شریک حیات کا انتخاب کیسے کریں-۳

لڑکے کا انتخاب
عموماً لڑکے کے انتخاب میں صرف اس بات کو دیکھا جاتاہے لڑکا کتنا کماتاہے، حالاں کہ شریعت کی روشنی میں صرف اسی کو معیار بنانا صحیح نہیں ہے، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’إِذَا جَاءَكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ وَخُلُقَهُ فَأَنْكِحُوهُ، إِلَّا تَفْعَلُوا تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ ‘‘ وفی روایۃ: إِذَا خَطَبَ إِلَيْكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ وَخُلُقَهُ فَزَوِّجُوهُ.(سنن ترمذی : ۱۰۸۵)
یعنی کہ اگر تمہاری لڑکی کے لیے کوئی ایسا رشتہ آئے جس کے اخلاق اور اس کی دینداری سے تم مطمئن ہوتو اپنی لڑکی کانکاح کرادو۔ ورنہ زمین میں فتنہ پھیلے گا اورفساد برپا ہوگا۔
لڑکے کے دیندار اور حسن اخلاق کاحامل ہونے کامطلب صرف یہ نہیں ہے کہ لڑکا صوم و صلوٰۃ کاپابند ہو، بلکہ فرائض ادا کرنے والا، سنت کا پابند ہو، سنن و مستحبات پربھی عمل کرنے والاہو، اپنی ذمہ داریوں سے خوب واقف ہو، بیوی کے حقوق کوبحسن وخوبی ادا کرسکتا ہو، فاسق وفاجر نہ ہو، حسن اخلاق وکردار کا پیکرہو، کسب معاش کے لیے تگ ودوکرنے والاہو، محنتی اور جفاکش ہو، بیوی بچوںپر خوش دلی سے خرچہ کرنے والاہو، لالچی اور بخیل نہ ہو، جری اوربہادر ہو، لاپرواہ اور نکمانہ ہو۔ بیوی کی عزت وآبرو کی حفاظت کرنے والاہو، بیوی کے ناز ونخرے برداشت کرنے والاہو، بیوی پر ظلم کرنے والانہ ہو۔ گالم گلوچ اور مارپیٹ کرنے کاعادی نہ ہو۔ اگر لڑکا دیندار اور حسن اخلاق کاحامل ہوگا، تو وہ ہر میدان میں کامیاب ہوگا، جہیز کا مطالبہ نہیں کرے گا، بیوی اور اس کے میکہ والوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آئےگا، ان کی عزت کرے گا، بیوی کے حقوق ادا کرے گا۔
اس حدیث میں ان لوگوں کے لئے بڑی نصیحت ہے جو محض مالدار لڑکے کے انتظار میں اپنی جوان بیٹیوں کو بٹھارکھتے ہیں، اور ان کی زندگی کا اہم ترین حصہ یوں ہی لڑکا دیکھنے اور دِکھانے میں گزر جاتاہے اور نوبت یہاں تک پہونچ جاتی ہے کہ اخیر وقت میں کسی بھی طرح کا کوئی بھی لڑکا انہیں شادی کرنے کےلیے تیارنہیں ہوتاہے۔
یہاں یہ واضح کرنا بھی مناسب معلوم ہوتاہے کہ ان صفات عالیہ کے ہونے کایہ مطلب نہیں کہ سوفیصد موجود ہوں، بلکہ مقصدیہ ہے کہ اپنے شریک حیات کے انتخاب کرنے میں ان چیزوں کو ملحوظ رکھاجائے۔
(ماہنامہ حج میگزین ،جون ۲۰۱۷ء)۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔ان شاء اللہ تعالیٰ



