مضامین

میرا دل تڑپ رہا ہے، میرا جل رہا ہے سینہ—کہ دوا وہیں ملے گی، مجھے لے چلو مدینہ (6)

مدینہ منورہ کی فضیلت
مسجدِ نبویؐ میں چالیس نمازیں
مسجد نبویؐ میں ایک نماز پڑھنا بروایت حضرت انسؓ دوسری مسجدوں میں پچاس ہزار نمازوں کے برابر ہے۔ (ابن ماجہ شریف ؍۱۰۳) نیز مسجد نبویؐ میں چالیس ۴۰ نمازیں بلاناغہ پڑھنا عظیم ترین فضیلت کی بات ہے۔
اور عذاب قبر اور نفاق سے برأت اور جہنم سے خلاصی نصیب ہوتی ہے۔
(مسند احمد ابن حنبل۲/۱۵۵، حدیث ۱۲۶۱۱،مستفاد ایضاح المسائل/۱۲۸، فتاویٰ محمودیہ ۳/۱۸۶، فتاویٰ رحیمیہ ۵/۲۲۲)
مسجدقباء کی زیارت اور نماز
مسجدقباء وہ مسجد ہے جس کی تعمیر میں سرورِ کائنات ﷺ نے اپنے دست مبارک سے پتھر رکھاہے۔ اور ہجرت کے بعد سب سے پہلے اس مسجد کی تعمیر ہوئی ہے۔ اور یہی وہ مسجد ہے جس کے بارے میں قرآن کریم میں لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى فرمایاہے۔ اب یہ مسجد بہت بڑی بن گئی ہے۔ سڑک سے متصل کھلے میدان میں ہے۔ اور یہ مسجد مسجد نبوی سے تقریباً تین چار کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ اس مسجد میں ایک نماز پڑھنے سے ایک عمرہ کا ثواب ملتاہے۔ (ابن ماجہ شریف /۱۰۳، بخاری شریف۱/۱۵۹)
حضور ﷺ ہفتہ کے دن مسجد قباء تشریف لے جایا کرتے تھے۔ اس لئے کسی کو ہفتہ کے دن کاموقع ملے تو ہفتہ ہی کو مسجد قباء میں حاضری دینے کی کوشش کرے۔ اور قباء ہی کے علاقہ میں براریس ہے ، یعنی وہ کنواں ہے جس میں سرکارﷺ کی انگوٹھی سیّدنا حضرت عثمان ؓ کے ہاتھ سے گرگئی تھی پھر نہیں ملی تھی۔ (مسلم شریف ۱/۴۴۸، مستفاد فتح القدیر ۲/۱۸۳)
مسجدقبلتین ومساجد ستّہ
مسجدقبلتین ومساجد ستّہ کا ذکر اصطلاحی الفاظ کے تحت اس کتاب کے شروع میں گزرچکا ہے۔ (وہاں سے ملاحظہ فرمائیے)
مسجدجمعہ
مسجدنبوی سےقباء کو جاتے وقت راستہ میں مشرقی جانب وادئ زانونا میں حضور ﷺ کے زمانہ میں قبیلہ بنو سالم رہتاتھا۔ اور حضور ﷺ کے زمانہ میں اس قبیلہ میں یہ مسجد بن گئی تھی۔ اور حضور ﷺنے سب سے پہلا جمعہ اسی مسجد میں ادا فرمایاتھا، اس لئے اسکو مسجد جمعہ کہاجاتاہے ۔ اس جگہ بھی دعاء قبول ہوتی ہے۔لہٰذا اس مسجد میں دورکعت نماز پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگی جائیں۔
مسجداجابہ
یہ وہ مقام ہے جہاں پر حضور ﷺ نے بہت لمبی نماز پڑھ کر تین دعائیں کی تھیں۔ ایک دعاء یہ کی تھی کہ اے اللہ میری امت کو عام قحط سالی سے ہلاک نہ فرما۔ دوسری دعاء یہ فرمائی تھی کہ اے اللہ میری امت کو اغیار کے تسلط سے ناکام اور ہلاک نہ فرما۔یہ دونوں دعائیں قبول ہوگئی تھیں۔ تیسری دعاء یہ فرمائی تھی اے اللہ میری امت کو آپس کی خانہ جنگی اور آپس کی خوں ریزی سے حفاظت فرما۔ یہ دُعاء قبول نہیں ہوئی تھی۔ (ترمذی شریف ۲/۴۰ کتاب الفتن)
اس مقام پر اس وقت ایک مسجد ہے اسکو مسجد الاجابہ کہتے ہیں۔ یہ مسجد جنت البقیع سے جانب شمال میں بستان سمان کے پاس ہے۔ اس میں جاکر بھی دو رکعت نماز پڑھ کر دعاء کرنا مستحب ہے۔
مسجدابی بن کعبؓ
جنتُ البقیع سے متصل حضرت ابی بن کعبؓ کا مکان تھا۔ حضور ﷺ نے بکثرت وہاں تشریف لے جاکر نماز پڑھ کر دعاء فرمائی ہے۔ اس جگہ ایک مسجد بنی ہوئی ہے جو مسجد ابی بن کعب سے موسوم ہے، وہاں بھی دعاء قبول ہوتی ہے۔ اس وقت یہ مسجد جنت البقیع کے احاطہ کے اندر آگئی ہے۔
مدینہ طیبہ سے واپسی کے آداب
جب مدینۃ المنورہ سے واپسی کا ارادہ ہوتوریاض الجنۃ میں یا مسجد نبویؐ کے کسی بھی حصہ میں دورکعت نفل پڑھ کر روضۂ اطہر علیٰ صاحبہا الف الف صلوٰۃ پر حاضر ہوکر پہلے کی طرح درود وسلام پڑھے۔ پھر اللہ تعالیٰ سے دُعاء کرے۔ اے اللہ میرے سفر کو آسان فرمادے اور مجھے سلامتی و عافیت کے ساتھ اپنے اہل وعیال میں پہنچادے۔ اور مجھ کو دونوں جہان میں آفتوں سے محفوظ فرما۔ اور میراحج اورمیری زیارت کو شرف قبولیت سے ہمکنار فرما۔ اورمجھے مدینۃ المنورہ کی دوبارہ حاضری نصیب فرما۔ اوریہ میرا آخری سفرنہ بنا۔ اس کے بعد اگر یاد ہوں تو ذیل میں آنے والی دُعاء پڑھے۔ (مستفاد معلم الحجاج ۳۲۶)
مدینہ منورہ سے واپسی کی دُعاء
اگریاد ہوتو روضۂ اطہر کے سامنے ذیل کی دُعاء پڑھے۔
اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ هَذَا آخِرَ الْعَهْدِ بِنَبِيِّكَ، وَمَسْجِدِهِ، وَحَرَمِهِ، وَيَسِّرْ لِي الْعَوْدَ إِلَيْهِ، وَالْعُكُوفَ لَدَيْهِ، وَارْزُقْنِي الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَارْدُدْنَا إِلَى أَهْلِنَا سَالِمِينَ غَانِمِينَ، آمِينَ، بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ.   (غنیم جدید /۳۸۸، قدیم /۲۱۰ ہکذا قضیخاں ۱/۳۱۹)
اے میرے اللہ ، آپ اپنے نبی ﷺ اور مسجد نبویؐ اور حرم نبوی ﷺ کی اس زیارت کو آخری زیارت نہ بنا۔ بلکہ میرے لئے دوبارہ آنا اور ٹھہرنا آسان فرما اور میرے لئے دنیا وآخرت میں سلامتی اور عافیت نصیب فرما ۔ اور مجھے اپنےگھر عافیت اور سلامتی اور اجروثواب کے ساتھ پہنچادے۔ اے ارحم الراحمین اپنی رحمت سے مالامال فرما۔
اس کے بعد نہایت حسرت اور صدمہ کے ساتھ دیارِ حبیب سے رخصت ہوجائے۔[از کتاب انوارمناسک]
۔۔۔۔۔۔(جاری ہے۔۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ)۔۔۔۔۔۔۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button