مضامین

حضرت رسول اکرمﷺ کی چند خصوصیات کا ذکر-۴

اجتماعی طورپر یہ امت ختم نہیں ہوگی
اور حضرت ثوبان کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میرے لئے روئے زمین کو سمیٹا، چنانچہ میں نے روئے زمین کو مشرق سے لے کر مغرب تک دیکھا اور میں یقین کے ساتھ کہہ سکتاہوں کہ میری امت عنقریب روئے زمین کے ان تمام علاقوں کی بادشاہت سے سرفراز ہوگی جو سمیٹ کر مجھ کو دکھائےگئےہیںاور یہ بھی حقیقت ہےکہ مجھ کو سرخ اور سفید دوخزانے عطا کئے گئے ہیں ، نیز میں نے اپنے پروردگار سے التجا کی کہ میری امت کے لوگوں کو عام قحط میں نہ مارے اور یہ کہ میری امت پر مسلمانوں کے علاوہ کسی دشمن کو اس طرح مسلط نہ کرے، جو ان کی اجتماعیت اور ملی نظام کے مرکز پر قبضہ کرلے۔ چنانچہ میرے رب نے فرمایا! اے محمد! جب میں کسی بات کا فیصلہ کرلیتاہوں تووہ بدلانہیں جاسکتا، پس میں تمہاری امت کے حق میں تمہیں اپنایہ عہد وفیصلہ دیتاہوں کہ مسلمانوںکونہ توعام قحط میں ہلاک کروں گا اور نہ خود ان کے علاوہ کوئی اور دشمن ان پر مسلط کروں گا، جو ان کی اجتماعیت اورملی نظام کے ایک مرکز پر قبضہ لرے، اگرچہ ان پر تمام روئے زمین کے غیر مسلم دشمن جمع ہوکر حملہ آور ہوں، الایہ کہ تمہاری امت ہی کے لوگ آپس میں ایک دوسرے کوقتل کریں اور ایک دوسرے کو قید وبند کی صعوبت میں ڈالیں۔(مسلم)
توضیح: ’’زویٰ‘‘ سکیڑ نے اور جمع کرنے کے معنی میں ہے۔ زمین کے اس سکیڑ نے اور مشرق ومغرب دکھانے سے مراد وہی فتوحات ہیں ، سرخ وسفید خزانوں سے مراد سونا اور چاندی ہے۔ ’’سنۃعامۃ‘‘عام قحط اورعام خشک سالی مراد ہے جس سے پوری امت کی جڑ اُکھڑ کر تباہ ہوجائے ایسا نہیں ہوگا۔ ’’فیستبیح‘‘ اس سے مباح کرنا ، حلال سمجھنااور کنٹول کرکے تباہ کرنا مراد ہے۔ ’’بیضتھم‘‘بیضہ مرکزی مقام کو کہتے ہیں ، مرکزیت واجتماعیت اور انتظامی وملی نظام مراد ہے کہ اس کوکوئی دشمن پارہ پارہ نہیں کرسکے گا۔ ’’ولواجتمع‘‘اس میں لووصلیہ ہے۔ ’’باقطارھا‘‘یہ جمع ہے اس کا مفرد قطر ہے، اس سے اطراف وجوانب مراد ہیں، اس حدیث میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی امت کی حفاظت اور امن وسلامتی کے لئے دوچیزوں کا وعدہ فرمایا ہے۔ ایک یہ ہے کہ عام فاقہ کشی اور خشک سالی خحط سے اس امت کو ہلاک نہیں کریں گے۔ دوم یہ کہ دشمنان اسلام کو ان پر اس طرح مسلط نہیں کریں گے جو ان کی مرکزیت او اساس سلطنت کو جڑ سےاکھیڑ دیں اگرچہ پوری دنیا کے دشمنان اکٹھے ہوجائیں۔ ہاں اگر آپس میں لڑیں اور پھر باہر سے دشمن آکر ان کے مرکز کوختم کردے وہ الگ بات ہے ، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اس امت کوآپس کا اختلاف اور نفاق پہنچاتا ہے جوپور ی نیا کے کفارنہیں پہنچاسکتے۔
(جاری ۔۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button