مضامین

گناہوں کو مٹانے والے اعمال توبہ واستغفار

اس دنیا کا نظام کچھ اس طرح بنایاگیاہے کہ اگریہاں زہر ہے تو اس کا تریاق ہے، بیماری ہے تو اس کا علاج ہے اور درد ہے تو اس کی دوا ہے۔ دھول مٹی اگرکپڑے اور جسم کوگندا کرتے ہیں تو صابن پانی ان کو صاف اور اجلابھی کردیتے ہیں۔ ہماری روحانی دنیا کابھی یہی حال ہے۔ گناہ اگرایک دھبہ ہے جودل کو سیاہ کردیتاہے تو توبہ واستغفار وہ پاک پانی ہے جو اس دھبے کو دھوکر دل کو دوبارہ اجلاکردیتاہے۔ معصیت اگردل کا ایک روگ ہے، روح کی صحت کے لیے ایک زہر ہے، تو توبہ اس مرض کی دوا اور زہر کا تریاق ہے، گناہ سے روح اگر آزردہ اور زخمی ہوتی ہے تو استغفار ایک مرہم ہے جو زخم کی سوزش کو خنکی میںبدل دیتاہے۔
اوپرگناہوں کو مٹانے والے جتنے اعمال کاذکر ہوا یا آئندہ ہوگا شریعت میں ان اعمال کا اصلی مقصد کچھ اور ہے، ہاں ان سے ایک ضمنی فائدہ یہ بھی ہوتاہے کہ ان کی برکت سے گناہ بھی معاف ہوجاتے ہیں، اورپھر ان سے صرف گناہ صغیرہ ہی معاف ہوتے ہیں، بڑے گناہ محض نیک اعمال کے کرنے سے معاف نہیں ہوتے، لیکن توبہ واستغفار کامعاملہ جدا ہے، یہ وہ مبارک ومسعود عمل ہے جس کا اصلی مقصد ہی گناہوں کی معافی اور ان کے وبال سے چھٹکاراحاصل کرناہے، چنانچہ گناہ چھوٹا ہویابڑا، ہرطرح کےگناہ توبہ واستغفار سے معاف ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جگہ جگہ توبہ واستغفار کرنے کی تاکید کی ہے اور بڑے مؤثر اور دل نواز انداز میں اس کی ترغیب دلائی ہے ، ایک موقع پرارشاد ہے:قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ۝ وَأَنِيبُوا إِلَىٰ رَبِّكُمْ وَأَسْلِمُوا لَهُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ ۝ (الزمر: ۵۳-۵۴)
(اے پیغمبر!) آپ کہہ دیجیے (کہ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے ) اے میرے وہ بندو! جو اپنے آپ پر زیادتی کرگذرے ہیں، اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو، بیشک اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو معاف فرمادیتاہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ بے حد معاف کرنے والااور بڑا مہربان ہے۔ اپنے پروردگار کی طرف واپس آجاؤ اور اس سے پہلے کہ تم پرعذاب آجائے پھر تمہاری مدد نہ کی جائے، اللہ کے فرماں برداربن جاؤ۔
کیسی عظیم خوش خبری ہے! کیسا دل نواز اور پیار بھرا خطاب ہے! یہ محبت بھراخطاب برگزیدہ رسولوں سے نہیں، نیکوں اور فرماں برداروں سے نہیں، بلکہ خاطیوں، پاپیوں، نافرمانوں اور ناہنجاروں سے ہے، ان سے ہے جن سے چھوٹا بڑا کوئی گناہ نہیں چھوٹا، انہیں کو ’’میرے بندو‘‘ کہہ کر اپنائیت کا احساس دلایا، اور یقین دلایا کہ تم نے خواہ کیسے ہی سنگین گناہ کرکے اپنے اوپر ستم ڈھایا ہو اور اپنے حق میں کانٹے بوئے ہوں اللہ سارے گناہوں کو معاف کردے گا، اس لیے کہ معافی ومہربانی اس کا شیوہ ہے ، لہٰذا وقت رہتے اپنے رب کی طرف لوٹ اؤ، اور اپنے گناہوں کیو جہ سے تردد کا شکار نہ ہو، ورنہ اگرخدانے ان نافرمانیوں کی وجہ سے عذاب بھیج دیا تو پھر کہیں سے کوئی مدد نہ مل سکے گی، اور توبہ کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہوجائے گا ، پھر خون کے آنسو رونے اور کف افسوس ملنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہوگا۔
حضرت علی ابن ابی طالبؓ فرماتے ہیں کہ قرآن میں اس آیت سے زیادہ وسیع کوئی آیت نہیں ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے اس آیت سے ہر ایک کے لیے توبہ کا دروازہ کھول دیاہے ، کوئی ہو، ، کیسے ہی گناہ کئے ہوں، اگر وہ معافی کا طالب بن کرآئے گا تواسے واپس نہیں کیاجائے گا، حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ آیت قرآن کی سب سے زیادہ امید دلانے والی آیت ہے۔ ( تفسیر قرطبی الزمر۵۳-۵۴)
حضرت ابن عباس ؓ فرماتےہٰیں: مَنْ أَيَّسَ عِبَادَ اللَّهِ بَعْدَ هَذَا فَقَدْ جَحَدَ كِتَابَ اللَّهِ. (تفسیر ابن کثیر الزمر ۵۳-۵۴)جس نے اللہ کے اس فرمان کے بعد بھی اللہ کے بندوںکو مغفرت سےمایوس کیا تواس نے اللہ کی کتاب کا انکار کیا۔
(ماخوذ از ماہنامہ ندائے شاہی، مراد آباد۔جولائی ۲۰۲۶ء؁) ۔۔۔جاری ہے ان شاء اللہ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button