مضامین

مکروہ اور مُباح امور کابیان-۱۰

بھنگی وغیرہ نے جس چیز کو ہاتھ لگایا ہے اس کا کیا حکم ہے؟
سوال:(۵۵) مشرکین مردار خوار بھنگی و چمار وغیرہ کے ہاتھ کی ترچیز کھانا مثل رس وغیرہ کے اور کولہو میں ان لوگوں سے مٹھائی بنوانا درست ہے یا نہیں؟ ان کاجھوٹاکھانا جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر ان کے ہاتھ سے پانی نکلواکروضو کیاجائے تو طہارت کامل ہوجائے گی یا نہیں؟ [ اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ الآیۃ] میں نجاست ظاہری مراد ہے یاایمانی ؟(۷۵۴/۳۳-۱۳۳۴ھ)
الجواب: قال فی الدرّالمختار : فسؤرآدمی مطلقًا ولوجنبًا أو کافرًا الخ طاہر الفم الخ طاہر(۱) اس سے معلوم ہوا کہ کافر کا جھوٹا پاک ہے جب کہ اس نے منہ پاک کرلیا ہو مثلاً اگر نجاست کھائی ہوتو منہ کو صاف کرلیا ہو، دھولیا ہو، اور جب کہ ان کا جھوٹا پاک ہے تو ان کے ہاتھ کاپانی اور رس اس حالت میں پینا درست ہے اور اس پانی سے وضو درست ہے، الحاصل قاعدہ فقہیہ: الیقین لایزول بالشّک(۲) پر عمل کرے اور توہمات کوچھوڑے۔ [ اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ الآیۃ] (سورۂ توبہ ، آیت :۲۸) میں نجاست سے مراد نجاست باطنی اور عقیدہ کی خرابی اورناپاکی مراد ہے۔ فقط
سوال:(۵۶) آیا کافر نجس ہے یا طاہر ہے؟ اگر نجس ہے تو اسکے ہاتھ کاپکایا ہوا یا ہاتھ لگایا ہوا پاک ہے یا ناپاک؟ اگر پاک ہے تو کیوں کر پاک ہے؟ اور اس کے ہاتھ کی چیز پکائی ہوئی کا کھانا درست ہے یانہ ؟(۷۰۰/۲۹-۱۳۳۰ھ)
الجواب: کافر بہ اعتبار عقائد باطنیہ کے نجس ہے، جیسا کہ فرمایا اللہ تعالیٰ نے [ اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ الآیۃ] (سورۂ توبہ ، آیت: ۲۸) قال فی الشّامی: فالمراد بقولہٖ تعالیٰ: [ اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ الآیۃ] النّجاسۃ فی اعتقاد ھم إلخ(۳) پس جب کہ معلوم ومحقق ہوا کہ نجاست کافر کی بہ اعتبار اعتقاد کے ہے نہ بہ اعتبار ظاہر کے، تواگر اس کے ہاتھ پرکوئی نجاست ظاہری نہ ہوتو اس کے ہاتھ کا پکایاہوا ہاتھ لگایاہوا کھانا پاک ہے اور درست ہے، آنحضرت ﷺ نے بھی کفار کے ہاتھ کاپکایاہواکھانا تناول فرمایا ہے۔ (۱)فقط
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند، جلد نمبر۱۶)۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button