مضامین

ارکانِ اسلام (زکوٰۃ)

زکوٰۃ بھی اسلام کے دیگر چار ارکان کی طرح ایک اہم رکن ہے۔ زکوٰۃ کے ذریعے اسلام نے مسلمانوں کی اقتصادی حالت کو استحکام بخشا ہے، زکوٰۃ کا بنیادی مقصد غریب اور مسکین مسلمانوں کی اعانت اور فلاح وبہبود ہے۔ زکوٰۃ صحیح معنوں میں غریبوں کی کفالت کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ بے شمار نعمتوں کے اعتراف اور شکر ادا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ زکوٰۃ کے لفظی معنی پاکیزگی اور بڑھوتری کے ہیں۔ بڑھوتری کے لئے اور زبان میں مناسب لفظ ’’نشوونما‘‘ ہے۔ پاکیزگی بایں معنی کے زکوٰۃ کی ادائیگی کے بعد کمایا ہوا مال پاک اور صاف وستھرا ہوجاتاہے۔ زکوٰۃکی ادائیگی کے بعد بظاہر ایسا لگتاہے کہ کمائے ہوئے مال کا ایک حصہ ہاتھ سے نکل گیا اور مال کم ہوگیا۔ لیکن یہ انسان کی ایک ایسی سوچ ہے جو اسلامی نظریے کے بالکل منافی ہے اور اس سے متصادم ہے۔ اسلام اس نظریہ کاحامل ہے کہ مال زکوٰۃ ادا کرنے کے بعد نہ صرف پاک وصاف ہوجاتاہے بلکہ اس میں اللہ کی برکت بھی شامل ہوجاتی ہے۔ زکوٰۃ ایک ایسی مالی عبادت ہے جو ہرصاحب نصاب مسلمان عاقل، بالغ، مرد اور عورت پرفرض ہے ۔ زکوٰۃ مالی طورپر کمزور ہر صاحب ایمان کی ضروریات زندگی کابہترین حل اور ان کی معاشی پریشانیوں کا ایک شاندار علاج ہے۔ کمزور اور لاچار مسلمانوںکی خستہ حالی اور معاشی مسائل سے نمٹنے کا بہترین ذریعہ اور کامیاب وسیلہ ہے۔ قدرت نے امت مسلمہ پر زکوٰۃ فرض کرکے مسلمانوں کے معاشی اور اقتصاد ی حالات کو متزلزل اور غیر متواز ن ہونے سے بچایاہے۔ یہ مسلم قوم کی غربت اور اس کی مفلسی کو ختم کرنے کابہترین طریقہ ہے۔ اسلام کایہ ایک ایسا ناقابل قدر اور ذریں اصول ہے جسے دیگر مذاہب کے مالیاتی اصولوں کے مقابلے میں ایک امتیازی اور انفرادی حیثیت حاصل ہے ۔ اہل علم نے زکوٰۃ کوحقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں زمروں میں شامل کیا ہے اوریہی سچ بھی ہے۔ بندہایک طرف کو زکوٰۃ ادا کرکے حقوق العباد کے زمرے میں آنے والابندے کے اس حق کو اس تک پہونچاتا ہے دوسری طرف اس حق کو بندے تک پہونچاکر حکم الٰہی پر عمل پیرا ہوتاہے ۔ اس طرح سے زکوٰۃ دینے والاحقو ق اللہ اور حقوق العباد دونوں کو بیک وقت ادا کرتاہے۔ زکوٰۃ غریب اور نادار مسلمانوں کا حق ہے اگر اسے صحیح ڈھنگ سے قرآنی آیات اور تعلیمات کے مطابق مستحقین زکوٰۃ تک پہونچادیاجائے تویہ بارگاہ خدا میں ایک عظیم نیکی مانی جائے گی۔ جس کے عوض اس پر اللہ کی طرف سے بےشمار برکتیں نازل ہونگی اور زکوٰۃ ادا کرنے والے کا مال ہمیشہ گھٹنے کے بجائے بڑھتا ہی رہے گا۔
زکوٰۃ ادا نہ کرنے کی صورت میں مستحق زکوٰۃ اپنے حق زکوٰۃ سے محروم رہتا ہے ۔ اور زکوٰۃ نہ دینے والامستحق زکوٰۃ کے ساتھ حق تلفی کامرتکب ہوتاہے۔ دوسری طرف بندہ زکوٰۃ نہ دے کر فرمان الٰہی کی خلاف ورزی کرتاہے اور خداکے حق کو نہ ادا کرنے کا قصور وار ہوتاہے۔
زکوٰۃ ادا کرنے کاحکم سابقہ آسمانی شریعتوں میں
توحید، نماز اور روزہ کی طرح اللہ تعالیٰ کو زکوٰۃ بھی بہت پسند ہے۔ اسی لئے زکوٰۃ کو اللہ عز وجل نے تمام انبیاء کی امتوں کے لئے لازمی قرار دیاہے ۔ اس سلسلے میں قرآن نے حضرت ابراہیم ؑ اور ان کے صاحبزادے حضرت اسحاقؑ اور ان کے فرزند ارجمند حضرت یعقوب علیہم السلام کا ذکر کرتے ہوئے اس طرح سے کہا ہے:
وَأَوْحَيْنَآ إِلَيْهِمْ فِعْلَ ٱلْخَيْرَٰتِ وَإِقَامَ ٱلصَّلَوٰةِ وَإِيتَآءَ ٱلزَّكَوٰةِ
اورہم نے انہیں نیکیوں کے کرنے ، نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کاحکم وحی کے ذریعے دیاہے۔
سابقہ اقوام میں بنی اسرائیل کوبھی اللہ تعالیٰ نے نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم صادر فرمایا ، اس سلسلے میں قرآن یوں گویاہے:
وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ ۔۔۔نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو۔
قوم بنی اسرائیل کے تعلق سے دوسری جگہ پر ارشاد ربانی ہے:
لَئِنْ أَقَمْتُمُ الصَّلَاةَ وَآتَيْتُمُ الزَّكَاةَ ۔۔۔۔اگرتم نماز قائم کرتے رہے اور زکوٰۃ ادا کرتے رہے اور میرے رسولوں پر ایمان لاتے رہے اور ان کی مدد کرتے رہے اور الہ تعالیٰ کو بہترین قرض دیتے رہے تو میں یقینی طورپر تمہاری برائیاں تم سے مٹادوں گا اور تمہیں ان جنتوں میں ضرور بالضرور داخل کروں گاجن کے نیچے سے نہترین بہتی ہیں۔
یہ تمام آیات قرآنی اس بات پر شاہد ہیں کہ سابقہ آسمانی شریعت میں بھی نماز کے ساتھ ساتھ زکوٰۃ کی بھی ایک عظیم اور انفرادی حیثیت ہے۔
(ماخوذ از: ماہنامہ حج میگزین ممبئی۔۔۔نومبر ۲۰۱۵ء؁)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button