مضامین

ماں باپ اور اولاد کے حقوق واحکام-۵

باپ کی امداد نفل عبادت سے افضل ہے
سوال:(۹۹۹) زید کے ذمے قرض بہت ہے، اس کا ایک لڑکا بڑا متقی ، عابد، زاہد شخص ہے، لیکن وہ اپنے باپ کے قرضہ کا کچھ خیال نہیں کرتا، اگر اسے نوکری وغیرہ کے لیے کہا جاتاہے تو وہ دھمکی دیتاہے کہ میں علیحدہ ہوجاؤں گا ، اور ہمیشہ نوافل اور روزہ وغیرہ میں اوقات بسرکرتاہے ، باپ کی حالت نہایت نازک ہے، اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ آیا ایسے وقت میں اس کو اپنے باپ کا ہاتھ بٹانا چاہیے یا نوافل وغیرہ میں اوقات بسر کرے؟ اور اس کا اپنے والد کو یہ دھمکی دینا کس حد تک درست ہے؟ (۹۱۶/۴۴-۱۳۴۵ھ)
الجواب: والدین کے حقوق لاتعدّ ولاتحصی(بے شمار ) ہیں، ان کالحاظ ہر اولاد کے لیے ازحد ضروری ہے، زید پرفرض ہے کہ ہرحالت میں اپنے باپ کی اطاعت کرے، خصوصاً جب کہ باپ صاحب حاجت وکثیر العیال ہے تو ضروری ہے کہ ہرمشکل میں اس کا ہاتھ بٹایا جاوے، اس کے لیے باپ کی خدمت اور اطاعت افضل ترین عبادت ہے، فرائض اسلامی کاتعلق جس طرح صلاۃ و صوم سے ہے اسی طرح اطاعت والدین سے بھی ہے۔ پس عبادت ضروری کے سوا باپ کے ساتھ ہرکام میں اس کی امداد کرنی چاہیے، یہ نماز وروزہ بھی جب ہی کارآمد ہے کہ حقوق العباد سے غفلت نہ ہو، الحاصل زید پر اپنے باپ کی اطاعت اور اعانت اور ہر مشکل میں اس کا ہاتھ بٹانا ضروری ہے۔
بِرُّ الْوَالِدَيْنِ أَفْضَلُ مِمَّا تَلْقَى اللَّهَ بِهِ بَعْدَ التَّوْحِيدِ،وَقَدْ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ:بِرُّ الْوَالِدَيْنِ أَفْضَلُ مِنَ الصَّلَاةِ وَالصَّوْمِ وَالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ وَالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ،يَعْنِي النَّوَافِلَ. ذَكَرَهُ الْإِمَامُ رَحِمَهُ اللَّهُ. (۱) (شرعۃ الاسلام) ۔اسی طرح باپ کے ساتھ سخت کلامی یاترش روئی سے پیش آنا یادھمکی دینا معصیت ہے۔ قَالَ اللہُ تَعَالیٰ: فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَاالایۃ (سورۂ بنی اسرائیل، آیت :۲۳) فقط۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ،جلد ۱۶)۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button