احکامات حج-(فضائل ومسائل)-۲۲

مسائل آب زمزم
صلوٰۃ طواف کے بعد آب زمزم پینا
صلوٰہ طواف سے فارغ ہوکر کعبۃ اللہ کی چوکھٹ کو بوسہ دے، اورملتزم پر آکر چمٹ کر دعاء کرے۔ اور دیوارکعبہ پر اپنا رخسار لگاکر مُرادیں مانگے۔ اس کے بعدزمزم پر پہنچ کر خوب سیراب ہوکر پی لے۔ اور اپنے بدن پر بھی ڈال لے۔ (مستفاد عنایہ مع فتح القدیر ۲/۵۰۵، ھٰکذا ہندیہ ۱/۲۲۶)
آب زمزم سے کفن دھونا
اکثر حجاج کرام تبرک کی نیت سے کفن کے کپڑے آب زمزم سے دھوتے ہیں۔ تو اس میں کسی قسم کی قباحت نہیں، بلکہ باعث خیروبرکت ہے۔
(مستاد فتاویٰ رحیمیہ ۱/۳۶۲، فتاویٰ محمودیہ ۷/۲۳۲، روح البیان)
آب زمزم سے وضو ء وغسل
آب زمزم سے وضو ء وغسل کرنا بلاکراہت جائز اور درست ہے۔ اور یہ خلاف ادب بھی نہیں ہے۔ حضورﷺ سے یہی عمل ثابت ہے۔ اور صحابہ اور ائمہ مجتہدین سے بھی یہی ثابت ہے۔(مستاد اوجزالمسالک ۳/۶۲۶،غنیہ ۷۵، معلم الحجاج ۳۰۳، فتاویٰ رحیمیہ ۵/۲۲۳)
آب زمزم کھڑے ہوکر پینا
آب زمزم پینے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ قبلہ کی طرف کھڑے ہوکر پیاجائے۔ حضور ﷺ نےبھی کھڑے ہوکر نوش فرمایا تھا۔ (نسائی شریف کتاب الحج۲/۳۹) اورپیتے وقت اپنی مُرادوں پر دھیان کیاجائے۔
آب زمزم اپنے وطن لے جانا
اللہ تعالیٰ نے بئر زمزم میں ایسی برکت ودیعت رکھی ہے جس کی انتہاء نہیں ہے۔اس پانی میں اللہ تعالیٰ نے غذائیت رکھی ہے۔ اور اس پانی کو اللہ تعالیٰ نے ہر بیماری کے لئے شفاء بنایا ہے۔ اس لئے اس سے برکت حاصل کرنے کےلئے وطن لے جانا اور اعزاء واحباب کو اس سے انتفاع کاموقع دینا مسنون ومستحب ہے۔ لہٰذا جتنا ممکن ہوآب زمزم وطن لیتاجائے۔ حضور ﷺ آب زمزم ساتھ لے گئے تھے، اورحضرت حسن ؓ و حسین ؓ کی آب زمزم سے تحنیک فرمائی ہے۔ اور بیماروں کوپلایاہے۔ (مستفاد شامی کراچی ۲/۶۲۵، ترمذی /۱۹۰ لامع الدراری ۲/۳۰۶)
۔ (ماخوذ از کتاب انوارمناسک)



