ماں کی لازوال محبت ایک دن کی محتاج کیوں؟

اللہ رب العزت کی تخلیق میں انسان کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ یقیناً ہم نے انسان کو بہترین ساخت میں پیدا فرمایا:(قرآنی مفہوم) اور اس میں عورت کی پیدائش کا ذکر پہلے فرمایا۔ (القرآن، سورہ شوریٰ، آیت ۴۹، ۵۰)
ترجمہ: اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اورزمین کی سلطنت پیدا کرتاہےجو چاہے جسے چاہے بیٹیاں عطا فرمائے اور جیسے چاہے بیٹے دے یا دونوں ملادے، بیٹے اوربیٹیاں اور جسے چاہے بانجھ کردے۔ بے شک وہ علم وقدرت والاہے۔(کنزالایمان)
اللہ نے پیدائش کے ذکر میں بیٹی کا ذکر پہلے فرمایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ بیٹی جو آگے عورت کا روپ دھارن کرتی ہے اورپھر ماں ۔۔۔اللہ کے نزدیک بھی اہمیت کی حامل ہے۔ ماں کا روپ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے وہ خوبصورت عطیہ ہے جس میں اللہ نے اپنی رحمت ، فضل وکرم ،برکت ، راحت اور عظمت کی آمیزش شامل فرماکرعرش سے فرش پر اتارا اور اس کی عظمتوں کو چار چاند لگادیا، قدموں تلے جنت دے کر ماں کو مقدس اوراعلیٰ مرتبہ پر فائز کردیا۔ ممتا کے جذبے سے سرشار اور وفا کا پیکر اور پرخلوص دعاؤں کے اس روپ کی خوبیوں کوبیان کرنا سمندر کو کوزے میںبند کرنے کے متراد ف ہے۔ ماں۔۔۔اللہ رب العزت کاایسا عطیہ ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں جو اللہ تعالیٰ کے بعد اپنی اولاد کے دل کا حال بہت جلد جان لیتی ہے۔ اولاد کے دل میں کیا چل رہاہے ماں سے زیادہ بہتر کوئی نہیں جانتا۔ اللہ نے قرآن کریم میں بہت سی جگہوں پر والدین کاذکر اپنے ذکر کے ساتھ فرمایا ہے:
وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا۔(القرآن سورہ البقرہ ، آیت ۸۲)
ترجمہ: اوریاد کرو جب لیاتھا ہم نے پختہ وعدہ بنی اسرائیل سے (اس بات کا) نہ عبادت کرنا بجزاللہ کے او ماں باپ سے اچھا سلوک کرنا۔
دوسری جگہ ارشاد باری ہے:
وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ۖ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا (القرآن ، سورہ نساء، آیت ۳۶)
ترجمہ: اور اللہ کی بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کو نہ ٹھہراؤ اورماں باپ سے بھلائی کرو۔
والدین کی عظمت کا ثبوت اس سے بڑا اورکیا ہوسکتا ہے کہ رب نے اپنے اسم جلالت کے ذکر کے ساتھ والدین کی خدمت کا حکم دیاہے۔ ماں کی عظمت کا بھی اعلان فرمایا:
وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا ۖ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا ۖ وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا۔۔۔(القرآن ، سورہ احقاف، آیت ۱۶)
ترجمہ: اور ہم نے آدمی کوحکم کیاکہ اپنے ماں باپ سے بھلائی کرے۔ اس کی ماں نے اسے پیٹ میں رکھاتکلیف سے اور جنا (پیداکیا) اس کوتکلیف سے اور اسے اٹھائے پھرنا اور اس کا دودھ چھڑانا تیس مہین میں ۔(کنزالایمان)
ماں باپ اگرچہ کافر ہوں مگر ان کی خدمت اولاد پرلازم ہے کیونکہ والدین کاحکم مطلق ہے۔ رب تعالیٰ نے فرمایا: اوریہ بھی معلوم ہوا حق الخدمت ماں کا زیادہ ہے کیونکہ ماں کی تکلیف کا بیان ہے اور یہ کہ ماں نے بچہ کو خون پلاکر(خون سے ہی دودھ بنتاہے) پالااور باپ نے محنت کرکے کمائی کی اور پرورش کی۔ ماں اگرچہ بچہ کی پرورش نہ بھی کرسکے جب بھی حق مادری اس کا بچے پرلازم ہے۔ (جیسے بیماری یاکوئی تکلیف پر) کیونکہ یہاں پیٹ میں نوماہ رکھنے اور جننے (پیدا کرنے ) کی تکلیف کووجہ بتایاگیا نیز ماں اگرخاوند سے اجرت لے کربھی بچے کو پالے جب بھی ماں کا حق اولاد پر قائم رہےگا جیسے موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے فرعون سے اجرت لے کر پالااور پرورش فرمائی۔ (تفسیر نورالعرفان ، صفحہ ۸۰۳)
(ماہنامہ حج میگزین ،ممبئی۔۔جون ۲۰۱۷ء)۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔ ان شاءاللہ تعالیٰ



