حضوراکرمﷺ کا حلیہ مبارکہ-۴

آنحضرت ﷺ کے جسم مبارک کی خوشبو
اورحضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب کسی راستہ سے گزرتے تو آپ کے بعد جو شخص اس راستہ سے گزرتا وہ آنحضرت ﷺ کے جسم مبارک کی خوشبو یا یہ کہاکہ آپ کے پسینہ مبارک کی خوشبو سے معلوم کرلیتاکہ آنحضرت ﷺ اس راستہ سے تشریف لے گئے ہیں۔(دارمی)
توضیح:’’الاعرف‘‘ یعنی آنحضرت ﷺ کی قدرتی خوشبو آپ کا پتہ دیتی تھی یہ آپ کے جسم کی ذاتی خوشبو تھی اس کے ساتھ ساتھ آپ بہت زیادہ خوشبو بھی استعمال فرماتے تھے بہرحال آپ کا مبارک معطر بدن آپ کے رخ کی اطلاع دیتاتھا ، شاعر کہتاہے:
قلق الملیحۃ وھی مسک ھتکھا ومسیرھافی اللیل وھی ذکاء
واذا کتمت وشت بک الالاء
آپ ﷺ کا وجود آفتاب کی طرح تھا
محمد ابن عمار ابن یاسرؓ کے صاحبزادے ابوعبیدہ ؓکہتے ہیں کہ میں نے معوذ ابن عفراء کی صاحبزادی حضرت ربیع سے کہاکہ آپ ہمارےسامنے رسول کریم ﷺ کا وصف بیان کریں تو انہوں نے کہاکہ میرے بیٹے اگرتم آنحضرت ﷺکو دیکھ لیتے تو یہی سمجھتے کہ چمکتا ہوا سورج دیکھ لیاہے۔ (دارمی)
توضیح: ’’الشمس طالعۃ‘‘ یعنی آنحضرت ﷺ کا چہرہ ایسا چمکتا دمکتا تھا جس طرح آفتاب نصف النہار میں چمکتاہے بعض صحابہ ؓ نے آپ کا چہرہ چاند کی طرح بتایاہے ہر ایک نے اپنے اپنےا نداز سےبتایاہے اس کے ساتھ اگر آپ کی سیاہ زلفوں کاتذکرہ ہوجائے تو پھر کیا کہنا ۔۔۔ ایک شاعر نے کہا:
مثالے را کہ در شرطیہ گفتند —— بگوبامنطقیاں کاں ہست مردود
رخ وزلفین یارم را نظرکن—— کہ شمس طالع واللیل موجود
چاند سے زیادہ خوبصورت
اورحضرت جابر ابن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں چاندنی رات میں نبی کریم ﷺ کو دیکھ رہاتھا اور صورت یہ تھی کہ کبھی رسول کریم ﷺ کے جمال عالمتاب کی طرف نظرکرتا اور کبھی چاند کو دیکھتا اس وقت آپ کے جسم پر اس کپڑے کا لباس تھا جس میں سرخ اور سفید دھاریاں تھیں، حقیقت یہ ہے کہ میرے نزدیک آپ کا حسن وجمال چاند سے کہیں زیادہ تھا۔ (ترمذی، دارمی)
توضیح: ’’اضحیان‘‘ چاندنی رات کو کہتے ہیں۔’’حلۃ‘‘سوٹ کو کہتے ہیں جس میں قیمص شلوار ایک قسم کپڑے سے ہوں۔
’’حمراء‘‘سرخ جوڑا پہننا ممنوع ہے یہاں حمراء سے سرخ جوڑا مراد نہیں بلکہ ایسا کپڑا مراد ہے جس میں سرخ دھاریاں ہوں زمین سرخ نہ ہو۔ ’’احسن عندی‘‘ عندی کا مطلب یہ نہیں کہ میرے نزدیک اس طرح تھے اور دیگر لوگوں کے نزدیک ایسانہیں تھے بلکہ مطلب یہ ہے کہ حضرت جابر ؓ نے اپنے ذاتی جذبات کااظہار کیاہے اور عقیدت کوظاہر کرنے کےلئے ایسا کہاہے اس سے کوئی منفی پہلو مقصود نہیں ہے ۔ حضرت حسان ؓ نے کہا:
واحسن منک لم ترقط عینی ——-واجمل منک لم تلد النسآء
خلقت مبرا من کل عیب——-کالک قد خلقت کما تشأو
یاصاحب الجمال ویاسید البشر—–من وجھک المنیر لقد نورالقمر
لایمکن الثناء کما کان حقہ——–بعداز بزرگ توئی قصہ مختصر
سنا ہے کہ ابوعلی سینا نے آنحضرتﷺ کی سیرت سے متعلق ایک کتاب لکھی ہے اس میں لکھاہے کہ حسن تناسب اعضاء کا نام ہے اور حضور اکرم ﷺ مکمل طورپر متناسب الاعضاء تھے۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضور اکرم ﷺ تک کوئی شخص متناسب الاعضاء پیدا نہیں ہوا اورنہ قیامت تک پیدا ہوگا۔ لہٰذا حسن وجمال میں آنحضرت ﷺ یکتائے روزگارتھے۔
گویا حضور اکرم ﷺ کے چہرہ میں آفتاب دوڑرہاہے
اورحضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ سےز یادہ حسین وجمیل کوئی چیز نہیں دیکھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک آفتاب ہے جو آپ کے چہرۂ مبارک سے جلوہ ریز ہورہاہے اور میں نے رسول کریم ﷺ سےزیادہ رفتار میں کسی کونہیں پایا ایسالگتا ہےکہ آپ کے سامنے زمین لپیٹی جارہی ہے، حقیقت یہ ہے کہ ہم تو سخت جدوجہد اور کوشش کرتے لیکن آپ اپنی بے نیاز چال چلتے تھے۔ (ترمذی)
توضیح: ’’الارض تطویٰ لہ‘‘ یہ آ پ کا معجزہ تھا کہ آپ کے لئے زمین لپٹی جارہی تھی۔ ’’لنجھد‘‘یعنی ہم بڑی جدوجہد اور مشقت کے ساتھ تیز تیز چلتے تھے اور آپ ’’غیر مکترث‘‘ تھے یعنی اپنی عادت کے مطابق چلتے تھے’’اکتراث‘‘ کثرت سے ہے زیادہ تیز چلنے کی نفی ہے۔
آنحضرت ﷺ کی آنکھیں سرمگین تھیں
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ فِي سَاقَيْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ حُمُوشَةٌ، وَكَانَ لَا يَضْحَكُ إِلَّا تَبَسُّمًا، وَكُنْتُ إِذَا نَظَرْتُ إِلَيْهِ قُلْتُ: أَكْحَلُ الْعَيْنَيْنِ، وَلَيْسَ بِأَكْحَلَ.۔(رواہ الترمذی)
اورحضرت جابر ابن سمرہؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کی پنڈلیاں سبک ونازک تھیں۔ اور آپ ہنسا نہیں کرتے تھے بلکہ مسکرایاکرتے تھے اور میں جب آپ کی طرف دیکھتا تو دل میں کہتا کہ آپ سرمہ لگائے ہوئے ہیں حالانکہ آپ سرمہ لگائے نہ ہوتے تھے۔(ترمذی)
توضیح:’’ولیس باکحل‘‘ یعنی دیکھنے میں نظر آتاتھا کہ آنحضرت ﷺ نےسرمہ استعمال کیاہے حالانکہ ایسانہیں تھا بلکہ آپ کی آنکھیں پیدائشی طورپر سرمگین تھیں اسی طرح آنحضرت ﷺ مختون پیدا ہوئے تھے اور ناف بریدہ پیدا ہوئے تھے یہ آپ کی بعض خصوصیتیں تھیں۔ ’’حموشہ‘‘ٹانگوں کی خوبصورتی اس میںہے کہ اس میں نازکی ہو اور زیادہ گوشت نہ ہو اسی مقصد کے لئے حموشۃ کالفظ استعمال کیاگیاہے۔(مشکوٰۃ شریف۔جلد اول)
جاری ہے۔۔۔۔۔ ان شاءاللہ تعالیٰ



