میرا دل تڑپ رہا ہے، میرا جل رہا ہے سینہ—کہ دوا وہیں ملے گی، مجھے لے چلو مدینہ (5)

مدینہ منورہ کی فضیلت
سیّد الشہداء سیّدنا حضرت حمزہؓ اور شہداءِ اُحد کی زیارت
مسجد نبویؐ سے تقریباً ۵،۶کلومیٹر کے فاصلہ پر وہ مقدس اور مشہور پہاڑ واقع ہے جس کے بارے میں سرکارِ دوعالم ﷺ نے باربار یہ ارشاد فرمایا ہے۔
أُحُدٌ جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّه (ترمذی ۲/۲۳۰)
اُحد وہ پہاڑ ہے جو ہم سے محبت رکھتاہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔
اور یہی وہ پہاڑ ہے جس پر ۳ھ میں وہ مشہور واقعہ پیش آیا تھا جس کو جنگ اُحد کہتے ہیں۔ اسی غزوہ میں سیدنا حضرت حمزہ ؓ کا کلیجہ ہندہ نے چاب لیاتھا، مگر ہندہ نے بعد میں اسلام قبول کرلیا۔ اور اسی غزوہ میں ستر(۷۰) نفوس قدسیہ نے جام شہادت پی لیاتھا۔ اسی غزوہ میں سرور کائنات ﷺ کے دندانِ مبارک شہید ہوگئے تھے۔ اسی غزوہ میں سرمبارک پر چوٹ آئی تھی۔ اسی غزوہ میں جسد اطہر میں جگہ جگہ تیر اور نیزوں کے نشانات لگ گئے تھے۔ پہاڑ کے دامن میں پتھر کی وہ چٹان آج بھی نمایاں ہے جس پر حضور ﷺ ،سیدنا طلحہ ؓ کے مونڈھے پر قدم مبارک رکھ کر چڑھے تھے۔ اور چڑھ کر کفار کا اور صحابہ کی حالت کا معائنہ فرمایاتھا۔
اور اسی اُحد پہاڑ کے دامن میں ایک ہموار میدان میں سیدنا الشہداء حضرت حمزہ ؓ اور باقی شہداءِ اُحد کی قبریں ہیں۔ اور اس قبرستان کوچہار دیواری سے گھیر دیاگیاہے۔ اور جالی دار دیواروں سے قبریں اچھی طرح نظرآجاتی ہیں۔
مدینتہُ المنورہ کے قیام کے دوران شہداء اُحد کی زیارت بھی بڑی خوش نصیبی اور بڑا کارِ ثواب اور مستحب ہے۔ (مستفاد فتح القدیر۳/۱۸۳، فتح القدیر زکریا۳/۱۷۲،)
جبل اُحد کے درخت کی فضیلت
حضورﷺ نے فرمایا کہ جب تم اُحد پہاڑ پر پہنچو تو اس کے درخت میں کچھ کھالو۔ اگرچہ اس کے درخت خاردار ہی کیوں نہ ہوں۔ لہٰذا جس کو وہاں جانے کاموقع میسر ہو اُس کا وہاں کی چیزوں میں سے کچھ کھالینا مستحب ہے۔ ۔۔۔۔[از کتاب انوارمناسک]
۔۔۔(جاری ہے۔۔۔۔۔ ان شاء اللہ تعالیٰ)



