مضامین

مکروہ اور مُباح امور کابیان-۳

تانبے،پیتل اور کانسے کے برتنوں میں کھانا جائز ہے یانہیں؟

سوال(۱۴): کانسے(۴) کے برتن کا استعمال جائز ہے یانہیں؟(۱۵۳۴/۱۳۴۵ھ)

الجواب:درمختار میں ہے: ویکرہ الأ کل فی نحاس أوصفروالأ فضل الخزرف ( ۱) یعنی مکروہ ہے کھانا تابنے اورپیتل کے برتن میں اور بہتر مٹی کے برتن ہیں ، اور شامی میں نقل کیاہے کہ تانبا اورپیتل میں کھانا مکروہ اس وقت ہے کہ اس پر رانگ کی قلعی نہ ہو، ورنہ بعد قلعی کے مکروہ نہیں ہے(۲)پس اس سے معلوم ہوتاہے کہ کانسے کے برتن میں بھی کھانا مکروہ ہے لیکن جن برتنوں پر قلعی مراد آبادی ہووہ جائز ہے۔

سوال(۱۵): پھول (۳) ایک دھات ہے جس کے برتن بنتے ہیں، جس پر قلعی قطعی نہیں ہوسکتی وہ زیادہ تراہل ہنود میں استعمال ہوتے ہیں، ان میں کھانا جائز ہے یانہیں؟(۱۹۰۷/۱۳۴۵ھ)

الجواب: معلوم نہیں پھول کیا دھات ہے، اگر ازقسم پیتل ہے جس کو اکثر اہل ہنود استعمال کرتے ہیں توان میں کھانا بدون قلعی کے مکروہ ہے، اور اگر الومینیم (Aluminium) مراد ہے جو آج کل بہ کثرت رائج ہے ، اور اس پر قلعی نہیں ہوتی اور ضرورت بھی نہیں ہے ، اور ان کو ہندو، مسلمان دونوں استعمال کرتےہیں، تو ان میں کھانا درست ہے۔

مشرکین کے استعمالی برتنوں میں رکھاہوا گھی، دودھ اور دہی خریدنا اورکھانا

سوال:(۱۶) گروہ مشرکین جومردار جانور اور خنزیر بھی کھاتے ہیں، ان کے مستعمل ظروف میں دودھ نکالاجائے اور دہی جماکر گھی نکالاجائے اور ان کےمستعمل ظروف میں رکھا جائے، اس کا خریدنا کھانا جائز ہے یانہیں؟(۸۱۷/۳۳-۱۳۳۴ھ)

الجواب:جن برتنوں کاناپاک ہونا یقینی طورسے معلوم ہو یا بہ گمان غالب وہ ظروف ناپاک ہوں ان میں جو دودھ یا دہی وگھی رکھا جائے گا اس کا خریدنا اور کھانا درست نہیں ہے، اور اگر یہ معلوم نہ ہو کہ وہ برتن ناپاک تھے تو پھر فتوی یہ ہے کہ وہ دودھ وغیرہ پاک ہے، اس کا خریدنا اور کھانا درست ہے، احتیاط دوسرا امر ہے۔ فقط 

(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند، جلد ۱۶)۔۔۔جاری ہے۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!