ناندیڑ

شادی کے کارڈ پر دولہا دلہن کی تاریخ پیدائش درج کرنا ہوگا

ناندیڑ:26؍جون:مہاراشٹر میں کم عمری کی شادیوں کے چونکا دینے والے اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد، ریاستی حکومت نے اس فرسودہ رسم کو روکنے کے لیے ایک انتہائی اہم قدم اٹھانے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ مہاراشٹر اسٹیٹ کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس (مہاراشٹر راجیہ بال حق تحفظ کمیشن) کی سفارش کے مطابق، اب شادی کے کارڈ پر دولہا اور دلہن کے نام کے آگے ان کی سرکاری تاریخِ پیدائش درج کرنا لازمی قرار دیا جائے گا۔ راجستھان حکومت کی جانب سے لیے گئے ایسے ہی ایک فیصلے کی طرز پر اب مہاراشٹر حکومت بھی جلد ہی نیا اصول نافذ کرنے جا رہی ہے، اور سرکاری سطح پر اس کا حتمی مسودہ تیار کیا جا رہا ہے۔
حکومت کی جانب سے اسمبلی میں پیش کیے گئے اعداد و شمار سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ریاست کے کئی اضلاع میں کم عمری کی شادیوں (بال وواہ) کی شرح اب بھی تشویشناک ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق، پربھنی ضلع میں سب سے زیادہ یعنی 48 فیصد لڑکیوں کی شادیاں کم عمری میں ہوئی ہیں۔ اس کے بعد بیڑ میں 43.7 فیصد، دھولے میں 40.5 فیصد اور سولاپور ضلع میں 40.3 فیصد لڑکیوں کی شادیاں 18 سال سے کم عمر میں ہونے کی چونکا دینے والی حقیقت سامنے آئی ہے۔ اس کے علاوہ ریاست کے دیگر کئی اضلاع کے اعداد و شمار نے بھی انتظامیہ کی نیندیں اڑا دی ہیں۔
محکمہ بہبودیٔ خواتین و اطفال نے تسلیم کیا ہے کہ کم عمری میں ہونے والی ان شادیوں کے لڑکیوں کی صحت اور تعلیم پر انتہائی سنگین اور مضر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ کم عمری کی شادی سے نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے، بلکہ نابالغ لڑکیوں کی تعلیم بھی ادھوری رہ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ کم عمری میں زچگی کا بوجھ پڑنے سے ان کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے راجستھان کی طرز پر شادی کے کارڈ پر تاریخِ پیدائش چھاپنے کو لازمی قرار دینے کی تجویز کا گہرائی سے مطالعہ شروع کر دیا ہے، اور جلد ہی اس کا باقاعدہ اعلان کیے جانے کا امکان ہے۔
اس وقت ریاست میں کم عمری کی شادیوں کو روکنے کے لیے مختلف قوانین، ضوابط اور بیداری کی خصوصی مہمیں چلائی جا رہی ہیں۔ تاہم، کم عمری کی شادی محض قانون کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ معاشرے میں گہرائی تک جڑیں مضبوط کر چکی ایک بری سماجی رسم ہے۔ اس لیے سماجی شعبے کے ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح کے سخت قوانین کے نفاذ کے ساتھ ساتھ گاؤں کی سطح پر بڑے پیمانے پر بیداری مہم چلانے، والدین کی ذہن سازی کرنے اور لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم کی زیادہ سے زیادہ حوصلہ افزائی کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!