حضوراکرمﷺ کا حلیہ مبارکہ-۳

حضرت علی ابن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نہ تو دراز قد تھے، نہ پستہ قد بڑے سر اور گھنی ڈاڑھی والے تھے، ہاتھوں کی ہتھیلیاں اورپاؤں پُرگوشت تھے، آپ کا رنگ سرخ وسفید تھا، ہڈیوں کے جوڑ موٹے تھے اور سینہ سے ناف تک بالوں کی ایک لمبی لکیر تھی جب آپ چلتے تو آگے کی جانب کو جھکے ہوئے چلتے گویا آپ بلندی سے نشیب میں جارہے ہوں، حقیقت یہ ہے کہ میں نے آپ جیسا کوئی شخص نہ تو آپ سے پہلے دیکھا اورنہ آپ کے بعد دیکھا آپ پر اللہ کی رحمت اور سلامتی ہو! اس روایت کو ترمذی نے نقل کیاہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
توضیح:’’مشرباحمرۃ‘‘یعنی آپ کے قدرے سفید بدن کو سرخی پلائی گئی تھی یعنی سرخ وسفید رنگ کا آمیزہ تھا جونہایت خوبصورت رنگ ہے، دومختلف رنگوں کی آمیزش کو تشریب کہتے ہیں گویا ایک رنگ کودوسرارنگ پلادیاگیا ہو۔ ’’الکرادیس‘‘یہ کردوس کی جمع ہے، ہر اُس ہڈی کو کہتے ہیں جودوسری ہڈی کے ساتھ کسی جوڑ پر جمع ہوجاتی ہے۔ ای عظیم الاعضاء مطلب یہ ہے کہ آپ کی ہڈیوں کے جوڑ موٹے تھے۔ ’’ینحط‘‘ یہ اُترنے کے معنی میں ہے۔’’من صبب‘‘یہ بلندی سے نیچے کی طرف آنے کو کہتے ہیں مطلب یہ کہ گویا آپ بلندی سے نشیبی کی طرف اتررہے ہیں یہ تکفاً کی تفسیر ہے، کشتی جب جھک کر آگے چلتی ہے اس کو تکفا کہتے ہیں۔
آنحضرت ﷺ کی جامع صفات
اور حضرت علی ؓ ابن ابی طالب سے روایت ہے کہ جب وہ نبی کریم ﷺ کے اوصاف بیان کرتے توکہتے کہ آنحضرت ﷺ نہ بہت لمبے تھے اورنہ بہت ٹھگنے بلکہ میانہ قدلوگوں میںسے تھے آپ کے بال تونہ بہت زیادہ گھونگھریالے تھے نہ بالکل سیدھے تھے بلکہ خفیف سابل کھائے ہوئے تھے، نہ منہ بالکل گول اوربھاری تھا اور نہ گال پھولے ہوئے تھے۔ روئے مبارک کسی قدر گولائی لئے ہوئے تھا، رنگ سرخ وسفید تھا، آنکھیں سیاہ تھیں، پلکیں بڑی بڑی تھیں، جوڑوں کی ہڈیاں ابھری ہوئی اور مونڈھوں کا درمیانی حصہ مضبوط اور پرگوشت تھا، جسم مبارک پر بال نہیں تھے صرف ایک لکیر بالوں کی تھی جو سینہ سے ناف تک چلی گئی تھی ، ہاتھ اور پاؤں بھرے ہوئے یعنی پُرگوشت تھے، جب راستہ چلتے تو قوت کے ساتھ قدم اٹھاتے جیسے بلندی سے نیچے اتررہے ہوں، جب دائیں یا بائیں متوجہ ہونا ہوتا تو پورے جسم کے ساتھ متوجہ ہوتے اور آپ کے دونوں شانوں کے درمیان مہرنبوت تھی اور آپ خاتم النبیین تھے، آپ تمام لوگوںمیں سب سے زیادہ دل کے سخی اور زبان کے نہایت سچے تھے، طبیعت کے بہت نرم اور سب سے معزز ومکرم انسان تھے ، جوشخص آپ کو پہلی مرتبہ دیکھتا اس پر ہیبت طاری ہوجاتی تھی اور جو شخص آپ سے واقفیت رکھتا ہوامیل جول رکھتا وہ آپ سے والہانہ محبت کرتا۔ آنحضرت ﷺ کی ان صفات وخصوصیات کو بیان کرنے والے کہتے ہیں کہ آپ جیسا کوئی شخص نہ تو میں نے آپ سے پہلے دیکھا اور نہ آپ کے بعد دیکھا! اللہ کی رحمت اور سلامتی ہو آپ پر! (ترمذی)
توضیح:’’الممغط‘‘میم اول پر ضمہ ہے دوسرا مفتوح ہے غین پر شد اور کسرہ ہے حد سے زیادہ لمبے کو کہتے ہیں یعنی لمڈین نہیں تھے۔ ’’المتردد‘‘حدسے زیادہ چھوٹے قد والے کو کہتےہیں گویا بعض اعضا بعض دوسرے کے اندر گھس گئے ہیں۔ ’’ربعۃ من القوم‘‘ ماسبق کے لئے تاکید ہے۔ ’’جعدًا رجلا‘‘یعنی معمولی گھونگریالے پیچدار بال تھے۔
’’بالمطھم‘‘ یہ لفظ اضداد میں سے ہے زیادہ گوشت والے موٹے کوبھی کہتےہیں اور کم گوشت والے لاغر کوبھی کہتے ہیں، پھولے ہوئے منہ ک بھی کہتے ہیں۔
’’المکلثم‘‘ معمولی گولائی کے ساتھ گول چہرہ والے تھے(اسی کی وضاحت اگلی عبارت ہے کہ ) بالکل گول چہرہ نہیں تھا کچھ گولائی تھی۔ ’’ابیض مشرب‘‘ یعنی آپ کا رنگ سفید تھا جس کو سرخ رنگ پلایا گیاتھا یا سفید سرخی مائل تھا۔ ’’ادعج العینین‘‘ ای اسود العینین مع سعتھما یعنی موٹی موٹی آنکھیں تھیں بہت سیاہ تھیں اس کے ساتھ سفیدی مخلوط تھی۔ اشکل العینین کے انداز پریہ کلام سمجھ لینا چاہیے۔
’’اھدب الاشفار‘‘ اھدب لمبے اور بڑے کے معنی میں ہے، اشفار پلکوں کے بالوں کو کہتےہیں یعنی پلکوں کے بال لمبے تھے۔ ’’جلیل‘‘بڑے کے معنی میں ہے۔ ’’ المشاش‘‘ ہڈی کو کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی ہڈیوں کے سر اور جوڑ بڑے اور مضبوط اور پُرگوشت تھے ، جیسے گھٹنوں، کہنیوں اورکلائیوں کی ہڈیوں کے جوڑ ہوتے ہین۔
’’الکتد‘‘ دونوں کاندھوں کے درمیان جو حصہ ہے اس کو کتد کہاگیاہے یعنی شانہ بھی مضبوط اور پُرگوشت تھا۔ ’’اجرد‘‘یعنی عام جسم پر زیادہ بال نہیں تھے۔ ’’ذومسربۃ‘‘گردن کی چنبر سے لے کر ناف تک بالوں کی ایک خوبصورت لکیر تھی اسی کو مسربۃ کہاگیاہے۔بچپن میں شرح صدر کے بعد فرشتے کے سی لینے کے نشان پر بال کی لکیر بنی ہوئی تھی اسی کا ذکر ہے۔
’’یتقلع‘‘یعنی چلنے کے وقت آپ چستی کے ساتھ زمین پر قدم اٹھا اٹھاکر چلتے تھے۔ عورتوں اور سست لوگوں کی طرح چپل گھسیٹ گھسیٹ کرنہیں چلتے تھے۔ اسی کیفیت میں یتکفا کی کیفیت بھی پیدا ہوتی ہے جس کا ذکر پہلے ہواہے۔
’’التفت معا‘‘یعنی متکبر لوگوں کی طرح آنکھوں کے کناروں سے نہیں دیکھتے تھے بلکہ جس طرف دیکھتے پوری نگاہ اور منہ موڑکر دیکھتے تھے۔ ’’صدرًا‘‘ سینہ کو صددر کہتے ہیں یہاں دل پر صدر کا اطلاق کیاگیاہے یعنی دل کے اعتبار سے آپ سب سے زیادہ سخی تھے۔’’لھجۃ‘‘ گفتگو اور زبان کے سچے تھے ،لہجہ زبان کو کہاگیاہے۔’’عریکۃ‘‘طبیعت اور مزاج اور پہلو کوکہتے ہیں۔ ’’عشیرۃ‘‘ میل جول اور معاشرت مراد ہے۔ ’’بدیھۃ‘‘ اچانک دیکھنے کو ’’بدیھۃ‘‘کہاگیاہے۔’’ھابۃ‘‘ یہ ہیبت سے ہے یعنی آپ کو اللہ تعالیٰ نے جو قدرتی رعب دیاتھا اس کی وجہ سے نووارد ڈرجاتاتھا۔ ’’خالطہ‘‘اختلاط سے ہے۔ ’’معرفۃ‘‘یعنی قریب سے دیکھ کر واقف ہونے پر آپ کا گرویدہ ہوجاتاتھا۔
عقلاء اور حکماء نے کہاہے کہ جس شخص کی ظاہری اور باطنی زندگی یکساں ہوں اور دونوں کھلی ہوئی کتاب ہوکوئی پہلو پوشیدہ نہ ہوتو ایسے شخص کے متعلقین اس سے الگ نہیں ہوتے بلکہ مزید گرویدہ ہوجاتےہیں۔ آنحضرت ﷺ کی زندگی کےتما م پہلو کھلی کتاب کی طرح واضح تھے اس لئے جس نے آپ کوقریب سے دیکھ کر قبول کرلیا توپھروہ شخص آنحضرتﷺ کا ہوگیا۔ جسم کے ٹکڑے اُڑجاتے مگر کوئی پیچھے نہیں ہٹتا اس کے برعکس اکثر وبیشتر اس شخص سے لوگوں کو دھوکہ اٹھانا پڑتاہے جس کا ایک پہلو خوشنما ظاہر ہو مگر دوسرا بدنما پہلو پوشیدہ ہو۔ آج کل غلط قسم کے لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں خواہ دنیا کے حوالہ سے بڑے بنے ہوں یا دین کے حوالے سے بڑے بنے ہوں۔ ’’ناعتہ‘‘ آنحضرت ﷺ کی صفت بیان کرنے والے کو ناعت اور نعت گو کہتے ہیں یہاں حضرت علی ؓ مراد ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ



