Uncategorized

حرمین شریفین کے متبرک مقامات اور مشہوراعمال کے اصطلاحی نام-(7)

رمل : یہ طواف کے پہلےتین چکروں میں اکڑکر تیز چلنے کو کہاجاتا ہے۔
رمی : یہ جمرات پر کنکری مارنے کیلئے بولاجاتا ہے۔
روضۂ اطہر : حضور پاک ﷺ کی قبر مبارک کو روضۂ اطہر کہاجاتاہے اور اس کے چاروں طرف سے بنی ہوئی عمارت کو مُواجہہ شریف کہاجاتاہے۔
ریاض الجنّہ : حجرۂ عائشہؓ اور منبر رسولؐ کے درمیانی حصہ کو ریاض الجنہ کہا جاتاہے۔ حدیث شریف میں اس مقام کی بڑی فضیلت آئی ہے اور اس جگہ نماز پڑھنا اور دُعاء کرنا باعث قبولیت ہے۔
زم زم : بئیر زمزم کوکہاجاتاہے جس کا پانی بہت متبرک ہے ۔ پوری دنیا کے لوگ اس سے سیراب ہورہے ہیں۔ مگر اس کے پانی میں کمی نہیں آتی۔
سعی : صفا مروہ کے درمیان مخصوص طریقہ سے چلنا۔
شوط : بیت اللہ شریف کے طواف کے ہر چکر کو شوط کہاجاتاہے۔ اسی طرح صفا مروہ کے درمیان کے ہر چکر کوبھی شوط کہاجاتاہے۔
صفا : یہ بیت اللہ شریف کی مشرقی جنوبی جانب ایک چھوٹی سی پہاڑی ہے اوراسی سے سعی کی ابتداء کی جاتی ہے۔
صُفّہ : یہ مسجد نبویؐ کے اندر حجرۂ فاطمہؓ سےد و تین صف کے فاصلہ پر وہ مقام ہے جس میں اصحاب صُفّہ رہتے تھے۔ اور یہ مقام مسجد نبویؐ کے اندر بالکل نمایاں ہے۔ سطح زمین سے تقیباً ایک ہاتھ کی اونچائی پر ہے۔ یہاں پر نماز پڑھنا بھی باعث فضیلت ہے۔ یہاں بھیڑ کی وجہ سے نماز کی جگہ مشکل سے ملتی ہے۔
صدقہ : حج کے جرمانہ میں جب یہ کہاجاتا ہے کہ صدقہ واجب ہے۔توا س سے صدقۂ فطر(نصف صاع) مراد ہوتاہے۔
طواف : یہ بیت اللہ شریف کےچاروں طرف چکر لگانےکوکہاجاتاہے ۔ اور طواف کی سات(۷)قسمیں اس کتاب کے اندر اقسامِ طواف کے عنوان کے تحت میں دیکھ لی جائیں۔
عمرہ : حل یا میقات سے احرام باندھ کر بیت اللہ شریف کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کرکے حلق کرنے کو عمرہ کہاجاتاہے ۔ اس کی تفصیل عمرہ کے عنوان کے تحت دیکھ لی جائے۔
غارِ ثور : مکۃ المکرمہ کی جانب مغرب وجنوب میں تقریباً ۵کلومیٹ کے فاصلہ پر بہت بڑاپھیلا ہوا ایک اونچا پہاڑ ہے۔ اس پہاڑ کی چوٹی پر بڑےبڑے پتھروں کے ٹال مین ایک غار ہے جس میں حضور ﷺ نے حضرت صدیق اکبرؓ کو ساتھ لےکر ہجرت کے موقع پر مشرکین مکہ سے چھپ کر قیام فرمایا تھا۔ یہ غار آج بھی اسی پُرانی شکل میں ہے۔
غار حراء : یہ جبل نور کی چوٹی پر پتھروں کے ٹال کے اندر ایک غارہے جس میں نبوت سے پہلے حضور ﷺ کئی کئی روز گوشہ نشین ہوکر عبادت کرتے تھے۔ اور سب سے پہلی وحی اسی غار میں نازل ہوئی ہے۔ اور سورۂ اقراءاسی غار میں نازل ہوئی ہے۔ اور اس پہاڑ کی چوٹی بہت دور دور سے نظرآتی ہے۔
قرن : مکۃ المکرمہ سے اسی(۸۰) کلومیٹر کے فاصلہ پر نجد کی طرف ایک پہاء ہے۔ یہ نجد کی طرف سے آنے والوںکیلئےمیقات ہے اس کو قرن المنازل بھی کہاجاتاہے۔
قِران : یہ حج کی اس قسم کو کہاجاتاہے جس میں میقات سے حج اورعمرہ دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھ کر آتے ہیں۔ پھر یوم النحر تک احرام ہی کی حالت میں باقی رہتےہیں۔
قارن : حج قران کرنے والے کو کہاجاتاہے۔
قصر : احرام کھولتے وقت سَر کےبال کٹوانے کو کہاجاتاہے۔
کعبہ : یہ مسجد حرام کے درمیان میں وہ مقدس عمارت ہے جس کوحضرت ابراہیم علیہ السلام نے تعمیر کیاتھا۔ اسی کی زیارت کیلئے دنیا کے کونے کونے سے لوگ حاضر ہوتے ہیں۔
مفرِد : یہ اس حاجی کو کہاجاتاہے جومیقات سے صرف حج کااحرام باندھ کر آتاہے۔ (المسالک فی المناسک۱/۳۶۹)
مُحرم : احرام باندھنے والے کو کہاجاتاہے۔
[از کتاب انوارمناسک۔مؤلف حضرت مفتی شبیر احمد صاحب قاسمی ]
۔۔۔۔۔۔(جاری ہے۔۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ)۔۔۔۔۔۔۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button