رشوت کا لینا اور دینا دونوں حرام ہیں-۷

اپنی لڑکی کے نکاح میں داماد یا اُس کے ولی سے روپیہ لینا
سوال:(۱۳۸۹)کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ کسی نے اپنی لڑکی کے نکاح میں داماد کے ولی سے اس شرط پر بات چیت کی کہ اگرتم مجھے بیس تیس روپیہ دوتو میں اپنی بیٹی کانکاح تمہارے بیٹے سے کردوں گا ورنہ نہیں ، پس اس صورت میں یہ روپیہ لےکراپنے صرف میں لانا جائز ہے یانہیں؟(۳۰۵/۲۹-۱۳۳۰ھ)
الجواب: واللہ ملھم للحق والصواب:جواب یہ ہے کہ باپ کااپنے دختر کے نکاح میں داماد کے والی سے روپیہ لینا اور بدون لینے روپیہ کے نکاح نہ کرانا جیسا کہ مندرجۂ سوال ہے، اور اس روپیہ کو اپنے صرف میںلانادرست نہیںہے، بلکہ حرام ہے ، اسلیے کہ یہ لینا ولی کا رشوت ہے اوررشوت کا لینا اور دینا دونوں حرام ہے، اور جو روپیہ رشوۃً لیتاہے وہ مرتشی کے قبضہ کرنے سے اس کی ملکیت میں نہیں آجاتا، بلکہ راشی ہی اس کا مالک رہتاہے، پس مرتشی پرلازم ہے کہ اس روپیہ کو واپس کردے اور راشی اس کو واپس لےلے۔ کما فی الدر المختار:أخذَ أهلُ المرأةِ شيئًا عندَ التسليمِ، فلِلزَّوجِ أن يَستردَّهُ لأنَّهُ رِشوَةٌ.وذُكِرَ في الشامي:قولُه: (عندَ التسليمِ) أي بأنْ أَبَى أن يُسَلِّمَها أَخوها أو نَحوُهُ حتّى يَأخُذَ شيئًا، وكذلك لو أَبَى أن يُزَوِّجَها إلّا بشيءٍ، فلِلزَّوجِ الاستِردادُ قائمًا أو هالِكًا لأنَّهُ رِشوَةٌ.(۱)(۲/۵۰۱)
اورنیز شامی میں ہے: الرِّشْوَةُ يَجِبُ رَدُّهَا وَلَا تُمْلَكُ(۲)(۴/۴۷۱) اور فتاویٰ خیریہ میں ہے:سُئِلَ في امرأةٍ أبى أقاربُها أن يُزَوِّجُوها إلّا أن يدفعَ لهم الزوجُ كذا، فوعدهم به، هل يَلْزَمُ أم لا؟أجاب: لا يَلْزَمُ، ولو دَفَعَ فله أن يأخُذَه قائمًا أو هالِكًا، لأنّه رِشْوَةٌ، كما في البزّازيّة.(۳)(1/۲۸) اور طحطاوی میں ہے: حرام مال سے ہے ہر وہ مال کہ عقد نکاح کے درمیان ہوکر کچھ مال لیوے ، اور جامع ترمذی میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے: قال: لعن رسول اللہ ﷺ الراشی والمرتشی(۱)
سوال: (۱۳۹۰) قبل نکاح کے دولہا سے لڑکی کے والد کوروپیہ لینا درست ہے یانہیں؟
(۱۱۶۰/۳۲-۱۳۳۳ھ)
الجواب: یہ روپیہ لینا درست نہیں ہے، یہ رشوت ہے اور حرام ہے۔فقط واللہ تعالیٰ اعلم
۔۔۔[فتاویٰ دارالعلوم دیوبند،جلد نمبر۱۷]۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ



