اسلام کانظام میراث-(۶)

اسلام کا قانونِ میراث اور عورتیں
اسلام سے پہلے زمانۂ جاہلیت میں عورتیں حقوق وراثت سے محروم تھیں، عربوں کاتصور یہ تھا کہ میراث میں حصہ دار وہی ہوتاہے جو گھوڑے کی سواری کرسکے اور میدان کا رزار میں قبیلہ کا دفاع کرسکے۔ عورت چونکہ اس صلاحیت سے محروم ہے لہٰذا اسے میراث نہیں ملنی چاہیے۔ خواہ وہ مرنے والے کی لڑکی، بیوی یا ماں ہی ہو، اور تمام اقرباء میں میت کا اس سے رشتہ سب سے نزدیکی ہو۔ حضرت سعید بن جبیرؒ اور حضرت قتادہؒ سے مروی ہے کہ مشرکین صرف بالغ مردوں کو میراث میں حصہ دیتے۔ عورتوں اور نابالغ بچوں کومیراث سے محروم رکھتے تھے۔
اسی لئے جب قرآن میں عورتوں ،بچوں کومیراث دینے کاحکم نازل ہوا توبعض اہل عرب کو اشکال ہوا اورانہوںنے رسول اکرمﷺ سے عرض کیا کہ ایک لڑکی کوباپ کا آدھا ترکہ دیا جائے گا، حالانکہ وہ تو نہ گھوڑے پر سوار ی کرپاتی ہے نہ جنگ کرپاتی ہے اور بچوں کو میراث دی جائے گی حالانکہ وہ کسی کام نہیں آتے۔
اسلام نے اس نظریہ پر کاری ضرب لگائی کہ میراث کے مستحق وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو جنگ اور مدافعت کرسکتے ہوں۔ قرآن نے پوری صراحت اور قوت سے میراث میں عورتوں اور بچوں کا حق متعین فرمایا۔ اس سلسلہ کی اصولی اور اجمالی بات اس آیت میں بیان کی گئی :
لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ ۚ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا (نساء :۷)
جومال ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑکر مریں تھوڑا ہویا بہت، اس میں مردوں کابھی حصہ ہے اور عورتوں کابھی۔ یہ حصے(خداکے) مقرر کئے ہوئےہیں۔
(ازکتاب: اسلام کانظام میراث۔ حضرت مفتی عتیق احمد صاحب بستوی)۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔۔۔۔۔



