مضامین

بندوں کے جیسے اعمال ہوں گے اسی کے مطابق اللہ کی طرف سے فیصلے ہوں گے-(۳)

عورتوں کے حقوق کی ادائیگی ان کی رعایت ومروت اور دل جوئی کس حد تک؟
وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ
مذکورہ آیت میں بیویوں کے حقوق کو معروف کے ساتھ ادا کرنے کا حکمد یاگیاہے اور مطلب یہ ہے کہ بیوی کے حقوق ادا تو کرو، ان کے ساتھ احسان توکرو، ان کی دلجوئی بھی کرو، لیکن معروف کے ساتھ ، یعنی حدودِ شرع میں رہتے ہوئے ، حدود جواز میں رہ کر ہی ان کی دلجوئی کرو، یہ نہیں کہ بیوی نے خلاف شرع کسی بات کو کہہ دیا تو اس کو بھی کرنے لگے، اس کے کہنے سے خلاف شرع لباس پہننے لگے، اس کے کہنے سے داڑھی چھوٹی کرادی، اس کے کہنے سے قریبی رشتہ دار مثلاً ماں باپ، بھائی بہن وغیرہ جن کے ساتھ صلہ رحمی کرنے اور ہمدردی وخیر خواہی کرنے کاحکم دیاگیاہے، ان سے بھی قطع تعلق کرلیا، یہ سب معروف کے خلاف ہے، اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے ضابطہ بیان فرمایا:
لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ (مشکوٰۃ شریف)
یعنی اللہ کی نافرمانی میں کسی بھی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں ، خواہ بیوی ہو، ماں باپ ہوں، استاد پیرہو، خلاف شرع باتوں میں کسی کی اطاعت جائز نہیں، اس لیے یہاں پربھی اللہ نے قید لگادی کہ بیوی کی دلجوئی کرو، لیکن معروف کے ساتھ، یعنی حدود جواز میں رہتے ہوئے ، خلاف شرع باتوں میں نہیں، ایسا نہ ہوکہ بیگم صاحبہ نے خواہش کی کہ مسوری پہاڑ ٹہلنے جاناہے، میری سہیلی جارہی ہے، اجنبی آدمی کے ساتھ بھیج دیا، شوہر کے دوست کے ساتھ بیگم صاحبہ ٹہلنے جارہی ہیں، ہفتہ ہفتہ، بلکہ مہینہ مہینہ بھر تک اجنبی آدمی کے ساتھ ہیں، یہ بے حیائی نہیں تو اور کیاہے؟ ناجائز ہونے کے علاوہ خود غیرت کے بھی توخلاف ہے، اس لیے شریعت نے حکم لگادیا کہ بیوی کے حقوق ادا کرو، ان کی دلجوئی کرو، لیکن معروف کے ساتھ یعنی حدود جواز میں رہ کر۔
اس کا دوسراپہلو یہ بھی ہے کہ بیوی پرپابندی لگادی کہ باپ کی شکل نہ دیکھنا، ماں باپ سے ملاقات نہ کرنا، اپنے میکے مت جانا، یابیوی کو نیم عریاں لباس پہنانا، ننگے نچانا، نامحرم کے ساتھ بات چیت کروانا ،یارواحباب اور دوست آئے تو بیوی سے کہنا کہ چائے بناکر ان کے سامنے لاؤ، ان کو اپنے ہاتھ سے پیش کرو، اپنے ہاتھ سے چائے پلاؤ، میاں صاحب تو کچہری میں آفس مین بیٹھے ہوئے ڈیوٹی پر ہیں اور میاں صاحب کے دوست واحباب جب آتے ہیں تو بیگم صاحبہ ان کو اپنے ہاتھ سے چائے پیش کرتی ہیں، پتہ نہیں وہ کیا کریں؟ اور کیا کچھ نہیں کرسکتے اور کیا نہیں کرتے؟ ارے یہ تو انسانی غیرت کے بھی خلاف ہے، کیسے جی گوارا کرتاہے؟ دوسرے مرد کے ساتھ، اجنبی مرد کے ساتھ کار میں بیٹھے گھوم رہی ہیں، بازار میں سیروتفریح کررہی ہیں اور ایسا بھی ہوتاکہ میاں بیوی دونوں بازار شاپنگ کرنے گئے، مارکیٹ پہنچے اب میاں صاحب توکار میں چپراسی بنے بیٹھے ہیں اور بیگم صاحبہ نوکر کے ساتھ بازار میں دُکانداری کرہی ہیں، دُکاندار سے بات کررہی ہیں، دکان میں یہ تھان وتھان اور تمام طرح کے سامان کامعائنہ کررہی ہیں، ارے شوہر کیوں نہیں یہ کام کرتا؟ یاکم ازکم شوہر ساتھ میں ہوتا۔
(احقر راقم الحروف عرض کرتاہے کہ بعض شہروں میں معلوم ہوا کہ مولوی صاحب یا امام صاحب کسی بڑے گھر میں سیٹھ صاحب کے گھر ٹیوشن پڑھانے جاتے ہیں ، سیٹھ صاحب کوتو چھٹی نہیں، آفس میں ہیں، فون کردیا کہ مولوی صاحب ، امام صاحب آج بچوں کو پارک ٹہلالائیے، شاپنگ کرادیجئے، اب مولوی صاحب، امام صاحب ان کو کار میں بیٹھے گھمارہے ہیں، بےپردہ جوان لڑکوں لڑکیوں کو پارک میں ٹہلا رہےہیں، سیٹھ صاحب بھی بڑے خوش اور مولوی صاحب کو بھی مزہ آرہاہے۔ اناللہ واناالیہ راجعون۔۔ یہ سب معروف کے خلاف ہے اور قطعی طورپر ناجائز وحرام ہے)
اس ضمن میں حضرت نے فرمایا کہ بعض لوگوں کی ہزاروں لاکھوں روپئے تنخواہ ہوتی ہے اور ٹٹروٹوں میاں بیوی صرف دوآدمی ہیں، لیکن اتنی بڑی تنخواہ میں بھی ان کا خرچ پورا نہیں ہوتا کیوں؟ اس لیے کہ خرچ کامعیار اتنا بلند کررکھاہے کہ بہترین کھانا ضرور ت سے زائد پکایا جائے گا، باسی کھانا نہ کھایاجائے گا، جوبچ جائے گا سب پھینک دیاجائے گا، یہ کھانے کی اور اللہ کی نعمت کی ناقدری نہیں تو اورکیاہے؟ پھر کہتے ہیں مولاناصاحب خرچ پورانہیں ہوتا، برکت کاتعویذ دے دیجیے، ارے کفایت شعاری کرو، فضول خرچی سے بچو، پھر دیکھو کیسے خرچ پورانہ ہوگا؟۔
(ماہنامہ ندائے شاہی، مراد آباد ۲۰۲۶ء؁جولائی )۔۔۔جاری ہے۔۔۔ان شاء اللہ تعالیٰ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button