت پیدا بھی نہیں ہوئے تھے، اس اعتبار سے حضوراکرم ﷺ افاضۂ برکات نبوت میں سب سے اول نبی ہیں اور نبوت کے ظہور کے اعتبار سے آپ سب سے آخری نبی ہیں ، اسی اعتبار سے بعض روایات میںہے کہ ہرنبی نے اپنے اپنے زمانہ میں حضور اکرم ﷺ کے نور نبوت سے استفادہ کیا ہے، علامہ بوصیری ؒ اسی حقیقت کی طرف یوں اشارہ فرماتے ہیں:
وکل آی أتی الرسل الکرام بھا فانما اتصلت من نورہ بھم
’’منجدل‘‘یعنی زمین پر پچھا ڑا ہوا پڑاتھا، اس سے زمین پر بے جان پڑارہنا مراد ہے۔
حضر ت امی آمنہ نے کیادیکھا؟
اورحضرت عرباض ابن ساریہ ؓ رسول کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: میں اللہ تعالیٰ کے ہاں اسی وقت سے خاتم النبیین لکھا ہواہوں جب کہ آدم علیہ السلام اپنی گُندھی ہوئی مٹی میں پڑے تھے۔ اور میں تمہیں بتاتاہوں میرا پہلا امر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہے اور میری ماں کاخواب ہے جو انہوں نے میری پیدائش کے وقت دیکھا تھا، حقیقت یہ ہے کہ میری ماں کے سامنے ایک نور ظاہر ہواتھا جس نے ان پر شام کے محلات کوروشن کردیاتھا۔ اس روایت کو بغوی نے شرح السنۃ میں نقل کیا ہے۔ نیز امام احمد نے بھی اس روایت کو ’’ ساخبرکم‘‘ سے آخرتک ابوامامہ سے نقل کیاہے۔
توضیح: ’’رأت‘‘اس سے خواب کی حالت بھی مراد لی جاسکتی ہے، مطلب یہ ہوگا کہ حضور اکرم ﷺ کی پیدائش سے کچھ پہلے حضرت آمنہ نے خواب میں ایک فرشتہ دیکھا تھا جو کہہ رہا تھا کہ تم کہہ دو کہ میں اس بچہ کو (جومیرے پیٹ میں ہے) ہر حسد کرنے والے کے شر سے خدا کی پناہ میں دیتی ہوں۔ اور اس جملہ سے بیداری کی حالت بھی مراد لی جاسکتی ہے، اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جیسا کہ بعض روایات میں آیا ہے کہ حضرت آمنہ نے حضور اکرم ﷺ کی ولادت کے وقت بیداری کی حالت میں اپنے جسم سے ایک نور جدا ہوتا ہوا دیکھا جس نے شام کے محلات کو روشن کیا، اس سے یہ بتانا مقصود تھا کہ پیداہونے والانونہال آیندہ ان علاقوں کو فتح کرے گا۔
اورحضرت ابوسعید ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن میں تمام انبیاء کا سردار بنوں گا اور میں یہ بات فخر کے طورپر نہیں کہتا، حمد کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہوگا اور میں یہ بات فخر کے طورپر نہیں کہتا، اس دن کوئی بھی نبی خواہ وہ آدم ہوں یا کوئی اور ایسا نہیں ہوگا جو میرے جھنڈے کے نیچے نہیں آئے گا۔ اور سب سے پہلے میں زمین پھٹ کر اٹھوں گا اور میں یہ بات فخر کے طورپر نہیں کہتا۔ (ترمذی)۔۔۔۔ (جاری ۔۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button