مضامین

عمرہ ایک اہم عبادت ہے، اسے سیاحتی سفر مت بنائیے-۲

حج وعمرہ کے روحانی اورمادی فوائد میں یکسانیت کی وجہ یہ ہے کہ بیت اللہ شریف سے متعلق طواف وسعی اور تلبیہ واحرام کاجوعمل حج میں ہوتاہے، وہ عمرہ میں بھی ہوتاہے، اسی لئے آپ ﷺ نے عمرہ کو حج اصغر قراردیاہے:
’’وان العمرۃ الحج الأصغر‘‘
(الدارقطنی، کتاب الحج، حدیث نمبر:۲۶۹۷)
یہ تو عمرہ کی عمومی فضیلت ہے، لیکن رمضان المبارک میں چوں کہ ہر عمل کا ثواب بڑھ جاتا ہے اس لئے اس ماہ مبارک میں عمرہ کرنے کا اجر بھی زیادہ ہے۔ مدینہ میں ایک انصاری خاتون ام سنان رضی اللہ عنہا نام کی تھیں، وہ حجۃ الوداع میں آپ ﷺ کے ساتھ حج میں شریک نہیں ہوسکیں، آپ ﷺ نے ان سے سبب پوچھا، انہوںنے عرض کیا کہ میرے پاس دوہی اونٹ ہیں، ایک اونٹ میرے شوہر اور لڑکے لے کر چلے گئے اور آپ ﷺکے ساتھ حج کی سعادت حاصل کی اور دوسرا اونٹ پانی لانے اور دوسرے کاموں میں استعمال ہوتا ہے، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب رمضان آئے تو عمرہ کرلینا: کیوں کہ رمضان کا عمرہ بھی حج کے برابر ہے:’’فاذاجاء رمضان فاعتمریی؛ فان عمرۃتعدل حجۃ‘‘(صحیح مسلم، حدیث نمبر:۱۲۵۶، باب فضل العمرۃ فی رمضان)، بعض روایتوں میں اس سے بھی بڑھ کربشارت آئی ہے کہ رمضان میں عمرہ کرنا خود رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کرنے کے درجہ میں ہے۔(دیکھئے: سنن ابی داؤد، حدیث نمبر: ۱۹۹۰) غالباً یہ بات آپ نے ان لوگوں کوتسلی کے لئے فرمائی، جوآپ ﷺ کے ساتھ تشریف نہ لے جاسکے، حالاں کہ وہ اس کے آرزومند تھے، یہ شریک نہ ہونا مختلف اعذار کی بناء پر ہواہوگا، جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مدینہ بالکل خالی نہ ہو جائے۔
رسول اللہ ﷺ کوہجرت کے بعد رمضان المبارک میں عمرہ کا موقع نہیں ملا اور اہل مکہ سے ناخوشگوار تعلقات کی وجہ سے مدنی زندگی میں حضورﷺ اور آپﷺ کے رفقاء کا بار بار عمرہ کرنا ممکن نہیں تھا، لیکن پھر بھی آپ ﷺ نے واقعۂ حدیبیہ کو لے کر چار عمرے فرمائے ہیں، پہلا ۶ھ میں، جب آپ ﷺ حدیبیہ تشریف لائے اور وہاں صلح طے پائی، یہ عمرہ نامکمل رہا، کیوں کہ مشرکین مکہ کی رکاوٹ کی وجہ سے آپ ﷺ عمرہ نہ کرپائے ، دوسرا عمرہ آئندہ سال اس عمرہ کی قضاء کے طورپر، اس کو ’’عمرۃالقضاء‘‘ کہاجاتاہے، تیسرا عمرہ فتح مکہ کے موقع سے ، جب آپ ﷺ نے اس موقع سے حج قِران کااحرام باندھاتھا، جس میں حج وعمرہ دونوں جمع ہوتاہے اوریہ تمام ہی عمرے ماہ ذی القعدہ میں کئے گئے۔(بخاری، کتاب العمرۃ، باب کم اعتمر النبی؟ حدیث نمبر: ۱۷۷۸، صحیح مسلم، کتاب الحج، باب بیان عدد عمر النبی وزمانہن، حدیث نمبر:۳۰۹۲، سنن أبی داؤد، کتاب المناسک ، باب العمرۃ، حدیث نمبر: ۱۹۹۵)۔
(ماخوذ ماہنامہ حج میگزین ،ممبئی،جولائی ۲۰۱۷ء؁)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!