Uncategorized

مَضَامینِ رَمضَانُ المُبَارک:فضائل ومسائل-۶

ترجمہ:’’اور جب تجھ سے پوچھیں میرے بندے مجھ کو، سو میں تو قریب ہوں، قبول کرتا ہوں دعا مانگنے والے کی دعاء کو جب مجھ سے دعاء مانگے، تو چاہیے کہ وہ حکم مانیں میرا، اور یقین لائیں مجھ پر، تاکہ نیک راہ پر آئیں۔‘‘
خلاصۂ تفسیر مع ربط آیات
پچھلی تین آیتوںمیں روزہ اور رمضان کے احکام اور فضائل کاذکرتھا، اور اس کے بعد بھی ایک طویل آیت میں روزہ اور اعتکاف کے احکام کی تفصیل ہے، درمیان کی اس مختصر آیت میں بندوں کے حال پرحق تعالیٰ کی خاص عنایت ، ان کی دعائیں سننے اور قبول کرنے کا ذکر فرماکر اطاعتِ احکام کی ترغیب دی گئی ہے، کیونکہ روزہ کی عبادت میں رخصتوں اور سہولتوں کے باوجود کسی قدر مشقت ہے، اس کو سہل کرنے کیلئے اپنی مخصوص عنایت کاذکر فرمایا، کہ میں اپنے بندوں سے قریب ہی ہوں جب بھی وہ دعا مانگتے ہیں میں اُن کی دعائیں قبول کرتا ہوں اور ان کی حاجات کوپورا کردیتاہوں۔
ان حالات میں بندوں کو بھی چاہیے کہ میرے احکام کی تعمیل میں کچھ مشقت بھی ہوتو برداشت کریں، چنانچہ ارشاد فرمایا، اور امام ابن کثیرؒ نے اس درمیانی جملہ ترغیب دعاء کی یہ حکمت بتلائی ہے کہ اس آیت نے اشارہ کردیا کہ روزہ کے بعد دعاء قبول ہوتی ہے ، اس لئے دعاء کا خاص اہتمام کرنا چاہیے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لِلصَّائِمِ عِندَ فِطْرِهِ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ (ابوداؤد طیالسی بروایۃ عبداللہ بن عمر)
’’یعنی روزہ افطار کرنے کے وقت روزہ دار کی دعاء قبول ہے۔‘‘
اسی لئے حضرت عبداللہ بن عمرؓ افطار کے وقت سب گھروالوں کو جمع کرکے دعاء کیا کرتے تھے، تفسیر آیت کی یہ ہے:
اور(اے محمدﷺ) جب آپؐ سے میرے بندے میرے تعلق دریافت کریں (کہ میں ان سے قریب ہوں یادور) تو (میری طرف سے اُن سے فرمادیجئے کہ ) میں قریب ہی ہوں ( اور باستثناء نامناسب درخواست کے) منظور کرلیتاہوں(ہر) عرضی درخواست کرنے والے کی جب کہ وہ حضور میں درخواست دے، سو(جس طرح میں اُن کی عرض معروض کو منظور کرلیتا ہوں) ان کو چاہیے کہ میرے احکام کو(بجاآوری کے ساتھ)قبول کیاکریں (اور چونکہ ان احکام میں کوئی حکم نامناسب نہیں اس لئے اس میں استثناء ممکن نہیں) اور مجھ پر یقین رکھیں ( یعنی میری ہستی پر بھی میرے حاکم ہونے پربھی میرے حکیم ہونے پر اور رعایت و مصالح پربھی اس طرح) امید ہے کہ وہ لوگ رشد(وفلاح) حاصل کرسکیں گے۔
مسئلہ: اس آیت میں اِنِّیْ قَرِیْبٌ فرماکر اس طرف بھی اشاردہ کردیا کہ دعاء آہستہ اور خفیہ کرنا چاہیے، دعاء میں آواز بلند کرناپسند نہیں، ابن کثیر ؒ نے آیت کا شانِ نزول یہی ذکرکیا ہے کہ کسی گاؤں والے نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ ہمارا رب اگرہم سے قریب ہے تو ہم دعاء آہستہ آواز سے مانگاکریں، اور دورہوتو بلند آواز سے پکاراکریں۔
(تفسیر معارف القرآن، جلد اول)۔۔۔۔۔جاری ہے ان شاء اللہ تعالیٰ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!