حضرت رسول اکرمﷺ کی چند خصوصیات کا ذکر-۷

آنحضرت ﷺ حبیب اللہ ہیں
اورحضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے کچھ صحابی بیٹھے ہوئے آپس میں باتیں کررہے تھے کہ آنحضرت ﷺ اپنے حجرہ مبارکہ سے نکلے اور جب ان کے قریب پہنچے تو انکی باتیں کان میں پڑیں، آپ نے ایک صحابی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل قراردیا، دوسرے صحابی نے کہاکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے شرف تکلم سے نوازا، ایک اور صحابی نے کہاکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کا کلمہ اور اس کی روح ہیں، ایک صحابی نےکہاکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو برگزیدہ کہا، بہرحال رسول کریم ﷺ ان کی مجلس تک پہنچ گئے اور فرمایا کہ میں نے تمہاری باتیں سن لی ہیں، تمہیں تعجب ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام خدا کے خلیل یعنی دوست ہیں تو بے شک ان کی یہی شان ہے، حضرت موسیٰ علیہ السلام خدا کے ہمزاد وہم سخن ہیں تو بے شک ان کی یہی شان ہے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کاکلمہ اور اس کی روح ہیں تو بیشک ان کی بھی یہی شان ہے، حضرت آدم علیہ السلام کو خدا نے برگزیدہ کیا، تو بیشک ایسا ہی ہے اور ان کی یہی شان ہے۔ لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ میں خدا کا حبیب ہوں اورمیں یہ بات فخر کے طورپر نہیں کہتا، قیامت کے دن حمد کا پرچم میرے ہی ہاتھ میں ہوگا جس کے نیچے آدم اور دوسرےتمام نبی ورسول ہونگے اور میں یہ بات فخر کے طورپرنہیں کہتا، قیامت کے دن سب سے پہلے شفاعت کرنے والامیں ہوں گا ، سب سے پہلے میری ہی شفاعت قبول کی جائے گی اور میں یہ بات فخر کے طورپرنہیں کہتا، جنت کادروازہ کھٹکھٹانے والوں میں سب سے پہلا شخص میں ہی ہوں گا چنانچہ اللہ تعالیٰ جنت کا دروازہ میرے لئے کھول دے گا اور (سب سے پہلے) مجھے جنت میں داخل کرے گا، اس وقت میرے ساتھ مؤمن فقراء ہوں گے اور میں یہ بات فخر کے طورپر نہیں کہتا اور بلاشبہ میں تمام اگلے پچھلوں سب ہی سے افضل واکرم ہوں اورمیں یہ بات فخر کے طورپر نہیں کہتا۔(ترمذی، دارمی)
توضیح: ’’انا حبیب اللہ‘‘ حبیب اللہ کی یہ صفت تمام صفات سے زیادہ جامع ہے کیونکہ حبیب بمعنی محبوب ہے اور جو محبو ب ہوتاہے وہ خلیل بھی ہوتاہے، مکلم بھی ہوتاہے اور مشرف ومعظم بھی ہوتاہے۔
حبیب اور خلیل میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ خلیل طالب کے درجہ میں ہوتاہے یعنی سالک و مرید ہوتاہے اورحبیب مطلوب ومرادکے درجہ میں ہوتاہے، ایک فرق یہ بھی ہے کہ خلیل کی مغفرت اُمید اورطمع کے درجہ میں ہوتی ہےا ور محبوب کی مغفرت یقین کے درجہ میں ہوتی ہے۔ وھذاواضح فی القرآن دیکھو خلیل کےبارے میں یہ ہے[وَالَّذِي أَطْمَعُ أَنْ يَغْفِرَ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ ] ادھر حبیب کے بارے میں یہ ہے[لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ] دونوں میں بڑافرق ہے واناحبیب اللہ میں ان تمام حقائق کی طرف اشارہ ہے۔
حضوراکرم ﷺ کی شان عالیشان
اورحضرت عمروبن قیس ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: ہم آخر میں ہیں لیکن قیامت کے دن ہم اول ہوں گے، اورمیں تم سے ایک بات کہتاہوں اور اس بات کے کہنے سے اظہارفخرمقصود نہیں ہے اوروہ یہ کہ ابراہیم ؈توخدا کے خلیل ہیں، موسیٰ ؈ خدا کے برگزیدہ ہیں اور میں خدا کا حبیب ہوں کہ دنیا وآخرت میں میری حیثیت محبّ کی بھی ہے اور محبوب کی بھی اور قیامت کے دن حمد کا پرچم میرے پاس ہوگا، نیز اللہ تعالیٰ نے میری امت کو خیر کثیر عطا کرنے کا اور تین چیزوں سے بچانے کاوعدہ کیاہے ، ایک تو یہ کہ وہ مسلمانوں کوعام قحط میں ہلاک نہیں کرے گا، دوسرے یہ کہ کوئی دشمن ان کا استیصال نہ کرسکے گا یعنی دشمنان اسلام سارے مسلمانوں کو نیست ونابود نہ کرسکیں گے اور تیسرے یہ کہ تمام مسلمان کسی گمراہی پر اتفاق نہیں کریں گے یعنی یہ ممکن نہیں ہوگا کہ ساری اسلامی دنیا کسی ایسی بات پر اتفاق کرلے جو گمراہی کا باعث ہو۔(دارمی)
توضیح: ’’نحن الآخرون‘‘یعنی دنیا میں ظہور اور آمد کے اعتبار سے ہم سب سے آخر میں آئے ہیں لیکن قیامت میں جنت میں داخل ہونے کے اعتبار سے ہم سب سے پہلے داخل ہوں گے۔ ’’وعدنی‘‘ یعنی خیر کثیر اور بیشمار نعمتوں کا وعدہ کیاہے۔’’واجارھم‘‘ یعنی تین خصلتوں اور تین آفتوں سے اللہ تعالیٰ نے میری امت کو امن میں رکھاہے۔ (۱)عام خشک سالی سے تباہ نہیں ہوں گے (۲) دشمن سب کو ہلاک نہیں کریں گے اور (۳) گمراہی پر سب جمع نہیں ہوں گے۔ اس سے امت اجابت مراد ہے، امت دعوت یعنی کفار سے یہ وعدہ نہیں ہے۔
[۲۴]وَعَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: أَنَا قَائِدُ الْمُرْسَلِينَ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ وَلَا فَخْرَ۔ (رواہ الدارمی)
اورحضرت جابر ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میں تمام نبیوں اور رسولوں کا قائد ہوں گا اورمیںیہ بات فخر کے طورپرنہیں کہتا، میں انبیا علیہم السلام کے سلسلہ کوختم کرنے والا ہوں اور میں یہ بات فخر کے طورپر نہیں کہتا، شفاعت کرنے والاسب سے پہلا شخص میں ہوں گا اور سب سے پہلے میری شفاعت قبول ہوگی اور میں یہ بات فخر کے طورپر نہیں کہتا۔ (دارمی)
(جاری ۔۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ)



