مضامین

حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے قبول اسلام کے واقعات-۷

اسلام سلمان بن اسلام رضی اللہ عنہ
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے اپنے دل میں کہا خدا کی قسم یہ ان تین علامتوں میں سے ایک ہے میں واپس ہوگیا اور پھر کچھ جمع کرنا شروع کردیا۔ جب آپ مدینہ تشریف لائے تو میں پھر حاضرخدمت ہوا اورعرض کیاکہ میرا دل چاہتاہے کہ آپ کی خدمت میں کچھ پیش کروں۔ صدقہ تو آپ قبول نہیں فرماتے۔ یہ ہدیہ لے کر حاضر ہواہوں ، آپ نے قبول فرمایا اور خود بھی اس میں سے کھایا اور صحابہؓکوبھی کھلایا۔ میں نے اپنے دل میں کہایہ دوسری علامت ہے۔
میں واپس آگیا اور دوچار روز کے بعد پھر آپ کی خدمت میں حاضرہوا۔ آپ اس وقت ایک جنازےکے ہمراہ بقیع میں تشریف لائے تھے اور صحابہ کرام کی ایک جماعت آپ کے ہمراہ تھی۔ آپ درمیان میں تشریف فرماتھے میں نے سلام کیا اور سامنے سے اٹھ کر پیچھے آ بیٹھا تاکہ مہر نبوت دیکھوں۔ آپ سمجھ گئے اور پشت مبارک سے چادر اٹھادیا۔ میں نے دیکھتے ہی پہچان لیا اور اٹھ کر مہر نبوت کو بوسہ دیا اور روپڑا ، آپ نے ارشاد فرمایا سامنے آؤ ، میں سامنے آیا اور جس طرح تجھ سے اے ابن عباس میں نے اپنا یہ واقعہ بیان کیا۔ اسی طرح میں نے یہ تمام واقعہ تفصیل کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے سامنے آپ کے صحابہ کی مجلس میںبیان کیا اور اسی وقت مشرف باسلام ہوا۔ آپ بہت مسرور ہوئے ۔ اُس کے بعد اپنے آقا کی خدمت میں مشغول ہوگیا اسی وجہ سے میں غزوہ بدر اور احد میں شریک نہ ہوسکا۔ آپ نے ارشاد فرمایا اے سلمان اپنے آقا سے کتابت کرلو۔ سلمان نے اپنے آقا سے کہا۔ آقا نے یہ جواب دیا کہ اگر تم چالیس اوقیہ سونا ادا کردو اور تین سودرخت کھجور کے لگادوجب وہ بارآور ہوجائیں تو تم آزاد ہو۔ سلیمان نے آپ کے ارشاد سے قبول کیا اور آپ نے لوگوں کوترغیب دی کہ سلمان کی کھجور کے پودوں سے امداد کریں۔ چنانچہ کسی نے تیس پودوں سے اور کسی نے بیس پودوں سے اور کسی نے پندرہ سے اور کسی نے دس پودوں سے امداد کی۔ جب پودے جمع ہوگئے تو مجھ سے فرمایا اے سلمان ان کے لیے گڑھے تیار کرو ،جب گڑھے تیار ہوگئے تو خود دست مبارک سے ان تمام پودوں کو لگایا اور برکت کی دعافرمائی۔ ایک سال گذرنے نہ پایا کہ سب کو پھل آگیا اور کوئی پودا ایسا نہ رہا کہ جو خشک ہوگیاہو۔ سب کے سب سرسبز اور شاداب ہوگئے اور سب کو پھل آگیا۔ درختوں کا قرض تو ادا ہوگیا صرف دراہم باقی رہ گئے۔ ایک روز ایک شخص آپ کے پاس ایک بیضہ کی مقدار سونا لے کر آیا آپ نے فرمایا وہ مسکین مکاتب یعنی سلمان فارسی کہاں ہے اس کو بلاؤ۔ میں حاضر ہوا تو آپ نے وہ بیضہ کی مقدار سونا عطا فرمایا اور یہ ارشاد فرمایا کہ اس کو لےجاؤ اللہ تمہارا قرضہ ادا فرمائے گا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ سونا بہت تھوڑا ہے۔ اس سے میراقرض کہاں ادا ہوگا۔ آپ نے فرمایا جاؤ اللہ اسی سے تمہارا قرضہ ادا کردے گا۔ چنانچہ میں اس کو تلاتو پورا چالیس اوقیہ تھا میراکُل قرض ادا ہوگیااور غلامی سے آزاد ہوا اور آپ کے ساتھ غزوۂ خندق میں شریک ہوا۔ اس کے بعد تمام غزوات میں آپ کے ہمرکاب رہا۔(۱) سیرۃ ابن ہشام ،صفحہ ۷۳، جلد۱۔ [سیرۃ المصطفیٰﷺ،جلد ۱]

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!