مضامین

اللہ تعالیٰ کے دربار میں اہلِ تقویٰ کی مہمان نوازی

ارشاد ربانی: لَٰكِنِ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا نُزُلًا مِّنْ عِندِ اللَّهِ ۗ وَمَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ لِّلْأَبْرَارِ
(آل عمران ،آیت :۱۹۸)
ترجمہ:’’لیکن جولوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں اُن کے لئے (جنت میں) ایسے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، وہ اُن میں ہمیشہ رہیں گے، یہ اُن کے لئےا للہ کی طرف سے مہمان نوقازی ہے اور جو (نعمتیں) اللہ کے پاس ہیں، وہ نیک لوگوں کے لئے بہت بہترین ہیں۔‘‘
گزشتہ آیت میں اہل ایمان کو متنبہ کیاگیاتھا کہ وہ کفار کی دنیا کی زندگی میں آسائشیں دیکھ کر دھوکہ میں نہ پڑیں۔ اب اس آیت میں متقیوں کے لئے آخرت میں جس اعزاز واکرام اور نعمتوں کا انتظام اللہ تعالیٰ کی طرف سے کیاگیا ہے، اُس کی بشارت سنائی جارہی ہے ، تاکہ دنیا کی فانی نعمتوں کے مقابلے میں آخرت میں ہمیشہ باقی رہنے والی نعمتوں کی طرف لوگوں کا رجحان ہو اور اہل ایمان پورے ذوق وشوق کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اطاعت وبندگی اور شریعت کی پاس داری میں زندگی گزاریں۔
اس لئے کہ جس انسان کی نظر آخرت کے ان انعامات پر جم جائے گی، وہ اُن کو حاصل کرنے کے لئے نہ صرف یہ کہ ہر قربانی دینے کو تیار ہوگا بلکہ اُس کی نظر میں آخرت کے مقابلے میں دنیا کی ہرچیز بے حیثیت ہوجائے گی اور وہ نفسانی اور مادی تقاضوں کوپوری طرح نظرانداز کرکے اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی میں لگ جائے گا۔
اسی یقین کو دل میں بٹھانے کے لئے اس آیت کے آخری جملے میں یہ سچائی بیان کی گئی کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں نیک لوگوں کی مہمان نوازی کے جو عظیم الشان انتظامات ہیں، اُن سے بہتر کسی انتظام کا تصور نہیں کیا جاسکتا ، کیوں کہ اولاً تو وہ نفاست کے اعلیٰ ترین معیار پر ہیں، جہاں تک انسان کے حواس رسائی حاصل نہیں کرسکتے۔ اور دوسری بڑی بات یہ ہے کہ وہ نعمتیں وقتی اور عارضی نہیں، بلکہ ہمیشہ نصیب رہنے والی ہیں، جو بجائے خود ایک مستقل انعام ہے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو اپنے فضل وکرم سے ان نعمتوں کا مستحق بنائیں اور دارین میں اپنی رضا اور خوشنودی عطا فرمائیں۔ آمین
(ماخوذاز: ماہنامہ ندائے شاہی ، مراد آباد۔جولائی ۲۰۲۶ء؁)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!