ناندیڑ

دارالعلوم محمدیہ حمایت نگر کے طالب علم نے ایک نشست میں مکمل قرآن سنایا

حمایت نگر: (پریس ریلیز)یکم؍جنوری۲۰۲۶ء : دارالعلوم محمدیہ حمایت نگر میں حفظ قرآن کریم کے شعبہ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے درجہ حفظ "ج” کے طالب علم محمد روحان مومن امباجوگائی نے ۳۱ ؍دسمبر ۲۰۲۵ء کو ایک نشست میں مکمل قرآن مجید حفظ کیا۔
محمد روحان مومن نے یہ سعادت اپنے استاذ حافظ محمد صاحب کی نگرانی میں حاصل کی۔ اس موقع پر ان کے والدین اور اساتذہ نے انہیں مبارکباد دی۔
دارالعلوم محمدیہ حمایت نگر میں امسال ۳۱ طلباء نے حفظ قرآن کی سعادت حاصل کررہے ہیں جو ایک قابل ستائش کارنامہ ہے۔ ان طلباء کی کامیابی پر ادارے کے ذمہ داران،اساتذہ اور طلباء نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں مبارکباد دی۔
ختم قرآن مجید کے موقع پر بعد نماز ظہر ایک مختصر نشست حفظ "ج” میں منعقد ہوئی اور تکمیل قرآن مجید کے بعد صدر المدرسین مولانا منیب الدین امجد صاحب ،صدر القراء حافظ و قاری محمد یونس صاحب سلیمانی اور مولانا عبدالعزیز صاحب اشاعتی صدر شعبہ دینیات کے علاوہ تمام اساتذہ شریک تھے۔مدعو خصوصی حافظ شرف الدین صاحب مظاہری نے بھی سماعت قرآن مجید میں شرکت کی اور دعاؤں سے نوازا۔
ادارہ کے کارگزار مہتمم جناب عبدالصمد اسلم صاحب نے بھی نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور اساتذہ کی محنتوں کو سراہا۔
دارالعلوم محمدیہ حمایت نگر کے استاذ مفتی محمد اکرم خان قاسمی نے کہا کہ حفظ قرآن کی یہ کامیابی طلباء کی محنت اور اساتذہ کی توجہ کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیم اور حفظ کو فروغ دینا ادارے کا اولین مقصد ہے۔
قرآن حفظ کرنے والے کو دنیا اور آخرت میں جو فوائد اور برکتیں حاصل ہوتی ہیں وہ ناقابل بیان ہیں۔
دنیا میں عزت و شرف: حفظ قرآن کرنے والا معاشرے میں عزت اور شرف حاصل کرتا ہے۔ لوگ اسے عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس کی قدر کرتے ہیں۔
آخرت میں نجات: قیامت کے دن حفظ قرآن کرنے والا اپنے اہل خانہ کے لیے شفاعت کرے گا اور اللہ کی رضا اور جنت کا مستحق ہو گا۔
قلب کی روشنی: حفظ قرآن سے دل میں روشنی اور ہدایت آتی ہے۔ یہ انسان کو غلط راستوں سے بچاتا ہے اور صحیح راستے پر چلنے کی توفیق دیتا ہے۔
علم و حکمت: حفظ قرآن کرنے والا علم و حکمت کا مالک بنتا ہے۔ اسے دین و دنیا کے معاملات میں سمجھ اور بصیرت حاصل ہوتی ہے۔
دعا کی قبولیت: حفظ قرآن کرنے والوں کی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ ان کے لیے آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اور اللہ کی خاص رحمت شامل حال ہوتی ہے۔
شیطان سے حفاظت: حفظ قرآن کرنے والا شیطان کے شر سے محفوظ رہتا ہے۔ شیطان اس کے قریب آنے کی جرات نہیں کر سکتا۔
برے اعمال سے بچاؤ: حفظ قرآن کرنے والا برے اعمال سے بچتا ہے اور نیک اعمال کی طرف مائل رہتا ہے۔ اس کی زندگی میں برکت اور خیر و عافیت ہوتی ہے۔
والدین کی مغفرت: والدین کے لیے بھی مغفرت کا ذریعہ بنتا ہے۔ ان کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور ان کے درجات بلند ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن حفظ کرنے اور اس کی برکات سے نوازنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button